اردوئے معلیٰ

آج معروف ادیب، قادر الکلام شاعر، ڈراما نویس، ناول نگار اور پلند پایہ انشا پرداز برج موہن دتاتریہ کیفی کا یومِ پیدائش ہے ۔

دتاتریہ کیفی(پیدائش: 13 دسمبر 1866ء – وفات: یکم نومبر 1955ء)
——
پنڈت برجموہن دتاتریہ کیفی دہلوی اردو زبان کے مشہور و معروف ادیب، قادر الکلام شاعر، ڈراما نویس، ناول نگار اور پلند پایہ انشا پرداز تھے۔
برجموہن دتا تریہ کیفی 13 دسمبر 1866ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ فنِ شاعری میں مولانا الطاف حسین حالی پانی پتی کے شاگرد تھے۔ کیفی بے انتہا عقیدت اور محبت سے اپنے استاد کا تذکرہ کرتے تھے۔ اردو کے علاوہ ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی کے بھی عالم تھے۔ عرصہ دراز تک لاہور میں مقیم رہے، جہاں ان کا لڑکا انگریزی اخبار دی ٹریبیون کا ایڈیٹر تھا۔ انجمن ترقی اردو میں بابائے اردو مولوی عبد الحق کے بعد آپ ہی کا درجہ تھا۔ ساری عمر نہایت خلوص کے ساتھ اردو کی خدمت کی۔ اُن کی گفتگو، تقریر اور تحریر نہایت شستہ اور شائستہ ہوتی تھی، ہر ایک سے اخلاق اور مروت سے پیش آتے تھے۔ نہایت صلح کُل شخص تھے۔
پنڈت برجموہن دتاتریہ کیفی 1 نومبر 1955ء کو دورانِ سفر قصبہ غازی آباد میں وفات پا گئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کیفی اعظمی کا یومِ پیدائش
——
تصانیف
——
منشورات (لیکچرز و مضامین، 1934ء)
واردات (شعری مجموعہ، 1941ء)
پریم ترنگنی (مثنوی)
توزک ِ قیصری (منظوم تاریخِ ہند، 1911ء )
خمخانۂ کیفی (1924ء)
راج دلاری (ڈراما، 1930ء )
کیفیہ (انجمن ترقی اُردو (ہند) دہلی،1942ء)
مراری دادا (ڈراما، 1918ء)
دریائے لطافت (انشاء اللہ خاں انشا کی کتاب کا ترجمہ، انجمن ترقی اُردواورنگ آباد، 1935ء)
خمسۂ کیفی (اُردو زبان سے متعلق مقالات و منظومات، انجمن ترقی اُردو (ہند) دہلی، 1939ء)
اُردو ہماری زبان (1936ء)
نہتا رانا یا رواداری (تاریخی ناول ، 1931ء)
جگ بیتی (مثنوی،انجمن ترقی اُردواورنگ آباد)
تمثیلی مشاعرہ (انتخاب) سودا، خواجہ میر درد ، میر تقی میر ، جرآت ، مصحفی ، انشاء ، آتش ، نسیم ، ناسخ ، ذوق ، مومن اور غالب کا کلام
چلو میں الو (ڈراما)
عورت اور اس کی تعلیم
بھارت درپن (ڈراما)
افسانچے (عبدالحق اکیڈمی حیدرآباد دکن، دسمبر 1944)
انتخاب ذوق و ظفر معہ مقدمہ (مرتبہ، بہ اشتراک شان الحق حقی،انجمن ترقی اُردو (ہند) دہلی، 1945ء)
ہندوستانی ڈراما کا اثر مغربی اسٹیج پر
آئینہ ہند
پریم دیوی
——
دتاتریہ کیفی – اردو کی ایک بے بدل شخصیت از ڈاکٹر داؤد اشرف
——
پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی کی شخصیت بہ حیثیت مجموعی ایک ایسی ہمہ گیر اور بلند قامت شخصیت ہے جو کسی بھی زبان و ادب اور اس کی تہذیب کا سرمایہ سمجھی جاسکتی ہے۔ خوش قسمتی سے یہ شخصیت اردو زبان اس کے ادب اور اس کی مشترکہ تہذیب کو میسر آئی۔
دتاتریہ کیفی کا تعلق اس مردم خیز سرزمین سے ہے جسے جنت نشان کشمیر کہاجاتا ہے۔ یہاں کی خاک سے کتنے ہی جگمگاتے ہوئے لعل وجواہر بر صغیر کو نصیب ہوئے جنہوں نے اس بر صغیر کی سیاست اور تہذیب کو مالا مال کردیا۔ اقبال اور چکبست کی طرح کیفی کے آبا و اجداد کا تعلق بھی کشمیر سے تھا۔
پنڈت دتاتریہ کیفی کا شمار اردو کے ان گنے چنے محسنوں میںکیاجاتا ہے جنہوں نے نہ صرف علمی ، ادبی اور تحقیقی کاوشوں ہی کے ذریعہ اردو زبان کی خدمت کی بلکہ اردو زبان کی اشاعت و فروغ میں عملی طور پر حصہ لیا۔ کیفی نے اردو زبان اور اردو تحریک کی جس لگن، خلوص اور خاموشی سے خدمت کی اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اردو زبان اور تحریک سے زندگی کے آخری لمحوں تک ان کی دل چسپیوں میں کوئی فرق نہیں آیا، اس زبان نے ان سے آخری وقت تک کسب فیض کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : کیفی اعظمی کا یومِ وفات
——
یوں تو ان کی ساری زندگی اردو زبان اور اردو تحریک کی خدمت سے عبارت ہے لیکن بالخصوص ملک کی تقسیم کے بعد اس میدان میں ان کی شخصیت بہت اہم اور نمایاں حیثیت حاصل کرگئی تھی۔ پنڈت جی کی شخصیت ہندو مسلم تہذیب کا خوبصورت امتزاج تھا۔ پچھلی صدی کے بہترین مگر مٹے ہوئے نقوش اور آثار ان کی شخصیت میں پوری طرح جلوہ گر نظر آتے تھے۔ اردو زبان و ادب کی خدمت اور ہندوؤں اور مسلمانوں میں باہمی اتحاد کو انہوں نے اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا تھا۔ کئی انقلابات گزر گئے اور زمانے نے کئی کروٹیں بدلیں۔ مگر ان کی ثابت قدمی میں کبھی فرق نہیں آیا۔ از ابتدا تا دم مرگ زندگی کے اعلیٰ اقدار اور اپنے نصب العین سے ایک سچے عاشق کی طرح پیار کرتے رہے اور کبھی ان کی چاہت میں کمی نہیں آئی ؏
——
پتھر کی چھاتی چاہئے ہے میر عشق میں
جی جانتا ہے اس کا جو کوئی وفا کرےاب ایسی وضعدار اور مخلص بزرگ ہستیاں کہاں جو تمام مصلحتوں سے دور اپنے عمل اور برتاؤ میں اٹل اور بے لاگ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پنڈت دتاتریہ کیفی اردو دنیا میں بڑی عزت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔
پنڈت دتاتریہ کیفی کے اجداد18ویں صدی کے آغاز کے بعد کشمیر سے دہلی منتقل ہوچکے تھے۔ یہ وہ دور تھا۔ جب معزز خاندانوں کے لئے فارسی دانی بڑی اہمیت رکھتی تھی۔ انہوں نے فارسی میں عبور حاصل کرنے کے لئے مکتب کی مروجہ تعلیم پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے نانا سے بھی رجوع ہوئے جو اس زبان کے ایک جید فاضل سمجھے جاتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے انگریزی تعلیم پر بھی پوری توجہ کی۔ انہیں چونکہ ہندی پر بھی عبور ہوگی اتھا اس لئے سنسکرت سے بھی اچھی خاصی واقفیت حاصل ہوگئی۔ اردو اور فارسی پر عبور نے انہیں عربی سے بھی اسی طرح آشنا کردیا جس طرح کہ وہ سنسکرت سے آشنا تھے۔
رتن ناتھ سرشار ، دیاشنکر نسیم، چکبست اور پریم چند کی طرح کیفی بھی اردو کی ان نمائندہ شخصیتوں میں سے ہیں جو اس زبان کی سیوا کرنے میں اس کے دوسرے فرزندوں سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔یہ وہ نمائندہ شخصیتیں ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ اردو زبان کا تعلق کسی ایک م ذہب ، عقیدہ یا طبقہ سے نہیں بلکہ حقیقی معنی میں یہ ہندوستان کی قومی زبان ہے جو اپنے سیکولر کردار کی وجہ سے رابطہ کی زبان ہونے کے علاوہ مشترکہ تہذیب کی بھاشا بھی ہے۔
عمر دراز اس صورت میں یقینا خوش نصیبی بن جاتی ہے جب کہ اس کا ایک ایک پل رائیگاں نہ جائے۔ کیفی کا گنج گراں مایہ عمر بھی محبت ، دوستی، بھائی چارہ ، نیکی، راستی، شرافت ، وطن دوستی انسانیت دوستی کے اعلیٰ اقدار اور قابل قدر روایات کو پروان چڑھانے میں صرف ہوا۔
کیفی نے جب آنکھیں کھولیں تو ہندوستان کی تاریخ ایک کروٹ لے چکی تھی۔ اس وقت ساری دنیا تغیر اور تبدیلی کے فیصلہ کن مراحل سے گزر رہی تھی۔ تغیرات اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک مسلسل عمل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن ان میں ایسے بھی مرحلے آتے ہیں جب تغیرات ایک قطعی شکل حاصل کرلیتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : ہری چند اختر کا یوم وفات
——
دتاتریہ کیفی جب پیدا ہوئے تو ہندوستان میں شاہی ختم ہوچکی تھی۔ جنگ آزادی سنہ 1857ء کے ہنگاموں کا دور بھی گزر چکا تھا۔ ایک نئی تہذیب اور ایک نئی زندگی بر صغیر میں کروٹ لے رہی تھی۔ انگریزی تعلیم کے ذریعہ ملک مغرب کی جدید تبدیلیوں ، جدید فکر اور فلسفہ اور نئی معاشی اور سماجی تبدیلیوں سے آگاہ ہوتا جارہا تھا، نئی صنعتی سر گرمیوں کا آغاز ہوچکا تھا اور شاہی جاگیرداری اور زمین داری کے دور سے نکل کر ملک ایک نئے صنعتی دور کی دہلیز پر کھڑا ہوچکا تھا۔
پنڈت جی نے بھی ان نئی تبدیلیوں اور نئے حالات کو دیکھا نئے تقاضوں کو محسوس کیا اور قدامت سے چمٹے رہنے کی بجائے جدید اور ترقی پذیر میلانات اور رجحانات کا خیر مقدم کیا۔ نئے علوم و فنون کی طرف راغب ہوئے انگریزی تعلیم حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں قدیم اور جدید کا ایک متوازن امتزاجج ہونے لگا۔ بنگال، پنجاب ، اور دہلی میں چلائی جانے والی تحریکات سے انہوں نے اپنے آپ کو وابستہ کیا۔ اردو کے ادیب، شاعر، محقق، عالم اور خدمت گزار کی حیثیت سے انہوں نے حالی اور سرسید سے گہرے اثرات قبول کئے اور اس کا اظہار صرف اپنی تخلیقات ہی میں نہیں بلکہ اپنی ساری شخصیت سوچنے اور سمجھنے کے انداز اور اپنے طرز زندگی میں بھرپور انداز میں کیا۔
اس کا ایک کھلا ثبوت پنڈت کیفی کا مسدس” بھارت درپن” ہے جو1905ء میں تصنیف کیا گیا۔ جس طرح حالی نے مسدس لکھ کر مسلمانوں کو جھنجھوڑنے اور خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی تھی بالکل اسی طرح پنڈت کیفی نے بھارت درپن میں ہندوستان کی عظمت اور عروج کے دور کی یاد دلاتے ہوئے اس دور کے زوال اور پستی کا نقشہ کھینچ کر ہندوستان کو قعر مذلت سے نکلنے اور ترقی کے راستہ پر آگے بڑھنے کے لئے اکسایا۔
پنڈت دتاتریہ کیفی کو شعروسخن کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ انہوں نے کم عمری ہی سے شعر کہنا شروع کیا اور شاعری کی ابتدا رواج زمانہ کے مطابق غزل گوئی سے کی لیکن جدید رجحانات اور تحریکات کے زیر اثر نیچرل شاعری کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ یوں تو پنڈت جی نے تقریباً ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن ان کی زیادہ تر توجہ غزل اور نظم کی جانب ہی رہی۔
ان کی غزلوں میں زبان و بیان کی چاشنی ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ محاورہ کا لطف اور تاثیر کی خصوصیت بھی پائی جاتی ہے اور دبستان دہلی کا انداز جگہ جگہ اپنے آپ کو آشکار کرتا ہے۔
ان کی نظمیں مناظر فطرت کی حسین عکاسی اور زبان و بیان کی دلکشی کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ لیکن جو چیز خصوصیت کے ساتھ ان کے کلام میں نمایاں ہے وہ ان کی قادر الکلامی اور کہنہ مشقی ہے۔ قاری ان کی شاعری کی اس خصوصیت کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
شاعری کے علاوہ ادب کے بعض دیگر اصناف مثلاً افسانہ، ناول، اور ڈرامہ پر بھی پنڈت کیفی نے توجہ کی ہے۔ لیکن در حقیقت لسانیات اور تحقیق ان کا خاص میدان ہے۔ ان موضوعات پر ان کی دو تصانیف منشورات ، کیفیہ اور دیگر چند مضامین موجود ہیں۔
منشورات سنہ 1934ء میں شائع ہوئی۔ جس میں وہ 12 علمی وادبی لی کچر اور مضامین شامل ہیں جو سنہ 1910ء اور 1934ء کے دوران میں لکھے گئے۔ ان میں چند لکچر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد۔ اردو سبھا لاہور، انجمن اردو لکھنو اور انجمن ارباب علم لاہور میں دئے گئے تھے۔ ان خطبات اور مضامین میں ایک خاص قسم کا ربط موجود ہے اور وہ ہے اردو زبان سے پنڈت کیفی کی بے پناہ محبت اور اردو ادب کی ترقی اور فروغ کے لئے ان کے پرخلوص مشورے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کرم کے بادل برس رہے ہیں
——
اردو زبان اور ادب کی ترقی و توسیع میں قدما نے جو کارہائے نمایاں انجام دئیے تھے اور زبان کی تدوین و تزئین کے جو اصول وضع کئے تھے ان کا جائزہ لیتے ہوئے زبان و ادب کی ترقی کی موجودہ رفتار پر پنڈت کیفی نے بڑی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اردو زبان میں اس دور میں جو بے راہ روی پیدا ہورہی تھی اس سے وہ بے حد خائف تھے۔ ان کے خطبات اور مضامین میں جگہ جگہ زبان کی غلطیوں کے بارے میں اشارے مثالیں اور عالمانہ بحثیں ملتی ہیں۔
وہ عربی و فارسی الفاظ اور تراکیب سے اردو کو مشکل اور ثقیل بنانے کے مخالف تھے۔ انہیں پروفیسر وحید الدین سلیم سے مکمل اتفاق تھا کہ اگر اردو کو ہندوستانی زبان بنانا منظور ہے تو اسے عربی ایرانی کی بجائے ہندالمانی زبان بنایاجائے۔
علمی استطاعت میں ترقی کے ساتھ وہ زبان کی لطافت اور ترنم کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ الفاظ کے ذخیرہ میں اضافہ اور زبان کی اصلاح و ترمیم کو ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بات کو مد نظر رکھنے کی بھی تاکید کرتے ہیں کہ جو خوبیاں پہلے سے اردو میں موجود ہیں وہ کہیں زائل نہ ہوجائیں انہوں نے زبان کے نقائص ،ع یوب اور کمزوریوں کی اصلاح اور مختلف دبستانوں میں تذکیر و تانیث و متروکات وغیرہ کے اختلافات کو دور کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے لئے معقولیت ، بالغ نظری اور فراخ دلی کو پیش نظر رکھنے کا مشورہ دیا۔ وہ ان مسائل کو حل کرنے پر زور دیتے ہوئے ارد ووالوں سے ماضی کی روشنی میں اعلیٰ اور معیاری کارنامے سر انجام دینے کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔ متذکرہ بالا مسائل اور زبان اور ادب کی جانب بے توجہی کا عالم دیکھ کر انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ سست رفتاری اور غفلت جمود کی کیفیت نہ اختیار کرے اور اردو زبان آثار قدیمہ بن کر نہ رہ جائے۔
اردو زبان و ادب کے جن چند مسائل کا تذکرہ ان خطبات اور مضامین میں ملتا ہے وہ مسائل موجودہ مسائل سے یقینا مختلف ہیں۔ مسائل کی تبدیلی ، حالات کی تبدیلی کا منطقی نتیجہ ہوتی ہے۔ لیکن یہ کتاب اس دور کے مسائل کا جائزہ لینے کے لئے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
پنڈت دتاتریہ کیفی نے لسانیاتی موضوعات پر کئی مضامین قلمبند کئے تھے جو کیفیہ کے نام سے سنہ 1942ء میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ جیسا کہ خود پنڈت کیفی کہتے ہیں۔ برسوں کی تحقیق، مطالعہ اور سوچ بچار کے نتیجے اس کتاب میں محفوظ کردئے گئے ہیں۔ اس کتاب کو اردو لسانیات کے ابتدائی اہم کاموں میں شمار کیاجاتا ہے۔ پہلے باب میں اردو بان کی مختصر تاریخ کے تحت زبان کے آغاز و ارتقا کی کھوج لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس وقت اس میدان میں جو تحقیقی کام ہوچکا تھا اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی ہمہ گیر معلومات کی روشنی میں پنڈت کیفی نے جو نتائج اخذ کئے ہیں ان سے آج اختلاف ممکن ہے کیونکہ پنڈت کیفی کی اس تصنیف کے بعد اس موضوع پر ، سائنٹفک بنیادوں پر کافی تحقیقی کام ہوچکا ہے۔ اور چند نئے نظریات سامنے آئے ہیں۔ تاہم اس کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پنڈت جی کے تمام ماخذ مستند اور معتبر ہیں اور موضوع سے ان کی واقفیت بہت گہری ہے۔ انہوں نے اپنی وسیع معلومات کی روشنی میں بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔
اس کتاب کے دوسرے ابواب میں زبان کے بنیادی عناصر کے بارے میں تمام بحثیں خالص علمی ہیں اور جو نکات بیان کئے گئے ہیں وہ بہت اہم اور پیش قیمت ہیں تحقیق صبر آزما اور محنت طلب کام ہے جس میں وسیع معلومات اور دقت نظری درکار ہے۔ پنڈت کیفی نے اپنی تصانیف اور تحریروں میں تحقیق کا پورا پورا حق ادا کیا ہے۔ علمی اور فنی رموز و نکات کوواضح اور سلیس انداز میں بیان کرنے پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ آج جب کہ اردو لکھنے والوں کی تحریروں میں زبان کی غلطیاں عام ہیں اور صحت زبان سے لاپروائی برتی جارہی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بہت کار آمد اور مفید ثابت ہوگا۔
——
یہ بھی پڑھیں :  معروف ناول نگار منشی پریم چند کا یومِ وفات
——
علم لسانیات ، قواعد، محاورہ اور روز مرہ سے انہیں ابتدا ہی سے دلچسپی تھی۔ اردو میں انشا اللہ خاں کی تصنیف” دریائے لطافت” اس موضوع پر سب سے پہلی اور بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کتاب کو مولوی عبدالحق نے مرتب کر کے طبع کروایاتھا۔ لیکن جب مولوی صاحب نے محسوس کیا کہ کتاب فارسی زبان میں ہونے کی وجہ سے پڑھنے والوں کا دائرہ محدود ہے تو انہوں نے طبع ثانی میں اس تصنیف کا اردو ترجمہ شائع کیا۔ ترجمہ پنڈت کیفی نے کیا جو بہت سلیس رواں اور بامحاورہ ہے۔ اس کتاب میں کئی مفید حواشی بھی شامل ہیں جن سے قاری پر اہم نکات واضح ہوجاتے ہیں۔
عمر کے معاملے میں قدرت نے کیفی صاحب کو بڑی فیاضی سے نوازا تھا۔ تقریباً پون صدی تک علمی، ادبی، شعری تحقیقی غرض یہ کہ وہ اردو زبان سے متعلق ہر قسم کی تعمیری اور بامقصد سرگرمیوں اور تحریکوں ے وابستہ رہے۔
پنڈت دتاتریہ کیفی کے انتقال پر ڈاکٹر زور نے ان کی شخصیت کو پر اثر الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا تھا ، انہوں نے لکھا تھا کہ”ان کی وفات سے اردو دنیا ایک ایسے محسن سے محروم ہوگئی ہے۔ جس کا بدل ملنا ممکن نہیں ہے۔ اردو میں شاعر، ادیب، ماہر لسانیات اور عروض و قواعد کے جد اجدا ماہر پیدا ہوتے رہیں گے۔ لیکن شاید ہی کوئی ایسا پیدا ہو جو ان سب میں پنڈت کیفی کی طرح ایک خصوصی اہمیت کا مالک ہو۔”
کس قدر حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ پنڈت دتاتریہ کیفی کی قابل احترام شخصیت اور گراں قدر خدمات اور کارناموں کو اردو دنیا نے فراموش اور نظر انداز کردیا ہے۔ حالانکہ پنڈت کیفی ماضی قریب کی چند اہم شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی جگہ متعین کی جائے۔ اردو والوں کی اس بارے میں غفلت پنڈت کیفی کے ساتھ نا انصافی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ اس کو تاہی کے سبب اردو لسانیات اور تحقیق کے ارتقا کی کہانی بھی ادھوری رہ جائے گی۔
——
منتخب کلام
——
عشق نے جس دل پہ قبضہ کر لیا
پھر کہاں اس میں نشاط و غم رہے
——
جو دل و ایماں نہ دیں نذراں بتوں کو دیکھ کر
یا خدا وہ لوگ اس دنیا میں آئے کس لئے
——
خبر کسے صبح و شام کی ہے تعینات اور قیود کیسے
نماز کس کی وہاں کسی کو خیال تک بھی نہیں وضو کا
——
وضو ہوتا ہے یاں تو شیخ اسی آب‌‌ گلابی سے
تیمم کے لئے تم خاک جا کر دشت میں پھانکو
——
رہنے دے ذکر خم زلف مسلسل کو ندیم
اس کے تو دھیان سے بھی ہوتا ہے دل کو الجھاؤ
——
تم سے اب کیا کہیں وہ چیز ہے داغ غم عشق
کہ چھپائے نہ چھپے اور دکھائے نہ بنے
——
ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں
سچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیں
——
سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں دہر کا وجود
کیفیؔ یہ بات وہ ہے معما کہیں جسے
——
اردو ہے جس کا نام ہماری زبان ہے
دنیا کی ہر زبان سے پیاری زبان ہے
——
یوں آؤ مرے پہلو میں تم گھر سے نکل کر
بو آتی ہے جس طرح گل تر سے نکل کر
——
اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے
ہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسے
——
بتائیں کیا عمل عشق حقیقی کا کہاں تک ہے
زمیں کیا آسماں تک ہے مکاں کیا لا مکاں تک ہے
تعین سے بری ہو گر ہے لا محدود کا طالب
کہ حد ملک و دنیا تو وہیں تک ہے جہاں تک ہے
نہ ہو آزاد دور چرخ کی حلقہ بگوشی سے
ترا مرکوز دل ماؤ شما اور این و آں تک ہے
تو بسم اللہ کے گنبد میں کیا ہے معتکف زاہد
سکون خاطر مضطر حواسوں سے اماں تک ہے
پہنچ سکتا ہے کب سچی خوشی کو عیش نفسانی
کہ وہ تو آب رکنا باد و جوئے‌ مولیاں تک ہے
ہے شیخ و برہمن کے دین کی حد دیر و کعبہ تک
سواد دین عشق بے غرض کون و مکاں تک ہے
یقیں سے اور عمل سے پختگی پائی عقیدت نے
پہنچ تیری تو اے نادان بس وہم و گماں تک ہے
حقیقت حسن کی آئینہ تجھ پر کیونکہ ہو جاتی
نظر تیری تو زلف و خال و ابروئے بتاں تک ہے
جو ہیں مست الست ان کو خمار و سکر کا ڈر کیا
نگاہ تشنہ کام عشق ہی دست مغاں تک ہے
حصیر عشق کو کب دخل اس محفل میں ہے کیفیؔ
بساط اس کی فقط بین و بکا آہ و فغاں تک ہے
——
قیس کا تجھ میں جنوں جذبۂ منصور نہیں
ورنہ منزل گہہ دل دار تو کچھ دور نہیں
کوہ‌ و وادی وہی بجلی وہی بے ہوشی بھی
جلوہ لیکن وہ دل افروز سر طور نہیں
ڈھونڈنے جاؤں کسے جاؤں تو میں جاؤں کہاں
دل کے جو پاس ہے وہ آنکھ بھی کچھ دور نہیں
پھیر میں ذات و صفت کے نہ سراسیمہ ہو
نہیں معلوم کہ جوہر سے عرض دور نہیں
نظر آتا نہیں تجھ کو تو ہے آنکھوں کا قصور
عکس سے شخص حقیقت میں ذرا دور نہیں
جلوہ ساماں ہے رہ عشق میں ذرہ ذرہ
صاحب ذوق نظر منتظر طور نہیں
امر حق حرف ازل ہے تو یہ فتوے کیسے
وہ نئی بات نہیں میں کوئی منصور نہیں
جھوٹ سچ اس کو ہے یکساں وہ ہے اپنی دھن کا
حق شناسی مرے نقاد کا دستور نہیں
کبر ہی سے تو عزازیل ہے شیطان رجیم
آدمی ہے وہی انسان جو مغرور نہیں
کیا تماشا ہے لئے جاتے ہیں تقدیر کا نام
اور تدبیر سے اک لحظہ بھی معذور نہیں
نہیں تقدیر کی تحریر سے انکار مگر
اس میں تدبیر مقدر ہے جو مذکور نہیں
آپ تقدیر سدھر جائے گی تدبیر تو کر
کون کہتا ہے کہ انسان کو مقدور نہیں
تو عوارض سے عوارض کی ہے تجھ سے پرواز
تو جو مطلق نہیں مختار تو مجبور نہیں
ذرے ذرے کو ہے اک فرض ودیعت حق سے
نہ سمجھ تو کوئی قیصر نہیں فغفور نہیں
کار گاہ عمل اس دہر کو وہ سمجھے ہیں
گل و بلبل کے کرشموں سے جو ماتور نہیں
کل میں مل جل کے رہے جز کا اسی میں ہے وقار
فرد ناچیز ہے گر شامل جمہور نہیں
کیوں کھچے رہتے ہیں یہ شیخ و برہمن باہم
دیر کعبہ سے جو حق پر ہو نظر دور نہیں
ادب و شعر کا عالم ہے وہ وحدت آئیں
کہ جہاں کافر و دیں دار کا مذکور نہیں
حد جغرافیہ سے شعر کی دنیا ہے جدا
دور کیلاس سے دو گز بھی یہاں طور نہیں
کیف باقی ہے وہ اس میں کہ نہیں جس کو خمار
بادہ‌‌ٔ شعر کوئی بادۂ انگور نہیں
ساقئ‌ مست نظر ہے یہ فسوں یا اعجاز
سب کو مدہوش کیا آپ تو مخمور نہیں
ساغر اک اور بھی دے پیر مغاں کیفیؔ کو
نشۂ بیخودیٔ عشق میں وہ چور نہیں
——
لب ساغر سے سن لو زاہدو تقریر مے میخانہ
شکست توبہ ہی ہے یا نئی تعمیر مے خانہ
ازل سے اس پہ رحمت ہے ابد تک اس پہ رحمت ہو
رقم ہے خط جام بادہ میں تقدیر مے خانہ
تو کیا اے زاہد خشک اس کی عظمت جان سکتا ہے
قلم سے موج کوثر کے کھچی تصویر مے خانہ
یہ مے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید
کہ دانائے‌ رموز دو جہاں ہے پیر مے خانہ
ملا پاؤ گے اس کا سلسلہ تسنیم و کوثر سے
بہت طول و طویل اے شیخ ہے زنجیر مے خانہ
بنا ہے شیشۂ مے سر بسر آئینۂ محشر
بری زہد و ریا سے ہے جوان پیر مے خانہ
تو ساری عمر اب ماتھا رگڑتا رہ کڑا کے کر
نہ ٹالے سے ٹلے اے شیخ یہ تعزیر مے خانہ
دہائی ساقیٔ کوثر کی یہ ہیں نفس کے بندے
جو وصل حور کی خاطر کریں تحقیر مے خانہ
حباب خط جام و قلقل مینا سے ثابت ہے
وہ ہے تسبیح مے خانہ یہ ہے تکبیر مے خانہ
گرا جو خشت خم پر سر لب کوثر نے چوما ہے
کہ ہے تقصیر مے خانہ ہی میں توقیر مے خانہ
نہ کیوں ہر قطرۂ مے مہر کی آنکھوں کا تارا ہو
کہ برق طور کی ہے اک چمک تنویر مے خانہ
پڑی ہے اک نظر جس پر وہ بے خود ہو گیا کیفیؔ
نگاہ مست ساقی میں ہے کیا تاثیر مے خانہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات