سرکار کے مدینے میں جانا ہے ایک دن

سرکار کے مدینے میں جانا ہے ایک دن

جا کر کبھی نہ لوٹ کے آنا ہے ایک دن

 

آنکھوں کو خاکِ پائے رسولِ کریم سے

یہ آرزُوئے دِل ہے سجانا ہے ایک دن

 

اللہ کے رسول کے دربار میں سبھی

اپنا یہ حالِ زار سُنانا ہے ایک دن

 

اُن کے دیارِ نور سے فیضانِ نور بھی

دِل کی جِلا کے واسطے پانا ہے ایک دن

 

ناموسِ مصطفی کی حفاظت کے واسطے

وقت آ گیا تو سر کو کٹانا ہے ایک دن

 

آقا کی جو بنائی ہے اُس رہ گزار پر

خود کو ہر اُمَّتی نے چلانا ہے ایک دن

 

جنت میں جائوں گا میں کرم سے حضور کے

اِس بات پر بھروسہ ہے جانا ہے ایک دن

 

مقبول ہوں گے دیکھنا نغمے رضاؔ کے سب

بزمِ ثنائے آقا میں گانا ہے ایک دن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میں کھلا رہے
شمیم نعت سے جو حالِ دل وجدان جیسا تھا
عرشِ علیٰ پہ جانے والے میرے آقا میرے حضور
بارہا منزلِ طیبہ کا مسافر ہونا
بہجت افزائی کرے اسمِ معطر تیرا
عشقِ نبی میں یہ جو "تڑپ "ہے مکینِِ شوق
درِ غلامِ محمد پہ جب جل رہا ہے چراغ
اللہ اللہ کس قدر ہے رفعت شان رسول
سب حقیقت کھل گئی کونین کی تحقیق سے
شہِ امم کے عشق کا حسین داغ چاہئے