سمیٹ سکتا نہیں کوزے میں خصال رسول

سمیٹ سکتا نہیں کوزے میں خصال رسول

بیاں کرے گا کوئی کس طرح کمال رسول

 

نہ بحث کر کوئی ہم سے کہ ہم ہیں دیوانے

نماز میں بھی تو آ جاتا ہے خیال رسول

 

تو وہ نگاہ دے جی بھر کے دیکھ لوں ان کو

کسک نہ باقی ہو دیکھا نہیں جمال رسول

 

مری نجات کا بس انحصار ہے اس پر

یہ جسم قبر میں ہو کاش پائمال رسول

 

مرے خدا علی اصغر کا صدقہ دے مجھ کو

ازل سے رکھتا ہوں میں بھی ولائے آل رسول

 

عزیز ہیچ ہے سب رنگ و حسن دنیا کا

نگاہ عشق میں روشن ہیں خد و خال رسول

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ