اردوئے معلیٰ

اک بات کہہ رہا ہوں لہجے بدل بدل کے

اک بات کہہ رہا ہوں لہجے بدل بدل کے

اک شعر ہو رہا ہے مصرعے بدل بدل کے

 

پُرپیچ راستہ ہے، سامان ہلکا رکھنا

تھک جاؤ گے وگرنہ کاندھے بدل بدل کے

 

تاریکیوں سے گذرا میں روشنی کی خاطر

پہنچا تری ڈگر پر رستے بدل بدل کے

 

تعبیر کیا ملے گی اُن کو بھلا سحر سے

گزری ہے رات جن کی سپنے بدل بدل کے

 

آئینۂ طلسم ایوان اختیارات

اک شخص دیکھتا ہے چہرے بدل بدل کے

 

تاریخ بھی ہماری لکھی ظہیرؔ اُسی نے

لوگوں کو جس نے بانٹا نقشے بدل بدل کے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ