بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھانے کے واسطے

 

بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھانے کے واسطے

آپ آ گئے چراغ جلانے کے واسطے

 

کیا کیا صُعوبتیں نہ اُٹھائیں حضور نے

اللہ کا پیام سُنانے کے واسطے

 

اک اہتمامِ خلوتِ نُور آفریں ہُوا

بندوں کو اپنے رب سے ملانے کے واسطے

 

دل اُن کے ذکر کے لیے اور اُن کی یاد میں

آنکھیں ملی ہیں اشک بہانے کے واسطے

 

جھونکا سا جیسے آ کے رُکا ہو مرے قریب

چُپکے سے کوئی بات بتانے کے واسطے

 

بابِ کرم دروُدوں سے کھلتا ہے صاحبو

چابی تو چاہیے ہے خزانے کے واسطے

 

آخر درِ نبی پہ جگہ مل گئی مجھے

کب سے بھٹک رہا تھا ٹھکانے کے واسطے

 

پھر میرے ساتھ ارض و سما بول اُٹھے سلیمؔ

میں چُپ ہُوا تھا نعت سُنانے کے واسطے

 

دُنیا ہے ایک آگ کا صحرا جہاں سلیمؔ

عشق نبی ہے پھول کھلانے کے واسطے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ