رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

جانے وہ کونسے لوگ ہوتے ہونگے جو انداز رندانہ بھی اس طور اپناتے ہونگے کہ جنت ہاتھ سے نہ جانے پائے ـ
ہمارے معاملے میں حالات و واقعات بالکل مختلف ہیں ـ
اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں تو کیسی کیسی نابغہ روزگار شخصیات موجود ہیں ـ لیکن مجال ہے کسی سے کوئی فیض پا لیں ـ ہماری سوچ اور احساسات کا یہ عالم ہے کہ نہ تو کسی شے سے ہمارے اندر للہیت پیدا ہوتی ہے نہ ہی جہنم کے ڈراوے ڈراتے ہیں ـ ہزار بار سوچتے ہیں آگ میں یوں جلیں گے ایسی ایسی تکلیفیں ہونگی لیکن دل میں خشیت پیدا ہونے کا نام نہیں لیتی ـ
دکھ تکالیف خوشی کوئی احساس محسوس کرنے سے ہم قاصر ہیں ـ نہ گھر بنانے کی چاہ اور آرزو نہ توڑنے کا خوف نہ علم کی طلب نہ مال کی حب نہ کپڑے لتے کا شوق نہ کھانے پینے سے رغبت ـ
تمام حسیات کسی کم تر درجے کے آئی کیو لیول والے انسان کی ہیں ـ
ہمارے پھپھی زاد کے نئے گھر خریدنے کی اطلاع چند اور عم زادوں نے کسی بریکنگ نیوز کی طرح سنائی ـ پچھلے سال خریدا ہوا گھر بیچ کے اب ساڑھے بارہ کروڑ کا گھر خریدا ہے ـ
ہم نے کہا اچھا ـ
وہ ہم سے باقاعدہ لڑ پڑے کہ ویسا ردعمل کیوں ظاہر نہیں کیا جیسا وہ چاہتے تھے ـ
اب کوئی رد عمل پیدا ہی نہ ہو تو کیسے ظاہر کر دیں؟ ؟
ہماری بڑی پیاری اور اللہ لوک خالہ ہیں انکے ہاس بیٹھیے تو وہ آپکو ڈھیروں وظائف اس عقیدت اور ایمان سے بتاتی ہیں کہ آپ نے انھیں پڑھا نہیں اور بس کام ہوگیا ـ
بیٹی سرکاری نوکری کے لیے یہ دعا پڑھو ـ
خالہ کیا ہوگا دعا سے؟
خالہ کی بڑی اچھی عادت ہے وہ کفر کا فتوٰی نہیں لگاتیں نہ ہی بہت زیادہ ڈراوے دیتی ہیں ـ بڑے پیار سے گویا ہوتی ہیں ـ
ارے تم مانگ کے تو دیکھو ـ
دیکھیے خالہ ہم سے نہیں مانگی جاتی ـ اللہ نے دینی ہے تو ایسے ہی دے دے ہم اس بات پہ ایمان رکھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا ہے سب سے بڑا ـ اور اسکی شان و شوکت کو بھی مانتے ہیں ـ
آپ کہہ دیجیے اللہ سے بس ہم سے ہاتھ نہیں اٹھائے جاتے ـ ہم بھی چاہتے ہیں آپکی طرح ہل ہل کے وظیفے کریں دعائیں مانگیں …نہیں ہوتا تو کیا کریں ..مر جائیں کیا؟ ؟
اچھا چلو اپنی امی سے کہنا یہ وظیفہ کر دیں
ارے خالہ وہ کاہے کو کریں ہمیں نوکری نہیں چاہیے ـ
جب سے خالہ کا بیٹا سرکاری افسر ہوا ہے خالہ چاہتی ہیں ہر بچہ بچی کو سرکار برتی کر لے ـ
اب انھیں کون بتائے کہ ہم اگر سرکار کے افسر ہو بھی گئے تو ہمارے مزاج میں تبدیلی نا ممکن
نگر نگر گھومے اور قریہ قریہ چھان مارا کیا خبر کوئی انسان ایسا ہو جس کی نگاہ سے تقدیر بدل جائے
جانے وہ کونسے مرد مومن کی نگاہ ہوتی ہوگی جس سے تقدیریں بدل جاتی ہونگی ـ
بہت سی پیاری بہنوں نے ہمیں راہ راست پہ لانے کی ٹھانی بھی لیکن بے سود ـ وہ تھک گئیں لیکن ہم نے اپنی خو نہ بدلی
اور بھلا کیونکر اور کیسے بدلیں بچپن سے ہر معاملے کو جب تک سمجھایا نہیں گیا ہم ماننے سے انکاری رہے ـ اب جو باتیں ہمارے ذہن میں سماتی ہی نہیں انھیں کیسے مان لیں
مصیبت یہ آن پڑی ہے کہ ایک خاتون کھلے عام خود کو رند مان لے تو لوگ یقین کرنے سے انکاری ہو جاتے ہیں ـ یہ بھی ایک المیہ ہی کہیے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ـ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

داستانِ پُراسرار: گوروں کے دیس کے مُشاعرے
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
بیٹی کے نام خط (۱ )
مُشتاق احمد یوسفی سے مُلاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر
جب ہم ملے
پیاری اماں کے لیے خط (۱)
 کہانی بحرین کی
عدم توازن
بیٹی کے نام خط ( ۳ )
منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار