تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں

تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں

مری بے خواب آنکھوں میں تمہارے خواب سوتے ہیں

 

تھپکتی تھیں تلاطم خیز موجیں ایک مدت سے

سفینے اب مرے ہمراہ زیر آب سوتے ہیں

 

کھڑا ہوں سونت کر تلوار اب تک معرکہ گہ میں

میں پہرہ دے رہا ہوں کہ مرے احباب سوتے ہیں

 

بدن کو چھیدتے کنکر یہیں رہ جائیں گے سارے

ردائے خواب خود ہو جائیگی کمخواب سوتے ہیں

 

بہت رس پی چکے تھے عمر کا ہم بندگان دل

سو اب شاداب سوتے ہیں بہت سیراب سوتے ہیں

 

مقابل آسمانوں سے کوئی طوفان ہو تو ہو

سمندر تو مرے پیروں میں اب پایاب سوتے ہیں

 

تمہارا قرب اب بھی واقعہ ہے جان شب خیزی

مگر اس عمر میں نیندیں بھی ہیں کمیاب سوتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ