مسافرعشق کا ہوں اور مری منزل مدینہ ہے

مسافر عشق کا ہوں اور مری منزل مدینہ ہے

اے بحرِ بے کراں سن لے مرا ساحل مدینہ ہے

 

میں نعتِ مصطفٰی لکھتا ہوں ، چشمِ نم سے پڑھتا ہوں

مرے افکار اور اشعار کا حاصل مدینہ ہے

 

گلستانِ زمیں پر شہر سب مانند پھولوں سے

مگر سرکارؐ کی مہکار کا حامل مدینہ ہے

 

عجم میں رہ کے بھی سرکارؐ کرتا ہوں زیارت میں

میں آنکھیں بند کر کے دیکھ لوں تو دل مدینہ ہے

 

مرے مالک ترے کُن کا کمالِ حُسن ایسا ہے

جہانِ خوشنما چہرہ اگر ہے تِل مدینہ ہے

 

عطا سرکارؐ کا تجھ پر کرم ہے نعت لکھتا ہے

مزہ لیکن سنانے کا ہے تو محفل مدینہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعت تب ہوتی ہے جب دل پہ ہو تنزیل کوئی
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
لیے رخ پہ نوری نقاب آگئے ہیں
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
بدرِ حرا طلوع ہوا ظلمتوں کے بیچ
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
لمعۂ عشقِ رسول ، عام ہے اَرزاں نہیں
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات