مجھے بھی بلایا ہے ، الحمد للہ

مجھے بھی بلایا ہے ، الحمد للہ

کرم کا وہ سایہ ہے ، الحمد للہ

 

مدینہ سے مکہ کیا ہے سفر بھی

بڑا لطف آیا ہے ، الحمد للہ

 

ملے جس پہ چل کر ہمیں اس کی جنت

وہ رستہ دکھایا ہے ، الحمد للہ

 

پرندوں سے پھولوں سے اشجار سے اک

چمن بھی سجایا ہے ، الحمد للہ

 

اطاعت محمد ، خدا کی اطاعت

یہ قرآں میں آیا ہے، الحمد للہ

 

محمد کو بھیجا تو احساں جتایا

ہمیں خود بتایا ہے ، الحمد للہ

 

خلیل اس خدا کا کرو شکر ہر دم

مسلماں بنایا ہے ، الحمد للہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تو ہے مشکل کشا، اے خدا، اے خدا
تو ہست تو ہی بود، تیری ذات لاشریک ​
خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاؤں میں تھا
سرورِ قلب و جاں، اللہ ہی اللہ
خداوندا! ہمیں صدق و صفا دے
خدا کی عظمتوں کے ہیں مظاہر سمندر، کوہ و بن، صحرا بیاباں
خُدا ہی خالقِ کون و مکاں ہے
خدا کا نُور برسے ہر زماں میں ہر جہاں میں
نہ مال و زر، نہ تاج و تخت مانگو
تو اپنی رحمتوں کا ابر برسا، خداوندا تو ہم پہ رحم فرما