مجھے نعت نے شادمانی میں رکھا

مجھے نعت نے شادمانی میں رکھا

کہ مصروف شیریں بیانی میں رکھا

 

میں لکھتا رہا نعت اور حق نے شب بھر

قمر کو مری پاسبانی میں رکھا

 

نہیں اختیار اب سے کی نعت گوئی

یہی شغل ہم نے جوانی میں رکھا

 

در مصطفی کی ملے گر گدائی

تو پھر کیا ہے صاحب قرانی میں رکھا

 

محمد کو بے سایہ حق نے بنایا

یہ پہلا نشان نقش ثانی میں رکھا

 

جو ذرہ اڑا شاہ کی گرد قدم کا

زمانے نے تاج کیانی میں رکھا

 

ق

 

نہ کر آفتاب فلک اتنا غر

کہ تجھ کو بھی ہے دار فانی میں رکھا

 

بظاہر تو جلتا ہے پر حیف تیرا

نہیں حصہ سوز نہانی میں رکھا

 

در حضرت مصطفی تجھ کو بخشا

تجھے منزل آسمانی میں رکھا

 

تو ہے دربدر گردش آسماں سے

مجھے حلقہء مہربانی میں رکھا

 

ق

 

نہ کر شور اے بلبل گل فسانہ

ہے کیا تیری اس لن ترانی میں رکھا

 

میں ہوں نعت گو میرا رتبہ بڑا ہے

نہیں کچھ تری ہم زبانی میں رکھا

 

خدا نے کیئے جب کہ تقسیم رتبے

تو یوں سب کو پھر قدر دانی میں رکھا

 

کہ آدم کو فخر ملائک بنا کر

انہیں جنت جاودانی میں رکھا

 

بڑی عمر نوح نبی کو عطا کی

سلامت جو طوفاں سے پانی میں رکھا

 

دیا خضر کو چشمہء آب حیواں

براہیم کو باغبانی میں رکھا

 

دیا حسن بے مثل یوسف کو اس نے

سلیمان کو حکمرانی میں رکھا

 

دم زندگی بخش عیسی کو بخشا

تو موسی کو خوش لن ترانی میں رکھا

 

محمد کو بھیجا جو آخر خدا نے

انہیں رتبہء لامکانی میں رکھا

 

مرے منہ سے منظور تھی نعت حضرت

مجھے فرد رطب اللسانی میں رکھا

 

زرا نقشہء نعت کا کر نظارا

ہے کیا نقش بہزاد و مانی میں رکھا

 

بہار ریاض ثنائے نبی نے

دہن کو مرے گل فشانی میں رکھا

 

نبی کے ہوئے نعت گو دو برابر

کہ دونوں کو اک مدح خوانی میں رکھا

 

ہے حسان پہلا تو میں دوسرا ہوں

نہیں فرق اول میں ثانی میں رکھا

 

خدا نے اسے سونپی محفل عرب کی

مجھے بزم ہندوستانی میں رکھا

 

اسے سیر دکھلائی دشت بیاں کی

مجھے غرق بحر معانی میں رکھا

 

میں کوثر سے پنجاب میں آیا یارو

مجھے حق نے پانی ہی پانی میں رکھا

 

لکھیں کوثری عمر بھر ہم نے نعتیں

نہ کچھ اور غم زندگانی میں رکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ