خدا کا اسم، اسمِ دلکشا ہے

خدا کا اسم، اسمِ دلکشا ہے

خدا کا ذکر، ذکرِ جاں فزا ہے

 

خدا حاجت روا، فرماں روا ہے

خدا سب کا خدا، میرا خدا ہے

 

خدا سے مانگتا شاہ و گدا ہے

خدا سنتا سبھی کی التجا ہے

 

خدا معذور کو دیتا رِدا ہے

خدا بے پر کو پر کرتا عطا ہے

 

خدا مخلوق کا والی سدا ہے

خدا کب اپنے بندوں سے جدا ہے

 

خدا کی حمد گو بادِ صبا ہے

ثنا خواں اس کا طائر خوش نوا ہے

 

ظفرؔ ہر سو نہ تجھ کو ڈھونڈتا ہے

تجھے خانۂ دل میں دیکھتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ