تخلیق کا وجود جہاں تک نظر میں ہے

تخلیق کا وجود جہاں تک نظر میں ہے

جو کچھ بھی ہے وہ حلقہء خیرالبشر میں ہے

 

روشن ہے کائنات فقط اُس کی ذات سے

وہ نور ہے اُسی کا جو شمس و قمر میں ہے

 

اُس نے سکھائے ہیں ہمیں آدابِ بندگی

تہذیب آشنائی یہ اُس کے ثمر میں ہے

 

چُھو کرمیں آؤں گنبدِ خضرا کے بام و در

یہ ایک خواب ہے جو مری چشمِ تر میں ہے

 

دربارِ مصطفی سے مجھے اذن تو ملے

پرواز کی رسائی مرے بال و پَر میں ہے

 

جب سے مدینے جانے کی دل میں کسک ہوئی

تب سے یہ میری سوچ مسلسل سفر میں ہے

 

بن جائے گی وسیلہ یہ میری نجات کا

شامل جو نعت آپؐ کی میرے ہُنر میں ہے

 

فن کو شعورِ نعت ملا جب سے مرتضیٰ

اِک روشنی سی زندگی کی رہگزر میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
تو جب آیا تو مٹی روح و بدن کی تفریق
دلوں کا شوق، روحوں کا تقاضا گنبد خضرا
ہوا حمد خدا میں دل جو مصروف رقم میرا
کسی اور کے خدا سے نہ غرض نہ واسطہ ہے
یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
غمِ حیات سے گرچہ بہت فگار ہوں میں
محمد کے روضے پہ جا کر تو دیکھو
یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے
سرمایۂ جمال ہے طیبہ کے شہر میں

اشتہارات