شاہ مبارک آبرو


شاہ مبارک آبرو کا اصل نام نجم الدین تھا۔ کنیت شاہ مبارک اور تخلص آبرو ۔آپ گوالیار کے ایک صوفی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔۔آپ کی جا ئے پیدائش بھی گوالیار تھی۔ بعد میں دہلی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ سراج الدین خان آرزو کے رشتہ دار اور شاعری میں ان کے شاگرد تھے۔ باوجود اس کے کہ قادرالکلام شاعر تھے مگر خان آرزو سے اصلاح لیتے تھے۔
آبرو درویش صفت، قلندر مشرب اور حسن پرست تھے۔ ایک آنکھ سے نابینا تھے جس کی وجہ سے مظہر جانِ جاناں سے چشمک رہتی تھی۔ آبرو کو شاہ کمال الدین بخاری کے بیٹے میر مکھن سے بڑی عقیدت تھی۔ ان کا ذکر ان کے شعروں میں ملتا ہے۔ فنِ ریختہ کے بےمثال استاد تھے۔ فارسی میں بھی شاعری کرتے تھے۔خشگو نے اپنے تذکرے میں لکھا ہے کہ آبرو فارسی شاعری میں بھی زبان درست رکھتے تھے اور ریختہ گو انھیں صائبِ وقت کہتے تھے۔ وہ آبرو کی تعریف میں کہتے ہیں: ”ریختہ ٕ آبرو ، آبروئے شعر ریختہ۔“
میر حسن ، مصحفی، فتح علی اور لطیف وغیرہ جیسے تذکرہ نویسوں نے اپنے تذکروں میں آبرو کے کلام کی تعریف کی ہے۔
آبرو کی تعلیم زیادہ نہیں تھی لیکن شاعری کے لیے جن معلومات کی ضرورت ہوتی ہے اس سے وہ بہرہ مند تھے۔ ہم عصروں کے ہم نوا بن کر ایہام سے کام لینے لگےاور ایہام کے بادشاہ کہلانے لگے۔ ایہام گوئی اور رعایتِ لفظی کی ان کے کلام میں بہتات ہے مگر جو اشعار ان سے مبرا ہیں وہ بہت خوب ہیں ۔انھوں نے ایہام کو معنی آفرینی، لطفِ زبان اور شوخیِ اظہار کے لیے اختیار کیا ۔ان کے یہاں امرد پرستی کے مضامین بھی بکثرت ملتے ہیں۔ بعد ازاں آبرو نے ایہام گوئی ترک کردی اور سادہ اسلوب اختیار کر لیا۔
پھرتے تھے دشت دشت دوانے کدھر گئے
وہ عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے
——-
نازنین جب خرام کرتے ہیں
تب قیامت کا کام کرتے ہیں
———
ڈاکٹر سلیم اختر اردوادب کی مختصر تاریخ میں لکھتے ہیں ”جب آبرو سادہ اندازِ بیان اختیار کرتے ہیں تو میرکی فضائے تخلیق کے آس پاس محسوس ہوتے ہیں۔“
آبرو کو دورِ اول کے شعرا ٕمیں خاصی اهمیت و مقبولیت حاصل ہے جس کی وجہ ان کے اسلوب میں دکنی اور مقامی رنگ کا سنگم ہے ۔ان کی غزل میں دکھنی الفاظ اس کثرت سے استعمال ہوئے ہیں کہ اُن پر دہلی کی بجائے دکن اورنگ آباد کے شاعر کا گمان ہوتا ہے۔
آبرو کا زمانہ محمد شاہی زمانہ تھا ۔بادشاہ کو نہ معاشرے کی تنظیمِ و تعمیر سے سروکار تھا نہ امورِ سلطنت اور نہ ہی اس کی حفاظت اور انتظام وانصرام سے کوٸی غرض و غایت تھی۔وہ ہر چیز سے بے نیاز رنگ رلیاں منانے میں مصروف تھا۔ اس کے ساتھ پورا معاشرہ حالتِ مد ہوشی میں تھا۔
ہر طرف رقص و سرور اور موسیقی کی محفلیں گرم تھیں۔ خوش وقتی ، حسن پرستی عاشق مزاجی ، امرد پرستی اورمئے نوشی کے لوازمات کے ساتھ یہ مجلس آرائی، زندگی سے وقتی لذت ، جسمانی لطف و نشاط حاصل کرنے کا ذریعہ تھی۔ آبرو اسی مجلسی زندگی کے شاعر تھے۔ان کا پورا دیوان اسی تہذیب کا آئینہ ہے۔ ایہام گوئی ، رعایتِ لفظی اور روز مرہ کے مشاہدات کا اظہار اسی مجلسی ماحول کا حصہ ہیں۔۔اہلِ مجلس آبرو کی شاعری کو سن کر اپنی یادوں کا لطف لیتے تھے کیوں کہ آبرو ان کے تجربوں کو بیان کرتے تھے۔
کھلا کھلا کر پھول غنچے کی طرح جاتا ہے موند
بے تکلف ہنس کے جب عاشق پہ شرماتا ہے وہ
آبرو نے اپنے کلام میں ا پنے دور کی رنگ رلیوں سےبھری زندگی کی داستانوں کے بیان کےساتھ ساتھ اخلاقیات اور پند و نصائح کا درس بھی دیا ہے تاکہ کچھ دیر کے لیے احساس زندہ ہو۔ جمیل جالبی کہتے ہیں کہ آبرو کےیہاں یہ متضاد رنگ لذت کی یکسانیت کو توڑ کر ذہن کونئے سرے سے مزے کی طرف مائل کرنا ہے ۔
انسان ہے تو کبر میں کہتا ہے کیوں انا
آدم تو ہم سنا ہے کہ وہ خاک سے بنا۔
——–
زنا کے وقت دل کے تھر تھرانے میں ہوا روشن
کہ ایسے وقت میں یارو خدا کا عرش ہلتا ہے
———
شاہ مبار ک آبرو کے دور میں فارسی شاعری کی روایت دم توڑ رہی تھی اور دیسی شاعری کی روایت فنونِ لطیفہ میں تیزی کے ساتھ چھا رہی تھی۔ آبرو وہ شاعر ہیں جنھوں نے اس دور کی روح کو اپنی شاعری میں سمویا اور اردو شاعری کی طرف اپنی پوری توجہ مرکوز کر لی۔
آبرو نے جب شاعری شروع کی تھی اس وقت ان کے سامنے فارسی روایت اور بھا کا شاعری تھی۔ بھاکا گوالیار کا علاقہ تھا۔ آبرو نے اپنی شاعری میں فارسی اور ہندی کی تلمیحات و صنعیات کو برتنے کے ساتھ ساتھ بھاکا کے الفاظ بھی اسی طرح استعمال کیے جیسے عوام میں بولے جاتے تھے۔ آبرو کے کلام کے مطالعےسے معلوم ہوتا ہے کہ فارسی اوردیسی روایتوں کے ملاپ میں دیسی رنگ زیادہ نمایاں ہے ۔فارسی ، ہندی اور بھاکا زبانوں کی روایتوں کو اردو غزل میں شامل کر کے آبرو نے ایک نیا رنگِ سخن ایجاد کیا جس کی تقلید اس دور کے ہر شاعر نے کی۔
آبرو کے کلام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ایک وہ جو ایہام گوئی کی تحریک کے زیرِ اثر کہا دوسرا رد عمل کی تحریک کے بعد کا کلام۔ ایہام گوئی آبرو کے دور کی تہذیب کا حصہ تھی چنانچہ انھوں نے اس تہذیبی تقاضے کو اپنی تخلیقی صلاحیت سے پورا کیا جس سے اردو زبان میں وسعت اور تنوع پیدا ہوا، لفظوں کو معنی اور مفہوم کے ساتھ برتنے ، محاوروں اور ضرب المثل کو سلیقے سے استعمال کرنے کا ہنر آیا۔
آبرو نے ایہام کی جتنی ممکنہ صورتیں ہو سکتی تھیں ان سب کا اپنی شاعری میں اظہار کیا اور شاعری کی اس طرز کو اس دور کا مقبول ترین رجحان بنا دیا۔
ہر ایک سبز ہے ہندوستان کا معشوق
بجا ہے نام بالم رکھا ہے کھیروں کا
بالم (عا شق) بالم( کھیرے کی ایک قسم)
———
ترے اے غنچہ ٕ لب دم کے اثر ہوں
چلم میں ہو گیا ہے گل تمباکو
گُل (پھول) گُل (تمباکو)
———
آبرو کی شاعری کا وہ حصہ جس میں جذبوں کی صداقت اور احساس کی سچائی اثردکھاتی ہے وہ رد عمل کی تحریک کےبعد کی شاعری ہے جس میں حسنِ بیان بھی ہے ،روز مرہ اور محاوروں کی چاشنی بھی ہے۔ ان اشعار کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ شاعر کے دل کی گہرائیوں سے نکلے ہیں۔
شاکر ناجی ،آبرو کی عظمت کا اعتراف یوں کرتے ہیں:
ناجی سخن ہے خوب ترا گرچہ مثلِ شمع
لیکن زباں مزے کی لگی آبرو کے ہاتھ
——
نمونۂ کلام
——
دور خاموش بیٹھا رہتا ہوں
اس طرح حال دل کا کہتا ہوں
——–
قول آبروؔ کا تھا کہ نہ جاؤں گا اس گلی
ہو کر کے بے قرار دیکھو آج پھر گیا
——–
تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے
کہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہے
——–
آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے
راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے
——–
خداوندا کرم کر فضل کر احوال پر میرے
نظر کر آپ پر مت کر نظر افعال پر میرے
——–
تم نظر کیوں چرائے جاتے ہو
جب تمہیں ہم سلام کرتے ہیں
——–
بوساں لباں سیں دینے کہا کہہ کے پھر گیا
پیالہ بھرا شراب کا افسوس گر گیا
——–
اگر دیکھے تمہاری زلف لے ڈس
الٹ جاوے کلیجا ناگنی کا
——–
اس وقت دل پہ کیوں کے کہوں کیا گزر گیا
بوسہ لیتے لیا تو سہی لے کے مر گیا
——–
دکھائی خواب میں دی تھی ٹک اک منھ کی جھلک ہم کوں
نہیں طاقت انکھیوں کے کھولنے کی اب تلک ہم کوں
——–
جلتا ہے اب تلک تری زلفوں کے رشک سے
ہر چند ہو گیا ہے چمن کا چراغ گل
——–
یارو ہمارا حال سجن سیں بیاں کرو
ایسی طرح کرو کہ اسے مہرباں کرو
——–
یوں آبروؔ بناوے دل میں ہزار باتیں
جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوے
——–
دل کب آوارگی کو بھولا ہے
خاک اگر ہو گیا بگولا ہے
——–
مل گئیں آپس میں دو نظریں اک عالم ہو گیا
جو کہ ہونا تھا سو کچھ انکھیوں میں باہم ہو گیا
——–
افسوس ہے کہ بخت ہمارا الٹ گیا
آتا تو تھا پہ دیکھ کے ہم کوں پلٹ گیا
——–
کیوں تری تھوڑی سی گرمی سیں پگھل جاوے ہے جاں
کیا تو نیں سمجھا ہے عاشق اس قدر ہے موم کا
———
کبھی بے دام ٹھہراویں کبھی زنجیر کرتے ہیں
یہ نا شاعر تری زلفاں کوں کیا کیا نام دھرتے ہیں
———
اب دین ہوا زمانہ سازی
آفاق تمام دہریا ہے
———
غم سیں اہل بیت کے جی تو ترا کڑھتا نہیں
یوں عبث پڑھتا پھرا جو مرثیہ تو کیا ہوا
———
ڈر خدا سیں خوب نئیں یہ وقت قتل عام کوں
صبح کوں کھولا نہ کر اس زلف خون آشام کو
———
آغوش سیں سجن کے ہمن کوں کیا کنار
ماروں گا اس رقیب کوں چھڑیوں سے گود گود
———
تمہارے دیکھنے کے واسطے مرتے ہیں ہم کھل سیں
خدا کے واسطے ہم سیں ملو آ کر کسی چھل سیں
———
دل دار کی گلی میں مکرر گئے ہیں ہم
ہو آئے ہیں ابھی تو پھر آ کر گئے ہیں ہم
———
عشق کی صف منیں نمازی سب
آبروؔ کو امام کرتے ہیں
———
جنگل کے بیچ وحشت گھر میں جفا و کلفت
اے دل بتا کہ تیرے مارے ہم اب کدھر جاویں
———
غم کے پیچھو راست کہتے ہیں کہ شادی ہووے ہے
حضرت رمضاں گئے تشریف لے اب عید ہے
———
جب کہ ایسا ہو گندمی معشوق
نت گنہ گار کیوں نہ ہو آدم
———
کم مت گنو یہ بخت سیاہوں کا رنگ زرد
سونا وہی جو ہووے کسوٹی کسا ہوا
———
بیارے ترے نین کوں آہو کہے جو کوئی
وہ آدمی نہیں ہے حیوان ہے بچارا
———
مفلسی سیں اب زمانے کا رہا کچھ حال نئیں
آسماں چرخی کے جوں پھرتا ہے لیکن مال نئیں
———
کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ
لگ چکا اب چھوٹنا مشکل ہے اس کا دل ہے یہ
———
جب سیں ترے ملائم گالوں میں دل دھنسا ہے
نرمی سوں دل ہوا ہے تب سوں روئی کا گالا
———
دلی میں درد دل کوں کوئی پوچھتا نہیں
مجھ کوں قسم ہے خواجہ قطب کے مزار کی
———
ساتھ میرے تیرے جو دکھ تھا سو پیارے عیش تھا
جب سیں تو بچھڑا ہے تب سیں عیش سب غم ہو گیا
———
کیا ہے چاک دل تیغ تغافل سیں تجھ انکھیوں نیں
نگہ کے رشتہ و سوزن سوں پلکاں کے رفو کیجے
———
ترا قد سرو سیں خوبی میں چڑھ ہے
لٹک سنبل سیتی زلفاں سیں بڑھ ہے
———
مل گیا تھا باغ میں معشوق اک نک دار سا
رنگ و رو میں پھول کی مانند سج میں خار سا
———
تم یوں سیاہ چشم اے سجن مکھڑے کے جھمکوں سے ہوئے
خورشید نیں گرمی گری تب تو ہرن کالا ہوا
———
کیوں نہ آ کر اس کے سننے کو کریں سب یار بھیڑ
آبروؔ یہ ریختہ تو نیں کہا ہے دھوم کا
———-
ترا ہر عضو پیارے خوش نما ہے عضو دیگر سیں
مژہ سیں خوب تر ابرو و ابرو سیں بھلی انکھیاں
———-
اک عرض سب سیں چھپ کر کرنی ہے ہم کوں تم سیں
راضی ہو گر کہو تو خلوت میں آ کے کر جاں
———
تمہارے دل میں کیا نامہربانی آ گئی ظالم
کہ یوں پھینکا جدا مجھ سے پھڑکتی مچھلی کو جل سیں
———
تجھ حسن کے باغ میں سریجن
خورشید گل دوپہریا ہے
———
طواف کعبۂ دل کر نیاز و خاکساری سیں
وضو درکار نئیں کچھ اس عبادت میں تیمم کر
———
ترے رخسارۂ سیمیں پہ مارا زلف نے کنڈل
لیا ہے اژدہا نیں چھین یارو مال عاشق کا
———
روونے نیں مجھ دوانے کے کیا سیانوں کا کام
سیل سیں انجہواں کے سارا شہر ویراں ہو گیا
———
سر کوں اپنے قدم بنا کر کے
عجز کی راہ میں نبہتا ہوں
———
ہوا ہے ہند کے سبزوں کا عاشق
نہ ہوویں آبروؔ کے کیوں ہرے بخت
———
اے سرد مہر تجھ سیں خوباں جہاں کے کانپے
خورشید تھرتھرایا اور ماہ دیکھ ہالا
———
جو کہ بسم اللہ کر کھائے طعام
تو ضرر نئیں گو کہ ہووے بس ملا
———
فانیٔ عشق کوں تحقیق کہ ہستی ہے کفر
دم بدم زیست نیں میری مجھے زنار دیا
———
شعر کو مضمون سیتی قدر ہو ہے آبروؔ
قافیہ سیتی ملایا قافیا تو کیا ہوا
———
ہو گئے ہیں پیر سارے طفل اشک
گریہ کا جاری ہے اب لگ سلسلہ
———
تمہارے لب کی سرخی لعل کی مانند اصلی ہے
اگر تم پان اے پیارے نہ کھاؤ گے تو کیا ہوگا
———
محراب ابرواں کوں وسمہ ہوا ہے زیور
کیوں کر کہیں نہ ان کوں اب زینۃ المساجد
———
تمہاری دیکھ کر یہ خوش خرامی آب رفتاری
گیا ہے بھول حیرت سیں پیا پانی کے تئیں بہنا
———
غزل
———
عشق ہے اختیار کا دشمن
صبر و ہوش و قرار کا دشمن
دل تری زلف دیکھ کیوں نہ ڈرے
جال ہو ہے شکار کا دشمن
ساتھ اچرج ہے زلف و شانے کا
مور ہوتا ہے مار کا دشمن
دل سوزاں کوں ڈر ہے انجہواں سیں
آب ہو ہے شرار کا دشمن
کیا قیامت ہے عاشقی کے رشک
یار ہوتا ہے یار کا دشمن
آبروؔ کون جا کے سمجھاوے
کیوں ہوا دوست دار کا دشمن
*****************
حوالہ جات:
1 ۔آبِ حیات از محمد حسین آزاد
2۔تاریخ اردو ادب از نورالحسن نقوی
3۔ اردو ادب کی مختصر تاریخ از ڈاکٹر سلیم اختر
4۔اردو شاعروں کا انساٸیکلو پیڈیا
تاریخ ادب اردو جلد دوم از جمیل الدین عالی
55۔ تاریخ اردو ادب از رام بابو سکسینہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ولی دکنی
سراج الدین خان آرزو