عرفان نقشِ ذات کا، قُدسی صفات کا

عرفان نقشِ ذات کا، قُدسی صفات کا

لائے وہ اپنے ساتھ، صحیفہ حیات کا

 

آمد نے تیری بخشے ہیں تخلیق کے شرَف

انسان تو غُلام تھا لات و منات کا

 

طاعت ہی تیری مژدئہ فوزِ مدام ہے

رکھا گیا ہے مان تری بات بات کا

 

ہوتی نہیں ہے نعت ترے اذن کے بغیر

محتاج ہے خیال ترے التفات کا

 

تیرا ہی ذِکرِ نُور سکینت کی ہے گھڑی

تیرا ہی اسمِ پاک سبب ہے ثبات کا

 

ثمرہ ہے تیرے فیض کا دستِ نمود میں

والی ہے تُو یقین کا اور ممکنات کا

 

صبحِ ازل سے شامِ ابد کے طلوع تک

اظہارِ گونا گوں ہے ترے معجزات کا

 

چشمے بہے ہیں خیر کے انگشتِ نُور سے

توڑا ہے تُو نے ہاتھ سبھی منکرات کا

 

پڑھتا ہُوں مَیں درود برائے امانِ کُل

واللہ! یہ وظیفہ ہے سب مشکلات کا

 

مقصودؔ میری خَلق میں نسبت ہے ربط کی

ذرّہ ہُوں مَیں، مدینے کے ہی شاملات کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پھر نعتِ مصطفیٰؐ پر راغب ہوئی طبیعت
نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا
اے شافع امم شہ ذی جاہ لے خبر
مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دل سے
سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
مری حیات کا گر تجھ سے انتساب نہیں
نعت کیا ہے، سرمدی جذبات کی ترسیل ہے
اللہ کے حبیب شہِ انبیاء کی شان
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے