اردوئے معلیٰ

Search

تیرا ہی ہرطرف یہ تماشا ہے اے کریم

جو بھی یہاں پہ ہے تیرا بندہ ہے اے کریم

 

تیرے ہی لطف سے ہے یہ راحت بھی عیش بھی

دُنیا ترے کرم ہی سے دُنیا ہے اے کریم

 

یہ مرگ، یہ حیات، یہ غم، یہ خوشی، یہ کیف

ادنیٰ سا سب یہ تیرا کرشمہ ہے اے کریم

 

عزّت بھی تیرے ہاتھ ہے، ذلّت بھی تیرے ہاتھ

جو چاہتا ہے جس کو تو دیتا ہے اے کریم

 

بہزاد پہ بھی اک نگہء مہر ہو ذرا

بہزاد بھی تو اک ترا بندہ ہے اے کریم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ