خُدا کا ذِکر دِل میں، آنکھ نم ہے

خُدا کا ذِکر دِل میں، آنکھ نم ہے

خُدا کا لُطف پیہم ہے، کرم ہے

 

خُدا کی یاد سے دِل کھِل اُٹھا ہے

خوشی ہر سُو ہے، اب کوئی نہ غم ہے

 

وہی ہم دم ہے، دم سازِ غریباں

کرم فرما ہمیشہ، دم بدم ہے

 

وہ سیدھی رہ دکھائے گُمرہوں کو

گنہ گاروں کا بھی رکھتا بھرم ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا
خدا کے سامنے سر کو جھکا دو
مکیں سارے خدا کے حمد گو ہیں، مکاں سارے خدا کے حمد گو ہیں
خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے
طوافِ خانہ کعبہ ترجماں ہے ایک مرکز کا
خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں
ہر دم تری ہی یاد ہے تیری ہی جستجو

اشتہارات