اردوئے معلیٰ

لیے رخ پہ نوری نقاب آگئے ہیں

لیے رخ پہ نوری نقاب آ گئے ہیں

جنابِ رسالت مآب آ گئے ہیں

 

مقفّل ہوا جن پہ بابِ رسالت

وہ آقائے عزت مآب آ گئے ہیں

 

اشارہ ملا اس طرح حاضری کا

کہ شہرِ مدینہ کے خواب آ گئے ہیں

 

یہ ارض و سما جن کے صدقے بنے ہیں

دو عالم کے وہ انتساب آ گئے ہیں

 

سرِ عرش رونق ہے شاداں ہیں قدسی

حبیبِ خدا وہ جناب آ گئے ہیں

 

اندھیروں سے کہہ دو کہ خورشیدِ بطحا

لئے نکہتوں کا نصاب آ گئے ہیں

 

لکھا نامِ نامی جو منظرؔ نے ان کا

تو اعراب مثلِ گلاب آ گئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ