مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی

 

مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی

زمانے میں یوں میری شہرت نہ ہوتی

 

ثنا خوان ہوں آپؐ کا میرے آقاؐ

وگرنہ مری ایسے عزت نہ ہوتی

 

ملا ہے یہ سب آپؐ کے واسطے سے

نہ قرآن ہوتا ، تلاوت نہ ہوتی

 

اگر آپؐ مبعوث ہوتے نہ ہم پر

جہاں میں خدا کی عبادت نہ ہوتی

 

پجاری تھی دنیا شجر ، پتھروں کی

نہ آتے اگر آپؐ وحدت نہ ہوتی

 

مرے آپؐ ہیں اور میں آپ کا ہوں

ہوں جب آپؐ کا ، کیوں عنایت نہ ہوتی

 

اگر نعت کہتا نہ صلِّی علیٰ میں

تو شاعر نہ ہوتا ، سعادت نہ ہوتی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وردِ زباں ہے جب سے رسولِ خدا کا نام
خدا نے خود لکھی قرآن میں مدحت محمد کی
رحمتِ محبوبِ داور ہوگئی
حسنِ بے مثل کا اِک نقشِ اُتم ہیں، واللہ
کوئے یثرب کو مسیحا کہہ دیا تو ہو گیا
مَیں کم طلب ہوں پہ شانِ عطا تو کم نہیں ہے
ہر سمت تذکرے ہیں تمہارے کمال کے
شہرِ امکان میں وہ ساعتِ حیرت آئے
اے خدائے ہر دوعالم بہر حسان رسول
صبیح آپ ، صباحت کی آبرُو بھی آپ

اشتہارات