جانِ کرم حضور ہیں شانِ عطا حضور

 

جانِ کرم حضور ہیں شانِ عطا حضور

سب کے لیے ہیں سایۂ جود و سخا حضور

 

لالے پڑے ہیں عقل کو کیسا سفر کیا

لمحوں میں عرش پر ہوئے جلوہ نما حضور

 

ملتی نہیں مثال تمھارے جمال کی

ممکن نہیں تمھاری طرح دوسرا حضور

 

نکہت ہوائے طیبہ میں ہے آپ کے سبب

لہرائی ہے جو آپ کی زلفِ دوتا حضور

 

ٹھوکر میں انکی مال و زر و تخت و تاج ہیں

کونین میں ہیں جو بھی تمھارے گدا، حضور

 

آہوں میں ڈھل کے ہجر کی گھڑیاں گزر گئیں

سینے پہ میرے دستِ کرم ہو عطا حضور

 

بہرِ رضا عیاں ہوا مجھ پر علی کا اسم

عطار پیشوا ہوا بہرِ ضیا حضور

 

منظرؔ کی کوئی خواہش و حسرت نہیں رہی

در پر تمھارے دل نگوں جب سے ہوا حضور

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ