اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

بے خبری کا موسم ہے

بے خبری کا موسم ہے

باتیں یاد نہیں رہتیں

 

تو میری خاموشی کو

کتنا سندر لگتا ہے

 

تنہائی یہ کہتی ہے

بات کرو دیواروں سے

 

دروازے کی دستک سے

امیدیں وابسطہ ہیں

 

وہ بولی یہ بارش کیوں؟

!میں بولا بے چینی ہے

 

ہجر کے مارے لوگوں کی

رنگت بھی اُڑ جاتی ہے

 

میری خاموشی اُس کو

کیوں آوازیں دیتی ہے

 

میں اب کیا بیزاری میں

رونے دھونے لگ جاؤں؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپ کی آنکھیں سمندر کیا ہوئیں
آنکھ میں ہی ٹھہر گیا دریا
زخم ایسا نشاں میں آئے گا
ماں کے نام
سمندرِ غم کے پار ہو کر، اُداس ہو کر
مری بربادیاں یہ کہہ رہی ہیں
چلو اداسی کے پار جائیں
زینؔ تاروں کا رازداں ہوں میں
یوں تو ہر طور سے جینے کا کمال آتا ہے
چند لمحوں کا ہے زوال مرا