اردوئے معلیٰ

رکھ کے خواہش نئے معانی کی

شاعری ہم نے آسمانی کی

 

نئے مصرعے بنا لیے تم نے

بات لیکن وہی پرانی کی

 

ورنہ دریا بھی دشت جیسا ہے

بات ہوتی ہے بس روانی کی

 

ورنہ یہ دل کہاں بہلنا تھا

یہ تو سانسوں نے مہربانی کی

 

ٹھیک سے ہاتھ بھی ملایا نہیں

تم نے کیا خاک میزبانی کی

 

کیا کہوں، کچھ ضعیف سے جذبے

آگ بھڑکا گئے جوانی کی

 

باغ سے پھول جھڑ گئے سارے

رہ گئی دھول رائیگانی کی

 

میں حقیقت میں کھو گیا قیصرؔ

بات کرتے ہوئے کہانی کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات