دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں

 

دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں

عجیب لطف ہے رمضان کے مہینے میں

 

غم حیات کی موجوں سے کہہ دیا میں نے

نبیؐ سے پیار مرے ساتھ ہے سفینے میں

 

نبیؐ سے عشق مرے خون کی حرارت ہے

مرے یقین کی خوشبو مرے پسینے میں

 

مرے وجود کو عالم کا ہوش ہو کیسے

نبیؐ سے عشق جو شامل ہے میرے پینے میں

 

مرے نبیؐ تری عظمت بیاں کروں کیسے

خدا سے عشق جگایا تو کس قرینے میں

 

بس اب تو ایک ہی خواہش ہے مصطفیٰؐ میری

جہاں سے ہو مری رخصت حرم کے زینے میں

 

بہار رُت ہے مری روح، گلؔ عقیدت ہے

کہاں سے گھوم کے آیا ہوں میں مدینے میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بعد ثنائے ربِّ معظَّم، نعتِ نبی ہو جاری پیہم
باعثِ فخر ہے یہ خواب کی بات
خدا کی خاص رحمت اور کرم سے 
پھر قصیدہ حُسن کا لکھا گیا
شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے، پشیماں کیوں ہے
ہر گھڑی ہے تمنا یہی یا نبی
شجر کے دل میں گھاؤ کر گیا ہے
لبوں سے اسمِ محمد کا نور لف کیا ہے
اذاں میں اسمِ نبی سن لیا تھا بچپن میں
ترے نام کے نور سے ہیں منور مکاں بھی مکیں بھی

اشتہارات