اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر اور ادیب پروفیسر مظفر حنفی کا یوم پیدائش ہے

مظفر حنفی(پیدائش: 1 اپریل 1936ء – وفات: 10 اکتوبر 2020ء)
——
محمد ابو المظفر المعروف بہ پروفیسر مظفر حنفی اردو زبان کے شاعر، ادیب اور نقاد تھے، جنھوں نے شاعری، کہانیاں، طنز، تحقیق، بچوں کے ادب اور تراجم پر کام کیا ہے۔
پروفیسر مظفر حنفی کا اصل نام محمد ابو المظفر تھا، ان کا آبائی وطن صوبہ اتر پردیش کا "فتح پور ہنسوہ تھا لیکن ان کی پیدائش صوبہ مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا میں یکم اپریل سنہ 1936ء کو ہوئی، جہاں ان کے والد عبد القدوس صدیقی ایک سرکاری اسکول میں استاد تھے۔
ابتدائی تعلیم 1940ء میں مدھیہ پردیش کے کھنڈوا اردو اسکول سے شروع ہوئی لیکن 1941ء میں نانیہال "ایرایاں، ضلع فتحپور ہوپی منتقل ہو گئے اور وہاں تعلیم جاری رہی۔ 1946ء میں مڈل اسکول سے ساتویں جماعت اول درجہ سے پاس کیا۔ 1947ء میں دوبارہ کھنڈوا آئے اور وہاں کے ایم ایم اینگلو اسکول میں آٹھویں جماعت میں ضلع کے تمام اسکولوں میں پہلی پوزیشن سے پاس کیا۔ پھر نویں، دسویں اور گیارہویں جماعت کھنڈوہ ہی کے سبھاش ہائی اسکول سے مکمل کرنے کے بعد 1952ء میں ناگپور سکینڈری تعلیمی بورڈ سے ہائر سکینڈری امتحان میں دوسری پوزیشن سے پاس کیا، ادیب ماہر کا امتحان جامعہ اردو علی گڑھ سے دیا، بعد ازاں والد صاحب نے فتحپور سرکاری کالج میں داخل کرا دیا۔
1955ء میں بھوپال کے محکمہ تعلیمات میں تقریباً تین سال تک بحیثیت استاذ ملازمت کی، اس کے بعد شادی کی۔ اس کے ایک سال بعد محکمہ جنگلات میں ملازمت اختیار کر لی۔ البتہ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا، سیہور سرکاری کالج سے ایل ایل بی اور 1971ء میں سیفیہ کالج بھوپال سے ایم اے مکمل کیا۔ اس کے بعد 1973ء میں برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال سے "شاد عارفی” پر سال بھر میں تحقیقی مقالہ مکمل کر کے پی ایچ ڈی مکمل کی۔
پروفیسر حنفی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات سے کیا تھا، تاہم اس دوران تعلیم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد 1974ء میں دہلی گئے اور وہاں NCERT (نیشنل کونسل فار ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ) میں اسسٹنٹ پروڈکشن آفیسر کے طور پر شامل ہوئے۔ 1976ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی میں لیکچرر بنے۔ 1989ء میں کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں مدعو کیا اور اقبال چیئر پروفیسر کے نام سے ایک معروف عہدے کی پیشکش کی۔
——
یہ بھی پڑھیں : عبد الحمید عدم کا یوم وفات
——
اقبال چیئر کم از کم 12 سال سے خالی تھی اور پروفیسر مظفر حنفی کو پہلی بار 1989ء میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ وہ 2001ء میں اقبال چیئر کے پروفیسر سے ریٹائر ہو کر دہلی واپس چلے گئے۔ جہاں انہوں نے باقاعدہ شعر و ادب کی خدمت کے لیے خود کو فارغ اور وقف کیا۔
——
مظفر حنفی ” یا اخی ” کی روشنی میں از آل احمد سرور
——
میں نے جب مظفر حنفی کے نئے مجموعہ غزلیات ” یا اخی ” کے کچھ اوراق دیکھے تو بے ساختہ سعادت حسن منٹو کے مجموعہ مضامین ” تلخ ، ترش ، شیریں ” کی یاد آئی ۔ میرا خیال ہے کہ ان کے مجموعہ کا یہ نام بھی ہو سکتا تھا ۔
مظفر حنفی جدید اردو غزل کا ایک معتبر نام ہے ۔ کوئی ایسا ہم ادبی رسالہ نہ ہو گا جس میں ان کا کلام شائع نہ ہوتا ہو ۔ ان کی تصانف کی تعداد بھی خاصی ہے ۔ شاد عارفی کی شخصیت اور فن پر ان کی کتاب ارباب نظر سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے ۔ جدید غزل کے جلوۂ صد رنگ میں ان کی کرنوں کی روشنی اور گرمی سے کون واقف نہ ہو گا۔
کسی شاعر کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ خود شاعر کے اپنے اعترافات کو سب سے پہلے دیکھا جائے ۔ مظفر حنفی کے یہ اشعار اس سلسہ میں ہماری خاصی رہنمائی کرتے ہیں ۔
——
شعروں کے یہ تیر مظفرؔ چڑھی کمانیں غزلوں کی
تم جس لہجے میں کہتے ہو شمشیر اور سناں کیا ہے
——
زمین تو سخت ہے مظفرؔ تمہاری مگر غزل کا لہجہ
رواں دواں آبشار جیسا طیور کی خوش نوائی سا کچھ
——
ہاں مظفرؔ کی غزل ہے تو جدید
اے روایت کے امیں سن تو سہی
——
قلم کو تیز مظفرؔ غزل کو تیغ کرو
نہ باز آئے گی دنیا تمہیں ستانے سے
——
اے مظفر ترے اشعار لہو میں تر ہیں
سوچ پر خون کی بوچھار ، عدو ہے کہ اخی
——
نہ پوچھئیے کہ یہ لہجہ کہاں کا حصہ ہے
کھری زبان مرے جسم و جاں کا حصہ ہے
لہو کی بوند ہر اک لفظ کو عطا دل کی
بقیہ سب مری طبعِ رواں کا حصہ ہے
——
اور یہ شعر بھی غور طلب ہے :
——
مری زمین رہی آسماں پہ چھائی ہوئی
مگر غزل کی کمائی کوئی کمائی ہوئی
——
یعنی یہ شعروں کے تیروں اور غزلوں کی چڑھی کمانوں ، یہ سخت زمین اور رواں دواں آبشار کا سا لہجہ ، یہ لہو میں تر اشعار ، یہ کھری زبان ، یہ دل کے لہو کی بوند ، یہ آسمان پہ چھائی ہوئی زمین یہ سب باتیں ، مظفر حنفی کے لہجے ، ان کی کھردری تیغ کی سی تیزی رکھنے والی زبان کے متعلق کیا کچھ نہیں کہتیں ۔
ان کے اشعار میں دھیمی دھیمی بہنے والی جوئے آب کی سی سوئی ہوئی روانی نہیں ہے پہاڑی چشمے کی سی تند و تیز لہر ہے ۔
ان کے اشعار میں تلوار کی کاٹ ہے ۔ ایک برہم نوجوان کے لہجے کی تلخی ہے ۔ اس میں کچھ توڑنے اور پھر کچھ جوڑنے کی بات بھی ہے ۔
اس میں بگاڑ اور نئے سرے سے بناؤ کی داستان بھی ہے اور اس میں غزل کی کمائی سے کچھ نا آسودگی کی آہٹ بھی ۔
یہ ایک سرکش روح کی کہانی ہے اور ایک باغی کا خواب ۔
زندگی کا کتنا زہر پی کر یہ امرت حاصل ہوا ہے ۔
مظفر حنفی کے شعر پڑھئیے تو شاد عارفیؔ کا خیال ضرور آتا ہے ۔ فرق اتنا ہے کہ شادؔ کے یہاں طنز کی کاٹ زیادہ تھی ۔ پھر بھی شادؔ کا لہجہ مظفرؔ کے یہاں جھلک ہی جاتا ہے :
——
شریعت نہ فرما ، تصوف نہ کر
محبت میں گردن کٹا ، اُف نہ کر
——
بلا سے بجھے یا بڑھے تشنگی
سمندر کو آداب کرتے رہو
——
عشق کرنا کوئی ضروری نہیں
شعر کہہ لیں گے نازنینوں پر
——
میں نے جدید غزل کو ایک جلدہ صد رنگ کہا تھا لیکن اس میں کسی سرخ سویرے کے خواب کی بجائے خواب اور حقیقت کی کشمکش اور دونوں کی شکست و ریخت ، شخصیتوں کا دونیم ہونا ، انجمن میں تنہائی کا احساس ، سیاست کے طلسم ، بھیس بدل بدل کر آنے والے لات و منات ، سفید رنگوں کے علاوہ میلے مٹیالے رنگوں کا عرفان ، فرشتوں میں شیطان اور شیطانوں میں فرشتے ، ترقی کی برکتوں کے ساتھ اس کی لعنتوں کا احساس ، گنجان شہروں کی تعمیر میں فطرت کے خزانے کی پامالی ، عقلیت کی بنیادوں میں زلزلہ ، زندگی کی لغویت لامعنویت کا احساس ، صارفیت کی آمریت ، عرض دیکھتے دیکھتے تغیرات کا ایک بھیانک اور روح فرسا منظر اور ان سب کے ساتھ انسان کے اندر امید کی وہ کرن ، دردمندی اور دلسوزی ، دل دہی اور دلداری کے وہ جلوے جو اس جہنم کو بھی گوارا بناتے ہیں ، ہمارے جدید شعراء کے یہاں اپنے اپنے اسلوب ، انداز ، لہجے ، طرز میں مل جائیں گے ۔ پھر سوال یہ ہو گا کہ مظفر حنفی کا طرز یا اسلوب کیا ہے ، ان کی انفرادیت کس بات میں ہے ، ان کی ہچان کیا ہے ؟ اس سوال کے جواب میں ان کی غزل ملاحظہ فرمائیں :
——
ڈوب جاتا ہے یہاں تیرنا آتا ہے جسے
وہ کبھی ناؤ تھی دریا لیے جاتا ہے جسے
تیرا سایہ ہے لرزتا ہے جسے دیکھ کے تو
اور آئینہ ہے ، تو یہ آنکھ دکھاتا ہے جسے
باغباں بھی ہے یہی وقت یہی گل چیں بھی
توڑ لیتا ہے وہی پھول اُگاتا ہے جسے
ساری ہستی پہ نہ لے آئے وہ آفت کوئی
کون ہے کوہِ ندا روز بلاتا ہے جسے
ہم تو خوشبو کی طرح خود ہی بکھر جاتے ہیں
تم وہ دیوار کہ مزدور اٹھاتا ہے جسے
ٹوٹتے رشتے بھی اس درد سے جُڑ سکتے ہیں
آدمی پاؤں کی زنجیر بناتا ہے جسے
یہ چمکتی ہوئی آنکھیں یہ دمکتے ہوئے لب
ہے کوئی بات مظفرؔ سے چھپاتا ہے جسے
——
زندگی کے تضادات ، وقت کی چیرہ دستیوں ، بلاؤں اور آفتوں کے ستم ، پابندیوں میں آزادی ، جذبات کی اپنی منطق ، غرض مظفرؔ ان اشعار میں زندگی کے عجائبات کے ساتھ اس کے امکانات دیکھنے دکھانے پہ بھی قادر ہیں ۔
ان کے یہاں نئی ردیفوں اور بقول ناسخؔ ” ریختے کی نئی دیوار ” کے ساتھ ، قدرتِ کلام کے ساتھ ، مضامین کی جدت کے ساتھ ایک تازگی اور شعریت کا بھی احساس ہوتا ہے ۔
کھردرے پن پر بھی اور کہیں کہیں بیزاری کے باوجود گھلاوٹ اور شیرینی ملتی ہے ۔ اس لیے میں نے شروع میں ان کے کلام کی خصوصیت کو واضح کرنے کے لیے ، تلخ ، تند ، شیریں کی عبارت ، اشارت اور ادا سے کام لیا تھا ۔
یہ اشعار بھی دیکھئیے :
——
غزل کو سینچے کا استعارے توڑنے کا
اٹھو کہ وقت یہی ہے ستارے توڑنے کا
خود اپنے آپ کو پایاب کرتی رہتی ہے
عجب جنوں ہے ندی کو کنارے توڑنے کا
——
سچ بولنے لگے ہیں کئی لوگ شہر میں
دیواریں اٹھ رہی ہیں نئے قید خانے کی
——
ہمارا کیا مجسم پیاس ہیں ہم
وہی پانی وہی برتن ہمارا
——
کیسے مر مر کے چکاتے ہیں ہر اک سانس کے دام
لوگ جینے کے بہانے تو بنا لیتے ہیں
——
جذبہ سیر نہیں ہو پاتا اور اُبل پڑتے ہیں شعر
بچے ماں کی انگلی کھینچے آگے آگے چلتے ہیں
——
اس کو مرہم ، اس کا غازہ میرے شعر
کھٹے میٹھے تازہ تازہ میرے شعر
——
مٹی اور پسینہ مل کر خوشبو دینے لگتے ہیں
یوں سب کو مٹی ہونا ہے عالم کیا اور جاہل کیا
——
چلے تھے کارواں کے ساتھ پھر مُڑ کر نہیں دیکھا
پشیماں کس قدر ہیں ، آ کے منزل پر اکیلے ہم
——
اور دنیا کا وہ سلوک ، ہمارا وہ زہر خند
انمول آنسوؤں کا لُٹاتے خزانہ کیوں
——
زمین ہم کو جکڑتی ہوئی قدم بہ قدم
ہم آسمانوں کو زیرِ کمند کرتے ہوئے
——
ہم بھوک اگاتے ہیں کھیتوں میں ہمارے گھر
سبزی بھی نہیں پکتی ، چاول بھی نہیں بنتے
——
اس شعر کو پڑھنے کے بعد فیضؔ کی نظم ” موضوعِ سُخن ” کا وہ شعر یاد آجاتا ہے :
——
وہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا
کس لیے ان میں فقط بھوک اُگا کرتی ہے
——
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فیضؔ نے یہ شعر کہا تھا تو جگر صاحب علی گڑھ میں تھے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ فیضؔ نے بھوک اُگنا کہہ کر غلطی کی ہے ۔
میں نے عرض کیا کہ یہ وہی غلطی ہے جو اصغر صاحب کے مصرعے ” چمک رہا ہے مژہ پر ستارۂ سحری ” میں ہے ۔ یعنی استعارے کی توسیع ۔
جگر صاحب منصف مزاج آدمی تھے ۔ انہوں نے میری بات مان لی اور فیضؔ پر اعتراض واپس لے لیا ۔
سوچئیے مظفرؔ صاحب نے کس طرح فیضؔ کے چراغ سے چراغ جلایا ہے ۔
عرصہ ہوا سیماب اکبر آبادی نے کہا تھا :
——
کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے
——
مظفر حنفی نے اپنے طور پر یہی بات کہی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ یہاں بھی اپنی انفرادیت قائم رکھی ہے :
——
جیسے غزلوں میں شامل ہو ہر پڑھنے والے کی سوچ
یہ فانوس مظفرؔ صاحب کیا کیا رنگ بدلتے ہیں
——
قاری اساس تنقید کے علمبردار یقیناََ مظفر صاحبؔ کے اس شعر پر مسرور ہوں گے ۔ مظفر حنفی کی غزلوں کا یہ مجموعہ جدید غزل کے تلخ ، ترش اور شیریں عناصر کی بڑی اچھی نمائندگی کرتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اربابِ نظر اس کا پر جوش خیر مقدم کریں گے
——
آل احمد سرور 1997 ء بادبان کراچی
بحوالہ کتاب : مظفر حنفی ایک مطالعہ مصنف : فیروز مظفر صفحہ نمبر 31
——
منتخب کلام
——
منزل ونزل ہم کیا جانیں ، چلنا ہے سو چلتے ہیں
ہمت چور ، ڈگر انجانی ، ڈگمگ پاؤں ، پھسلتی ریت
——
کچھ قدر نہیں آج کی دنیا میں ہماری
ہیرا ہیں مگر غم کی انگوٹھی میں جڑے ہیں
——
ایسے میں کیا پیار پنپتا ، پانی میں کیا گلتی رہت
تو گہرے ساگر کا موتی ، میں ساحل کی جلتی ریت
——
ٹھپہ لگا ہوا ہے مظفرؔ کے نام کا
اس کا کوئی بھی شعر کہیں سے بھی اٹھا کے دیکھ
——
ملا جو سایہ تو دیوار آ پڑی سر پر
جہاں کھلا تھا کوئی در ، بلا نکلتی تھی
——
فنا کی چار دیواری یہاں بھی ہے وہاں بھی ہے
مکینوں کے لیے آسیب کس گھر میں نہیں رہتا
——
اس وقت جب طلسمِ فلک ٹوٹنے کو تھا
ایسا ہوا کہ مجھ کو بلانے لگی زمیں
——
پھول میلا سا لگا کر مرے گھر آنگن میں
در و دیوار پہ وحشت کا بیاباں لکھنا
——
ہمارے شہر میں انصاف کا یہ عالم ہے
کہ تیر کھا کے بھی کوئی دہائی دیتا نہیں
——
ہر چند کہ آئین میں تحریر نہیں ہے
آزادیٔ گفتار پہ تالے ہیں عزیزو
——
کھل گئے پھول لفافے پہ ترے نام کے گرد
رقص کرتا ہے قلم زیر و زبر میں کیسے
——
سائے مچل رہے ہیں چراغوں کی گود میں
سمجھے تھے ہم کہ گھر سے اندھیرا نکل گیا
——
ہونے لگا ہے ماں کی دعا میں اثر غلط
بیٹی تو گھر میں بیٹھی ہے بیٹا نکل گیا
——
ایسے میں گھر سے باہر ہے ، یا گھر میں بیٹے کا فرض
باغی باپ کہیں زنداں میں ، ماں دیوانی گھر میں ہے
——
اوپر بوڑھے ہاتھ اٹھائے سوکھتے تھے دو چار درخت
پہلے ان پر بجلی ٹوٹی ، ویسے بادل برسا بھی
——
بچوں کا نہیں ذکر کہ تہذیب و ادب سے
بیگانہ ہیں کچھ اہلِ ادب تک مرے مولا
——
یہ بات دشمنوں سے نہیں دوستوں سے پوچھ
یکلخت ہم پہ بند ہوا آب و دانہ کیوں
——
قریب آؤ کہ مہندی رچی ہتھیلی پر
ستارہ دیدۂ نمناک سے اتارا جائے
——
کیا دیر ہے مجھ کو بھی اجازت ہو رجز کی
حرف آنے لگا نام و نسب تک مرے مولا
——
سرخ آندھی نے بڑا شور مچایا کل رات
گھر بنائے ہیں پرندوں نے شجر میں کیسے
——
بس کہہ دیا ہم نہ چلیں گے کسی کے ساتھ
پیچھے پلٹ کے دیکھ رہا ہے زمانہ کیوں
——
اِک دل میں نہاں سیکڑوں غم رکھتا ہوں
شعلہ ہوں مگر آنکھوں کو نم رکھتا ہوں
دنیا مرے زخموں پہ چھڑکتی ہے نمک
مجبور ہوں کاغذ پہ قلم رکھتا ہوں
——
موسم کے تقاضے پہ ذرا سوچو نا
انجام ہے مطلع کا مکدر ہونا
کھانے کی کوئی چیز اُگا لو پہلے
پھر شوق سے کھیتوں میں ستارے بونا
——
یوں ہی شعلے کو ہوا دیتا جا
اپنے ہونے کا پتہ دیتا جا
بے رُخی یوں نہ برت کام کے بعد
کچھ نہیں ہے تو دعا دیتا جا
چوٹ دینے میں بھی کچھ لگتا ہے
تو بھی کچھ نامِ خدا دیتا جا
سنگریزوں کا بھی حق ہے تجھ پر
خون ، اے آبلہ پا دیتا جا
سربلندی تو مری فطرت ہے
سر جھکاتا ہوں سزا دیتا جا
پھول ہاتھ آئیں تو رکھ دامن میں
اور کانٹوں کو قبا دیتا جا
کوئی دروازہ تو وا ہو گا ہی
سوچ لے اور صدا دیتا جا
سارے خط میں تجھے لوٹا دوں گا
تو مجھے خواب مرا دیتا جا
تلخ لہجہ ہے غزل کی خوشبو
شعر کو رنگ نیا دیتا جا
——
مت پوچھئیے کہ راہ میں بھٹکا کہاں کہاں
روشن میں میرے نقشِ کفِ پا کہاں کہاں
تِریاک اپنے زہر کا اپنے ہی پاس تھا
ہم ڈھونڈتے پھرے ہیں مداوا کہاں کہاں
لمحوں کے آبشار میں اک بلبلہ ہوں میں
کیا سوچنا کہ جائے گا جھرنا کہاں کہاں
تکیے پہ محوِ خواب ، تہہِ تیغ ہے کہیں
لَو دے رہا ہے شعر ہمارا کہاں کہاں
پَر سوختہ ہیں ، رات بڑی ، فاصلے بہت
لاکھوں چراغ ، ایک پتنگا کہاں کہاں
سائے میں بیٹھنے کی جگہ سوچتے ہیں ہم
پہنچا نہیں درخت کا سایا کہاں کہاں
چُوڑی کا ایک ریزہ چُبھا تھا کہیں اُسے
میں ایک زخم چُوم رہا تھا کہاں کہاں
تھے ہر صدف میں اشکِ ندامت بھرے ہوئے
کاٹے گئے ہیں دستِ تمنا کہاں کہاں
اک گردِباد ہے کہ مظفرؔ مری انا
مجھ کو اُڑائے گا یہ بگولا کہاں کہاں
——
کچھ نہ کچھ آنکھ کے محور سے نکل آئے گا
اور منظر پسِ منظر سے نکل آئے گا
سر بکف موج کے رہوار پہ پھرتا ہے ، حباب
ٹوٹ جائے تو سمندر سے نکل آئے گا
یوں ہی لیٹے رہو وِسواس کی چادر اوڑھے
نیند کا سایہ اسی ڈر سے نکل آئے گا
روشنی جمع کرو رات کٹے یا نہ کٹے
کچھ اُجالا تو مرے گھر سے نکل آئے گا
نشۂ زہر اترتے ہی سویرے ہر شخص
کینچلی چھوڑ کے بستر سے نکل آئے گا
آپ کیوں اُس کی روانی میں مخل ہوتے ہیں
خون پھر خون ہے پتھر سے نکل آئے گا
ایک تصویر بناتا ہوں کسی کی بھی ہو
نقش میرا اسی پیکر سے نکل آئے گا
دیکھ اس جذبۂ پامال کو آسودہ کر
ورنہ یہ سینگ ترے سر سے نکل آئے گا
کوئی زحمت نہ کرے غازۂ فردا کے لیے
رنگ اشعارِ مظفرؔ سے نکل آئے گا
——
پھر برف کی چوٹی سے اُگی آگ مرے بھائی
زنجیر ہلاتی ہے ہوا ، جاگ مرے بھائی
فردوس کی تخلیق میں اُلجھے ہیں ترے ہاتھ
لپٹا ہے مرے جسم سے اِک ناگ مرے بھائی
پرچھائیاں دم سادھے ہوئے رینگ رہی تھیں
گرتے ہوئے پتوں نے کہا بھاگ مرے بھائی
فرصت ہی کسے ہے کہ سنے پیار کے نغمات
تو نے بھی کہاں چھیڑ دیا راگ مرے بھائی
آ اور قریب اور قریب اور قریب آ
باقی نہ رہے اور کوئی لاگ مرے بھائی
کہتے ہیں درِ توبہ ابھی بند نہیں ہے
اس بات پہ بوتل سے اُڑے کاگ مرے بھائی
کل تک تو مظفرؔ نے غزل اوڑھ رکھی تھی
اب کون سمیٹے گا یہ کھڑاگ مرے بھائی
——
جتنی متاعِ درد تھی ہم نے سمیٹ لی
چادر پھر اس کے دستِ کرم نے سمیٹ لی
لازم ہیں برگ و بار پہ لاؤں کہاں سے میں
ساری نمی تو دیدۂ نم نے سمیٹ لی
چلنے میں منہمک ہوں مجھے کچھ خبر نہیں
کتنی زمین نقشِ قدم نے سمیٹ لی
جب خاکدانِ دل سے رہا کر دیا گیا
سب کائنات آتشِ غم نے سمیٹ لی
شہہ رگ مری کُھلی تھی سخی ہاتھ کی طرح
جو بوند گر پڑی وہ قلم نے سمیٹ لی
لوگوں کے پاس دولتِ کونین ہے تو ہو
مٹھی میں ریت میرے بھرم نے سمیٹ لی
بے شک جہاں نمائی کرے گی مری غزل
جاگیر تھی کہ ساغرِ جم نے سمیٹ لی
——
شعری انتخاب بحوالہ کتاب : تیزاب میں تیرتے پھول
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات