خدا کا اسم، اسمِ دلکشا ہے

خدا کا اسم، اسمِ دلکشا ہے

خدا کا ذکر، ذکرِ جاں فزا ہے

 

خدا حاجت روا، فرماں روا ہے

خدا سب کا خدا، میرا خدا ہے

 

خدا سے مانگتا شاہ و گدا ہے

خدا سنتا سبھی کی التجا ہے

 

خدا معذور کو دیتا رِدا ہے

خدا بے پر کو پر کرتا عطا ہے

 

خدا مخلوق کا والی سدا ہے

خدا کب اپنے بندوں سے جدا ہے

 

خدا کی حمد گو بادِ صبا ہے

ثنا خواں اس کا طائر خوش نوا ہے

 

ظفرؔ ہر سو نہ تجھ کو ڈھونڈتا ہے

تجھے خانۂ دل میں دیکھتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب عظیم ہے تو
دُور کر دے مرے اعمال کی کالک‘ مالک!
نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے
مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے
خدا کے نام سے ہی ابتدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے
خدا معبود مخلوقات کا ہے
خدا میرا زمانوں کا خدا ہے
جمال خانہ کعبہ دل کشا، جاذب نظر ہے
محبت ہو اگر بین الاُمم، ہو بین الاسلامی
خدا مشفق ہے مُونس مہرباں ہے