اردوئے معلیٰ

حمدِ رب کے نخل پر آیا ثمر اشعار کا

حمدِ رب کے نخل پر آیا ثمر اشعار کا

کُھل گیا قصرِ سخن میں ایک در اشعار کا

 

ساری تخلیقات میں نورِ یقیں جلوہ فگن

حمد کے اشعار میں سرمایۂ صد فکر و فن

 

رزقِ فن دیتا ہے جو، اُس کی ثنا ہر لب پہ ہے

خیر کی چاہت بھلائی کی دُعا ہر لب پہ ہے

 

ہر سخن کا رُخ زمیں سے آسماں کی سمت ہے

یہ سفر سارا حیاتِ جاوداں کی سمت ہے

 

خالقِ کُل سے مخاطب، فکر انسانی ہوئی

ہر صدا لگتی ہے دل کو جانی پہچانی ہوئی

 

ہے تپش احساس کی مضمر لباسِ فکر میں

قلب پاتا ہے سکوں بے شبہ، رب کے ذکر میں

 

بخش دے رب اُسوۂ کامل ہمیں خیرات میں

ہو نمایاں نورِ ایماں کی جھلک ہر بات میں

 

تم عزیزؔ احسن ثنائے رب تعالیٰ کے طفیل

مانگ لو گلشن، ثنائے رب تعالیٰ کے طفیل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ