اردوئے معلیٰ

حضرت سخی سلطان باھو (1630 تا 1691)

 سخی سلطان باھو
Sultan Bahu

پنجاب کے صوفی اکابرین میں سے عارفوں کے سلطان حضرت سخی سلطان باھو کی ولادت عہدِ شاہجہانی میں شور کوٹ(ضلع جھنگ) کے حافظ بازید محمد کے ہاں ہوئی جو فوج میں اعلیٰ عہدہ رکھتے تھے اور ایک پابندِ شریعت فقیہ تھے. سلطان باھوکی والدہ بی بی راستی ایک کامل عارفہ تھیں جنھیں حضرت سلطان باھو کی پیدائش سے پہلے ہی اس بچے کا مرتبہ و مقام اور فنا فی ھو کے مطابق نام”باھو” الہاماً بتا دیا گیا تھا. سلطان باھو نے باطنی و روحانی تعلیم اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کی. ہر وقت عشقِ الٰہی میں مستغرق رہنے کی وجہ سے مروّجہ ظاہری تعلیم حاصل نہیں کر سکے
بچپن ہی سے سلطان باھو کی ذات سے کراماتِ الہیہ کا ظہور ہونے لگا تھا. سلطان باھو کی پیشانی نورِ حق سے اس قدر تاباں اور منوّر تھی کہ جو کافر بھی سلطان باھو کے چہرہء مبارک پر نظر ڈال لیتا کلمہ پڑھ کر دائرہء اسلام میں داخل ہو جاتا
آپ نے طالبانِ حق کی رہنمائی کے لیے پنجابی اور فارسی میں ایک سو چالیس کے قریب کتابیں تصنیف کیں جن میں سے کچھ محفوظ نہ رہ سکیں.آپ فرماتے ہیں
"اگرچہ میں ظاہری علوم سے محروم ہوں مگر علمِ باطنی نے میری زندگی پاک کر دی ہے.”
آپ نے اپنی تمام کتب میں معرفتِ الٰہی کی مختلف منازل طے کرنے کے طریقے اور مرشدِ کامل کی زیرِ نگرانی فقر کے راستے پر چلتے ہوئے تصورِ ذات کی تلقین کی ہے. سلطان العارفین شریعت سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کرتے تھے، خود فرماتے ہیں
"شریعت سے ہٹ کر جو راہ بھی ہے وہ کفر و زندقہ کی راہ ہے”
آپ کا تعلق سلسلہء سروری قادری سے ہے
——
یہ بھی پڑھیں : آ وڑیا ترے شہر مدینے اک غمگین سوالی ھُو
——
جس چیز نے آپ کو مقبولیتِ عام اور شہرتِ دوام بخشی وہ "ابیاتِ باھوؒ” ہے. ہر مصرعے کے آخر میں "ھُو”( جو ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے) نے ایک سرور انگیز آواز پیدا کر کے اسے تمام صوفیانہ کلام سے ممتاز کر دیا ہے. اپنے اشعار میں سیدھی سادی بات خطیبانہ انداز میں کہتے چلے جاتے ہیں جن کا مطالعہ بلاشبہ دیہاتی دانش کا مطالعہ ہے. آپ علمائے ظاہر کے مقابلے میں فقر کا تصور پیش کرتے ہیں. جہاں علماء لذتِ نفس میں مبتلا ہو کر یادِ الٰہی سے غافل ہو جاتے ہیں وہاں فقراء روز و شب ترکِ لذات اور نفس کشی کے مجاہدوں سے گزر کر یادِ خدا میں مگن رہ کر امر ہو جاتے ہیں. آپ کی شاعری تمام تر تصوّف پر مبنی ہے اور اس آیتِ مبارکہ کی تصویر ہے
"تم جس طرف بھی رخ کرو گے تمھیں اللہ کا رخ (چہرہ) نظر آئے گا”
(سورۃ البقرہ)
سلطان باھو کا مزار گڑھ مہاراجہ( ضلع جھنگ) میں مرجعِ خلائق ہےمتخب ابیات
………..
الف اللہ چنبے دی بُوٹی میرے مُرشد من وچ لائی ھُو
نفی اثبات دا پانی ملسیں ہر رگے ہر جائی ھُو
اندر بُوٹی مُشک مچایا جاں پُھلاں تے آئی ھُو
جیوے مُرشد کامل باھُو جیں ایہہ بُوٹی لائی ھُو
الف. اللہ : اللہ پاک کا اسمِ ذات
چنبے دی بُوٹی : چنبیلی کا ننھا پودا، پنیری
من: دل، روح
مُرشد :روحانی رہنما، پیر کامل
نفی : نہیں، نہ، لا الہ(کوئی معبود نہیں)
اثبات : ہاں، اقرار، الا اللہ (سوائے اللہ کے)
نفی اثبات : لا الہ الا اللہ
ملسیں : ملنا، میسر آنا
ہر رگے: رگ رگ میں، ہر ریشہء جاں میں
جائی: جگہ
مُشک مچایا : خوشبو پھیلائی
جاں: جس وقت
پُھلاں تے آئی: پھول کھلنے لگے
جیں: جس نے
——
یہ بھی پڑھیں : بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے
——
میرے مرشد نے اسمِ ذات "اللہ” کو چنبیلی کے ننھے پودے کی طرح میرے دل کی زمین میں لگا دیا. جس طرح پودوں کی پنیری کو پھلنے پھولنے کے لیے پانی اور موزوں فضا درکار ہوتی ہے اسی طرح میرے دل میں اسمِ ذات کے پودے کو جڑ پکڑنے اور بڑھوتری کے لیے جو پانی میسر آیا وہ نفی اثبات کا پانی تھا یعنی لا الہ کہہ کر دل سے ہر غیر اللہ کی محبت کو نکال پھینکا اور الا اللہ کو من میں بسا کر ذکرِ الٰہی سے اس پودے کی آبیاری کی. نفی اثبات کا پانی اس پودے کی رگ رگ میں ہر جگہ پہنچا اور پھر وہ مقام آیا کہ میرے دل میں لگے اس چنبیلی کے پودے پر پھول کھلنے کا موسم آگیا. تمثیلی انداز میں معرفت کے اسرار بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس چنبیلی کی خوشبو دل میں اس طرح بھر گئ کہ باہر نکلنے کے لیے بیتاب نظر آنے لگی یعنی معرفت کے اسرار اور بھید دل پر کھلنے لگے جنھیں سنبھالنا مشکل ہو گیا مگر عارفوں کو ہر کسی پر یہ راز عیاں کرنے کی اجازت نہیں ہوتی. میرا مرشد کامل سدا سلامت رہے کہ جس نے یہ پودا میرے دل میں لگایا، جس نے میرے دل میں اللہ کی محبت راسخ کر کے مجھے معرفتِ الہیہ کے بلند مقام و مرتبے تک پہنچا دیا۔
——۔۔
الف. ایہو نفس اساڈا بیلی جو نال اساڈے سِدّھا ھُو
زاہد عالم آن نوائے جِتھے ٹکڑا ویکھے تِھدّھا ھُو
جو کوئی اس دی کرے سواری اس نام اللہ دا لِدّھا ھُو
راہ فقر دا مشکل باھُو گھر ماں نہ سِیرا رِدّھا ھُو
نفس: دل
اساڈا: ہمارا
بیلی: دوست، یار
سدّھا: سیدھا
آن نوائے: جھک گئے، گمراہ ہوئے
جِتھے: جہاں
ویکھے: دیکھے
تِھدّھا ٹکڑا: روغنی روٹی مراد مرغّن کھانا
لِدّھا: پایا، تلاش کیا
سواری : نفس پر قابو پانا
سِیرا: گڑ اور آٹے سے تیار کردہ حلوہ
رِدّھا: پکایا
میرا نفس اب نفسِ مطمئنہ میں ڈھل کر میرا دوست بن چکا ہے اور یہ میرے ساتھ اب سیدھی راہ پر ہے یعنی مجھے فریب اور دنیاوی لالچ دے کر گمراہ کرنے کی بجائے میرے ساتھ صراطِ مستقیم پر رواں دواں ہے، یہی نفس جب نفسِ امارہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے ہاتھوں بڑے بڑے متقیوں، عالموں اور زاہدوں کو نفسانی خواہشات کے ہاتھوں ذلیل اور درجہء انسانیت سے گرتے دیکھا ہے. یہ علماء و زاہدین جہاں گھی سے چپڑی روٹی، مرغِن کھانا یعنی دنیاوی لذات دیکھتے ہیں اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں.دنیا کے حصول کے لیے راہِ حق سے بھٹک جاتے ہیں
جو شخص اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور ایک گھڑ سوار کی طرح اپنے نفس کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے وہی تلاشِ حق میں کامیاب ہوتا ہے. فقر اور درویشی کا راستہ بہت مشکل ہے. اپنے من کو مارنا پڑتا ہے. درویشی اور فقر گھر میں ماں کا پکایا ہوا حلوہ نہیں ہے کہ آسانی سے کھا لیا جائے، اس راہ میں بڑے مشکل مراحل اور آزمائشیں آتی ہیں. یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنے کے مترادف ہے
——
یہ بھی پڑھیں : اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
——
الف. ایہہ تن رب سچے دا حجرا وچ پا فقیرا جھاتی ھُو
نہ کر منت خواج خضر دی تیرے اندر آب حیاتی ھُو
شوق دا دیوا بال ہنیرے متاں لبھی وست کھڑاتی ھُو
مرن تھیں اگے مر رہے باھُو جنھاں حق دی رمز پچھاتی ھُو
تن : جسم
حجرا: قیام گاہ، کمرہ
جھاتی : جھانکنا
خواج خضر: حضرت خضر علیہ السلام جنھیں چشمہء آبِ حیات کا پتہ معلوم ہے
آب حیاتی: دائمی زندگی بخشنے والا پانی
دیوا بال : چراغ جلا
ہنیرے : اندھیرے میں
متاں: شاید
لبھی: مل گئی
وست: چیز، اثاثہ
کھڑاتی : گمشدہ
جنھاں: جنھوں نے
رمز: اشارہ، بھید، راز
پچھاتی : پہچان لی
اے درویش! اپنے تن من میں جھانک کر دیکھ، تیرا جسم سچے رب کی جلوہ گاہ ہے. تیرے اندر رب بستا ہے، اپنے آپ کو فنا فی الذات کر کے دیکھ تمہیں معلوم ہو گا کہ اپنے رب سے عشق وہ آبِ حیات جو انسان کو امر کر دیتا ہے. اس عشق کا آبِ حیات پینے والوں کو حضرت خضرؑ کی منت سماجت نہیں کرنا پڑتی کہ وہ انہیں حیاتِ جاوداں کے لیے چشمہء آبِ حیات تک لے چلیں
اپنے اندر کے اندھیروں میں عشقِ الٰہی کا چراغ رشن کر شاید اسی طرح تجھے اپنا کھویا ہوا اثاثہ، گمشدہ امانتِ حقیقی (ذاتِ حق تعالیٰ) مل جائے. وہ لوگ جو حق تعالیٰ کا بھید پا جاتے ہیں، اس کے اسرار پہچان جاتے ہیں وہ مرنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں یعنی وہ تمام دنیاوی خواہشات سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں، اپنے نفس کو اپنے اللہ کے لیے مار دیتے ہیں،دنیا کو زندگی ہی میں ایسے ترک کر دیتے ہیں جیسے ایک مرنے والا شخص دنیا چھوڑ جاتا ہے. اسی مضمون کو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے
موتوا قبل ان تموتوا
مرنے سے پہلے مر جاؤ
زندگی میں دنیاوی اسباب و خواہشات کو اپنے اللہ کے عشق پہ قربان کر دینے سے ہی حیاتِ جاودانی کا حصول ممکن ہے کیونکہ اس عشق کے سامنے دنیا کی محبت کچھ وقعت نہیں رکھتی
دنیا ہے خواب،حاصلِ دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
(سیماب اکبرآبادی)

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ