رواں رہے گا محبت سے آب آنکھوں میں

رواں رہے گا محبت سے آب آنکھوں میں

کہاں سے دید کی لاؤں گا تاب آنکھوں میں

 

مدینہ یارو مجھے اب قریب لگتا ہے

کھِلے ہیں دیکھو معطر گلاب آنکھوں میں

 

شہِ مدینہ کرم کیجیے گا عاصی پر

میں آ رہا ہوں لیے اضطراب آنکھوں میں

 

بنا لے سرمہ ملے خاک گر مدینے کی

درود پڑھ کے لگا پھر خراب آنکھوں میں

 

ورق ورق کو پرو ڈالا میں نے اشکوں میں

چُھپا ہے عشق کا سارا نصاب آنکھوں میں

 

بروزِ حشر عطا ہوگا جامِ کوثر بھی

سجا رکھے ہیں کئی میں نے خواب آنکھوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

باغِ ہستی میں ہےخوشبو آپﷺ کی مہکار سے
اے نائبِ رزّاقِ کریم، احسنِ تقویم
کُن سے ماقبل کے منظر کی ہے تطبیق الگ
نامۂ تخلیق پر نقشِ بقا، غارِ حِرا
ایک یہ بات ہے اصول کی بات
بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے
ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا
ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام
وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں
خوشبوؤں سے مہکنے لگی ہے فضا، لے کے اسلام خیرالوریٰ آ گئے