تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول

 

تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول

بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسول

 

کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسول

رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسول

 

کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے

جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسول

 

دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے

لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسول

 

اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے

میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسول

 

کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے

عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسول

 

مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام

اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسول

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کہوں میں نعت نبی اور گنگناؤں اُسے
قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
محبت ہو نہیں سکتی خُدا سے
نبیؐ اللہ کا مُجھ پر کرم ہے
مرے محبوبؐ، محبوبِ خُداؐ ہیں
دل و جاں میں سمایا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے
غریبوں کا واحد سہارا محمد
وفورِ خیر تھا ، سو عرضِ حال بھُول گیا

اشتہارات