دعوے جو میں کرتا ہوں سرکار کی اُلفت میں

دعوے جو میں کرتا ہوں سرکار کی اُلفت میں

اے کاش اُجاگر ہوں آئینۂ سنت میں

 

توفیقِ ثنا پائی، یہ بھی ہے کرم اُن کا

پاتا ہوں سکونِ دل آقا ہی کی مدحت میں

 

روشن ہو نہ جب تک دل اخلاص کی کرنوں سے

تاثیر نہ آئے گی ہرگز تری دعوت میں

 

جب تک نہ رہیں تیرے مطلوبِ نظر آقا

ممکن ہی نہیں پائے، کچھ نور عبادت میں

 

اِدبار کی گھڑیوں کو کیوں طول ملا اتنا؟

لازم ہے کہ ہم سوچیں اک ساعتِ فرصت میں

 

کیوں اور کسی جانب دیکھوں میں عزیزؔ احسن

ہے جمع ہر اک خوبی اللہ کی مِنَّت میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے
کرم کے بادل برس رہے ہیں
اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول
ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا
چراغ ِ عشق جلا ہے ہمارے سینے میں
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
اے شہ انس و جاں جمال جمیل
گو ترقی پہ جمالِ مہِ کامل ہووے
حق نے تجھ کو بادشاہ ِ انس و جاں پیدا کیا
اصحاب یوں ہیں شاہِ رسولاں کے اردگرد

اشتہارات