سلیم کوثر کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر سلیم کوثر کا یوم پیدائش ہے

سلیم کوثرسلیم کوثر : ایک مشہور پاکستانی شاعر۔ پیدائشی نام محمد سلیم، اگست 1947 میں پیدا ہوئے۔ ان کے کئی مجموعہ کلام ہیں۔ انہوں نے ٹی وی سیریلز کے ٹائٹل نغمے بھی لکھے۔ دنیا کے کئی ممالک میں مشاعرے پڑھے۔
کوثر کی پیدائش، بھارت کے شہر پانی پت میں، اگست 1947 کو ہوئی۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا اور کھانے وال میں مقیم ہوا، جو آج پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ہے۔ اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم یہیں پر کی۔ بعد اذیں ان کا خاندان کبیروالا منتقل ہوا۔ 1972 میں کوثر کراچی کو اپنا قیام گاہ کیا۔ کراچی میں کوثر نے کئی اخباروں سے منسلک رہے، پھر پاکستان ٹیلی ویژن میں ملازمت کی۔ چند سال پہلے ان کی وظیفہ یابی ہوئی۔
کوثر سلیم نے اپنا ادبی سفر کبیروالا سے شروع کیا۔ یہاں پر انہوں نے کامیابی دیکھی۔ کئی مشاعروں میں شرکت کی، پھر کراچی کا رخ کیا۔ وہاں پر انہوں نے اخباروں کے لیے قطعات لکھا کرتے تھے۔ اپنے پانچ مجموعہ کلام مکمل کیے۔ اور شہرت ملی تو ایک غزل سے : میں خیال ہوں کسی اور کا “۔ اس غزل کو کئی گلوکاروں اور غزل کاروں نے گایا۔ یہ غزل اتنی مشہور ہوئی کہ 1980 سے لے کر آج تک گائی جا رہی ہے ۔ سلیم کوثر نے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا اور مشاعرے پڑھے، ان ممالک میں دوحہ، ریاستہائے متحدہ امریکا, برطانیہ, کینیڈا، ڈینمارک، مشرق وسطی اور بھارت شامل ہیں۔
——۔۔
جنہیں راستے میں خبر ہوئی، سے چند اقتباسات
——۔۔
جدید نسل کے نمائندہ شاعروں میں ایک خوبصورت ، منفرد اور توانا نام سلیم کوثر کا ہے ۔ اپنے ظاہر و باطن میں خوبصورت ، سچا اور بے باک سلیم کوثر! جس نے لفظ و لہجہ اور آہنگ و اسلوب کی انفرادیت کے ساتھ ساتھ اپنے فن کی بنیاد ذاتی تجربات و مشاہدات کی سچائیوں پر استوار کی ۔ اس کی شاعری میں روحِ عصر دھڑکتی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیب،کالم نگار،ڈرامہ نگار اور شاعر سلیم احمد کی برسی
——
وہ گئے زمانے کے نوحے اور آنے والے دنوں کی بشارتیں لکھتا ہے ۔ اسے منزلوں کا گہرا شعور ہے ۔ وہ اس دھوپ بھری دنیا میں ایک مثالیہ بن کر زندہ ہے اور یہ سب اس کی زیرک آںکھوں اور مضبوط حوصلے کا کمال ہے جو اسے زمینی رشتوں سے خلوص اور آسمانی صداقتوں کے عرفان کی بدولت حاصل ہوا ہے ۔ اس دور میں زندگی کی مثبت قدروں سے اس کی یہ والہانہ Commitment میرے نزدیک کسی اسم اعظم کے بغیر ممکن نہیں۔
( رام ریاض )
——۔۔
سلیم کوثر کی شاعری کسی نظریاتی تحریک کے تابع ہے نہ کسی سیاسی منشور کے زیر اثر اس کے موضوعات ذات اور کائنات کے حوالے سے جنم لیتے ہیں ۔ اس کے ہاں محبت کے جذبے نے عجیب شدت اختیار کر رکھی ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے ٹوٹ کر چاہتا ہے ۔ بظاہر یہ شدت اظہار وقتی یا عارضی ہو سکتی ہے لیکن بباطن وہ اپنے احساسات و جذبات میں بے پناہ سچا اور کھرا ہے ۔ یہی سچائی اور کھرا پن اس کی شاعری کا خاصا ہے ۔ اپنی لکھت بنت اور اظہار پر اسے یکساں قدرت حاصل ہے ۔ اس کا یہی وصف اسے دیگر ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے ۔
(صابر ظفر)
——۔۔
سیلم کوثر نے پہال شعر لکھا اور شجرے کی بنیاد رکھی ۔ یوں ہونے کا دکھ جبر سے نکل کر اختیار کے دائرے میں آ گیا ۔، اور دکھ جب زندگی کے نصاب میں اختیاری مضمون بن جائے تو Passing Marks کا گراف بہت اوپر چلا جاتا ہے ۔ سلیم کوثر اس بلندی سے واقف ہے ۔ اور اس تک پہنچنے کے لیے اس نے اس مضمون کا احترام بھی کیا ہے اور اس سے محبت بھی کی ہے ۔
یہ مضمون اس کے یہاں Table Manners سے آگہی کی طرح محض Well Bred ہونے کا مظاہرہ نہیں ہے بلکہ اس روایت سے پیوست ہے جہاں مہمان کی تواضع کے لیے چراغ گل کر دیا جاتا ہے ۔
یہ محبت اس کے یہاں ٹرین کے سفر میں اتفاقی طور پر ملنے والی ہمسفر خاتون سے اگلے سٹیشن تک Flirtation نہیں ہے بلکہ اس Myth کا حصہ ہے جہاں پابجولاں سفر کیا جاتا ہے اور جس کے راستے نجد کی طرف جاتے ہیں ۔
سلیم کوثر کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ ہجر کا شاعر ہے یا ہجرت کا کہ اس کے یہاں دونوں تجربے مسلسل Overlap کرتے ہیں اور کہیں کہیں تو ان کی کیمسٹری ہی بدل جاتی ہے ۔ جو نشاط وہ اپنے ہجر سے اٹھاتا ہے اور جو حظ اسے اپنی ہجرت سے ملتا ہے وہ ہر دو سرحدوں کے درمیان No Man’s Land کا فرق ہی مٹا دیتا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : صد امتنان و فضلِ خدائے کریم ہے
——
سیلم کوثر چھاؤں کے دھوپ تک بحال کرنے کی دعا مانگتا مگر دربدری کا ذائقہ بھی زبان پر تازہ رکھنا چاہتا ہے ۔ وہ وصل کے کسی لمحے کو رائیگاں نہیں سمجھتا مگر ایسے کسی راستے پر یقین بھی نہیں رکھتا جو الگ نہ کرتا ہو اور یہی سلیم کوثر کا راستہ ہے ۔
(پروین شاکر)
——۔۔
تصانیف
——۔۔
محبت اِک شجر ہے – 1994
خالی ہاتھوں میں ارض و سماء – 1980
یہ چراغ ہے تو جلا رہے – 1987
ذرا موسم بدلنے دو – 1991
دنیا مری آرزو سے کم ہے – 2007
——۔۔
منتخب کلام
——۔۔
عالمِ ذات میں درویش بنا دیتا ہے
عشق انسان کو پاگل نہیں ہونے دینا
۔۔۔
یہاں تک تو آ گئے آپ کی محبت میں
اب اور کتنا گنہگار کرنا چاہتے ہیں
۔۔۔
اب کے سورج کی رہائی میں بڑی دیر لگی
ورنہ میں گھر سے نکلتا نہیں تاخیر کے ساتھ
۔۔۔
اب یہ موسم مری پہچان طلب کرتے ہیں
میں جب آیا تھا یہاں تازہ ہوا لایا تھا
۔۔۔
ایک قبیلہ چھوڑ دیا اور اِک دنیا آباد رکھی
میں نے پہلا شعر لکھا اور شجرے کی بنیاد رکھی
تو نے کہا تھا عشق میں تنہا کیسے جی سکتا ہے کوئی
تجھ کو بھول گئے اور تیری بات ہمیشہ یاد رکھی
۔۔۔
دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر
دیکھ اب وہ بھی اُتر آیا اداکاری پر
میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن
احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر
آدمی، آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر
کبھی اِس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے
اب تو انعام دیا جاتا ہے غدّاری پر
تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں
اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر
مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے
آئینہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر
کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو
کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر
بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو
لوگ اُتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر
——
یہ بھی پڑھیں : شاعر ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کا یوم پیدائش
——
کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھے
تم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھے
سنتے ہیں ایسا زمانہ بھی یہاں گزرا ہے
حق انہیں ملتا جو حق دار ہوا کرتے تھے
تجھ کو بھی زعم سا رہتا تھا مسیحائی کا
اور ہم بھی ترے بیمار ہوا کرتے تھے
اک نظر روز کہیں جال بچھائے رکھتی
اور ہم روز گرفتار ہوا کرتے تھے
ہم کو معلوم تھا آنا تو نہیں تجھ کو مگر
تیرے آنے کے تو آثار ہوا کرتے تھے
عشق کرتے تھے فقط پاس وفا رکھنے کو
لوگ سچ مچ کے وفادار ہوا کرتے تھے
آئینہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر
ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے
ہم گل خواب سجاتے تھے دکان دل میں
اور پھر خود ہی خریدار ہوا کرتے تھے
کوچۂ میرؔ کی جانب نکل آتے تھے سبھی
وہ جو غالبؔ کے طرف دار ہوا کرتے تھے
جن سے آوارگئ شب کا بھرم تھا وہ لوگ
اس بھرے شہر میں دو چار ہوا کرتے تھے
یہ جو زنداں میں تمہیں سائے نظر آتے ہیں
یہ کبھی رونق دربار ہوا کرتے تھے
میں سر دشت وفا اب ہوں اکیلا ورنہ
میرے ہم راہ مرے یار ہوا کرتے تھے
وقت رک رک کے جنہیں دیکھتا رہتا ہے سلیمؔ
یہ کبھی وقت کی رفتار ہوا کرتے تھے
——۔۔
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں
کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی
کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں
شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول
اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں
پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی
ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں
یہ زمیں یوں ہی سکڑتی جائے گی اور ایک دن
پھیل جائیں گے جو طوفاں ساحلوں میں قید ہیں
اس جزیرے پر ازل سے خاک اڑتی ہے ہوا
منزلوں کے بھید پھر بھی راستوں میں قید ہیں
کون یہ پاتال سے ابھرا کنارے پر سلیمؔ
سرپھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں
——۔۔
وہ جو آئے تھے بہت منصب و جاگیر کے ساتھ
کیسے چپ چاپ کھڑے ہیں تری تصویر کے ساتھ
صرف زنداں کی حکایت ہی پہ معمور نہیں
ایک تاریخ سفر کرتی ہے زنجیر کے ساتھ
اب کے سورج کی رہائی میں بڑی دیر لگی
ورنہ میں گھر سے نکلتا نہیں تاخیر کے ساتھ
تجھ کو قسمت سے تو میں جیت چکا ہوں کب کا
شاید اب کے مجھے لڑنا پڑے تقدیر کے ساتھ
اب کسی اور گواہی کی ضرورت ہی نہیں
جرم خود بول رہا ہے تری تحریر کے ساتھ
دیکھتے کچھ ہیں دکھاتے ہمیں کچھ ہیں کہ یہاں
کوئی رشتہ ہی نہیں خواب کا تعبیر کے ساتھ
اب جہاں تیری امارت کی حدیں ملتی ہیں
ایک بڑھیا کا مکاں تھا اسی جاگیر کے ساتھ
یہ تو ہونا ہی تھا مہتاب تماشا پھر بھی
کتنے دل ٹوٹ گئے ہیں تری تسخیر کے ساتھ
یاد بھی ابر محبت کی طرح ہوتی ہے
ایک سایا سا چلا جاتا ہے رہ گیر کے ساتھ
——۔۔
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں
تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے
وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ