اردوئے معلیٰ

تاروں سے یہ کہہ دو کوچ کریں خورشید منور آتے ہیں

قوموں کے پیمبر آ تو چکے اب سب کے پیمبر آتے ہیں

 

رستے میں جو پودے ملتے ہیں تعظیم کو جھک جھک پڑتے ہیں

کھل کھل کے گواہی دیتے ہیں مٹھی میں جو کنکر آتے ہیں

 

دربارِ نبی جب گرم ہوا ‘ افلاکِ بریں سے آئی صدا

یہ قیصر و کسریٰ حاضر ہیں یہ طغرل و سنجر آتے ہیں

 

اے حامئ بیکس ! ختم رسل ! یہ حال ہے تیری امت کا

دنیا میں کسی کی بھی ہو خطا الزام ہمیں پر آتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات