عطا کر عشق کا رستہ خدایا

عطا کر عشق کا رستہ خدایا

لئے ہوں عرض لب بستہ خدایا

 

کرم کی اب نظر فرمائیے گا

کہ میرا حال ہے خستہ خدایا

 

مقابل نفس ہے کنکر عطا کر

ابابیلوں کا دے دستہ خدایا

 

مرا قلبِ حزیں ہر دم پکارے

ترا ہی نام بر جستہ خدایا

 

بلندی کر عطا اخلاق میں تو

نہ ہوں کردار کا سستا خدایا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس !
واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
نبی کے برابر ہوا ہے نہ ہو گا
آپؐ کے آستاں پہ جاتے ہیں
آپؐ کے آستاں پہ آتا ہوں
وہی محبوب، محبوبِ خُداؐ ہے
خدا کا، عشق محبوبِ خدا کا
واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا