تیرا ہی ہرطرف یہ تماشا ہے اے کریم

تیرا ہی ہرطرف یہ تماشا ہے اے کریم

جو بھی یہاں پہ ہے تیرا بندہ ہے اے کریم

 

تیرے ہی لطف سے ہے یہ راحت بھی عیش بھی

دُنیا ترے کرم ہی سے دُنیا ہے اے کریم

 

یہ مرگ، یہ حیات، یہ غم، یہ خوشی، یہ کیف

ادنیٰ سا سب یہ تیرا کرشمہ ہے اے کریم

 

عزّت بھی تیرے ہاتھ ہے، ذلّت بھی تیرے ہاتھ

جو چاہتا ہے جس کو تو دیتا ہے اے کریم

 

بہزاد پہ بھی اک نگہء مہر ہو ذرا

بہزاد بھی تو اک ترا بندہ ہے اے کریم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
الہیٰ ! جب سے تجھ سے رابطہ ہے
ترے کرم تری رحمت کا کیا حساب کروں
خدا ہے حامی و ناصِر ہمارا
خدایا میں نحیف و ناتواں کمزور انساں ہوں
سدا دِل میں خدا کی یاد رکھنا
کہوں حمدِ خدا میں کس زباں سے
ترے انوار دیکھوں یا خُدا مجھ کو نظر دے
خدا قائم ہے دائم جاوداں ہے