فضا کا ہول نہ ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

فضا کا ہول نہ ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

اگر ہے خوف شکاری کو تو مچان کا ہے

 

میں اُس کو بھولنا تو چاہتا ہوں لیکن پھر

وہ اِک اٹوٹ تعلق جو درمیان کا ہے

 

تمہارے نام کی ناؤ اُتاری ہے دِل میں

بھروسہ ہم کو ہوا کا نہ بادبان کا ہے

 

گذر ہے دھوپ کے صحرا سے اب کے اشعرؔ اور

ہمارے ساتھ فقط سایہ آسمان کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سب توڑ دیں حدود ، مرا دل نہیں لگا
کسی بھی دشت کسی بھی نگر چلا جاتا
کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے
میں کہاں جائوں تیرے در کے سوا
آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر
ای میل E-mail
جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے
تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں
پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے