اِس کے ہر ذرّے سے پیمان دوبارہ کر لو

اِس کے ہر ذرّے سے پیمان دوبارہ کر لو

اپنی مٹی کو مقدر کا ستارہ کر لو

 

برف سی جمنے لگی دل پہ نئے موسم کی

ہجر کی آنچ کو بھڑکا کے شرارہ کر لو

 

صحن بھر چاندنی کب راہ نوردوں کا نصیب

آنکھ میں عکس قمر بھر کے گزارہ کر لو

 

تلخیاں ہیں نئے منظر میں ہماری اپنی

خوش نظر بن کے یہ آئینہ گوارہ کر لو

 

ہجرتوں میں تو مرے یار یہی ہوتا ہے

خواب بیچو یا محبت میں خسارہ کر لو

 

اب تو دشمن بھی تمہارا ہی سمجھتے ہیں ہمیں

اعتبار اب تو محبت میں ہمارا کر لو

 

اس کے سائے میں امانت ہے کئی نسلوں کی

گرتی دیوار کو مضبوط خدارا کر لو

 

پار کروا کے مجھے اُس نے کہا دریا پار

ڈوبنے والا ہوں میں مجھ سے کنارہ کر لو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے
ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے

اشتہارات