اردوئے معلیٰ

مسافرعشق کا ہوں اور مری منزل مدینہ ہے

مسافر عشق کا ہوں اور مری منزل مدینہ ہے

اے بحرِ بے کراں سن لے مرا ساحل مدینہ ہے

 

میں نعتِ مصطفٰی لکھتا ہوں ، چشمِ نم سے پڑھتا ہوں

مرے افکار اور اشعار کا حاصل مدینہ ہے

 

گلستانِ زمیں پر شہر سب مانند پھولوں سے

مگر سرکار کی مہکار کا حامل مدینہ ہے

 

عجم میں رہ کے بھی سرکار کرتا ہوں زیارت میں

میں آنکھیں بند کر کے دیکھ لوں تو دل مدینہ ہے

 

مرے مالک ترے کُن کا کمالِ حُسن ایسا ہے

جہانِ خوشنما چہرہ اگر ہے تِل مدینہ ہے

 

عطا سرکار کا تجھ پر کرم ہے نعت لکھتا ہے

مزہ لیکن سنانے کا ہے تو محفل مدینہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ