شاعر بنا ہوں مدحتِ خیرالبشر کو میں

شاعر بنا ہوں مدحتِ خیرالبشر کو میں

"سمجھا ہوں دل پذیر متاعِ ہنر کو میں”

 

چشمِ خیال میں ہیں مدینے کے بام و در

دل میں بسا رہا ہوں بہشتِ نظر کو میں

 

پہنچوں میں اُڑ کے ، در پہ بلائیں اگر حضورؐ

تکلیفِ رہنمائی نہ دوں راہبر کو میں

 

روزِ ازل ، خطِ شبِ اسرا ، فرازِ عرش

ترتیب دے رہا ہوں عروجِ بشر کو میں

 

میری شبِ الم کو سحر کیجئے حضورؐ

کب سے ترس رہا ہوں نشاطِ سحر کو میں

 

طیبہ کی راہ ، ارضِ مدینہ، درِ رسولؐ

مہمیز کر رہا ہوں مذاقِ سفر کو میں

 

ہیں میرے چارہ ساز حبیبِ خدا ایاز

کیا دکھ سناؤں اور کسی چارہ گر کو میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے
سرمایہ جاں ہیں شہِ ابرار کی باتیں
جم گیا ہے مری آنکھوں میں یہ نقشہ تیرا
وہ جس سے مری آنکھ ہے بینا، ہے مدینہ
کچھ بھی نہیں تھا سیّدِ ابرار سے پہلے
آگیا تقدیر سےمیری مدینہ آ گیا
ہر علم کی تخلیق کے معیار سے پہلے
یہی درد ہے میری زندگی کہ عطائے عشقِ رسول ہے
حشر تک نعتیہ تحریر مقالے ہوں گے
بن کے خیر الوریٰ آگئے مصطفیٰ ہم گنہ گاروں کی بہتری کے لیے

اشتہارات