سرمایۂ جمال ہے طیبہ کے شہر میں

سرمایۂ جمال ہے طیبہ کے شہر میں

محبوب ذوالجلال ہے طیبہ کے شہر میں

 

خوشبو ہو روشنی ہو ہوا ہو کہ زندگی

ہر شے میں اعتدال ہے طیبہ کے شہر میں

 

یارب یہاں کی خاک میں مل جائے میری خاک

بس ایک ہی سوال ہے طیبہ کے شہر میں

 

دل کتنے غم لیے ہوئے آیا تھا لیکن اب

بیگانۂ ملال ہے طیبہ کے شہر میں

 

ابھرے افق سے اور تمازت بکھیر دے

سورج کی کیا مجال ہے طیبہ کے شہر میں

 

تمثیل میں جو لاؤں تو کس خلد کو میں لاؤں

وہ حسنِ بے مثال ہے طیبہ کے شہر میں

 

روئے زمیں پہ کس کی ضرورت ہو اے رضی

جب آمنہ کا لال ہے طیبہ کے شہر میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق
سعادت یہ خیر اُلبشرؐ دیجئے
اے ختمِ رُسل اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
میں لاکھ برا ٹھہرا، یہ میری حقیقت ہے
تیرا کہنا مان لیں گے اے دلِ دیوانہ ہم​
دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے
معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​
قوسِ قزح میں لفظ بنوں نعت میں کہوں
سلام علیک اے نبی مکرم
جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

اشتہارات