رب کا کرم ہے اور یہ فیضانِ نعت ہے

رب کا کرم ہے اور یہ فیضانِ نعت ہے

اہلِ قلم کے دِل میں جو عِرفانِ نعت ہے

 

میرے نبی کی سیرتِ کامِل کے فیض سے

’’ہر شعبہء حیات میں اِمکانِ نعت ہے‘‘

 

ہے عظمتِ رسول کا اِظہار جا بجا

قُرآن کیا ہے؟ دعوت و اعلانِ نعت ہے

 

رب کے نبی سا کوئی نہیں دو جہان میں

ایمان کی اساس بھی عِرفانِ نعت ہے

 

امن و سکون و رحمت و بخشش کے ساتھ، ساتھ

پیہم عطا کا سلسلہ دورانِ نعت ہے

 

آقا کی اُلفتوں کا خزینہ ہے، خوب ہے

عُنوانِ ’’م‘‘ سے جو یہ دِیوانِ نعت ہے

 

اِس واسطے کرم کی سَنَد مِل گئی رضاؔ

گٹھڑی میں صرف میری جو سامانِ نعت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پھر نعتِ مصطفیٰؐ پر راغب ہوئی طبیعت
نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا
اے شافع امم شہ ذی جاہ لے خبر
مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دل سے
سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
ہر ایک پھول نے مجھ کو جھلک دکھائی تری
مدحت نگار میں بھی ہوں خیرالانام کا
سفر میں حضر میں آگہی آپ ﷺ ہیں
مدینہ ونجف و کربلا میں رہتا ہے