اللہ کے حبیب شہِ انبیاء کی شان

اللہ کے حبیب شہِ انبیاء کی شان

ارفع ہر اک فکر سے ہے مصطفیٰ شان

 

حق نے بلایا اس لیے اسریٰ کی شب انہیں

قدموں سے آپ کے بڑھے عرشِ عُلیٰ کی شان

 

ہر لمحہ آسماں سے فرشتوں کے کارواں

آتے ہیں دیکھنے درِ خیرالوریٰ کی شان

 

صدیق بن گیا، کوئی فاروق بن گیا

پہچان لی ہے جس نے شہِ دوسرا کی شان

 

شمس و قمر کی روشنی جس کے نثار ہے

وہ حضور آپ کے ہی نقشِ پا کی شان

 

اقصیٰ میں انبیاء کے بنے ہیں امام آپ

ربّ نے حضور آپ کو ایسی عطا کی شان

 

توصیف جن کی خود کرے وہ ربّ کائنات

پھر کیا بیاں کسی سے ہو شاہِ ہدیٰ کی شان

 

دیکھا تھا جس نے آپ کو سترّ ہزار بار

روح الامیں سے پوچھئے نورِ خدا کی شان

 

عشقِ رسولِ پاک میں مٹنے سے دیکھئے

احمد خیال بڑھ گئی احمد رضا کی شان

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات