فضا کا ہول نہ ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

فضا کا ہول نہ ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے

اگر ہے خوف شکاری کو تو مچان کا ہے

 

میں اُس کو بھولنا تو چاہتا ہوں لیکن پھر

وہ اِک اٹوٹ تعلق جو درمیان کا ہے

 

تمہارے نام کی ناؤ اُتاری ہے دِل میں

بھروسہ ہم کو ہوا کا نہ بادبان کا ہے

 

گذر ہے دھوپ کے صحرا سے اب کے اشعرؔ اور

ہمارے ساتھ فقط سایہ آسمان کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ