اردوئے معلیٰ

معید مرزا کا یوم پیدائش

آج نوجوان شاعر معید مرزا کا یوم پیدائش ہے

معید مرزامعید مرزا 18 دسمبر 1990 میں ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔
انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے 2010 – 2014 میں انجینئرنگ کی۔
آجکل شارجہ(متحدہ عرب امارات) میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں اور سول انجینئر کی جاب کررہے ہیں۔
معید مرزا نے شاعری کا آغاز 2013 سے کیا، آپ کی پسندیدہ صنف غزل ہے اس کے علاوہ نظم، عشرہ میں بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں اور بڑی خوبصورتی سے نبھاتے بھی ہیں، آپ غزل کو مختلف رنگ سے "پینٹ” کرنے کے ہنر سے واقف ہیں، آپ بڑی بحروں میں اشعار کہنے کو اپنا آسان اظہاریہ سمجھتے ہیں اور "” ردیف ” کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے بھی ہیں۔
آئیے چلتے ہیں معید کی غزلوں کی طرف اور لطف اندوز ہوتے ہیں
———-
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اور ناول نگار مرزا محمد ہادی رسوا کا یوم وفات
———-
منتخب کلام
———-
تکیہ لگا کے بیٹھ کر بان کی چارپائی پر
تبصرہ کر رہے ہیں لوگ اللہ تری خدائی پر
نوکری ڈھونڈنے ادھار لے کے چلا تو جاؤں میں
باتیں کریں گے سارے لوگ بوجھ پڑے گا بھائی پر
گاؤں کے لوگ آج بھی اس کو امیری کہتے ہیں
کھانا الگ چٹائی پر … پڑھنا الگ چٹائی پر
اپنے قدم سنبھال کر سبزے کو روندتے چلو
بس ذرا دھیان یہ رہے پاؤں پڑے نہ کائی پر
ان کے تو بچے بھوک کے مارے تڑپ رہے ہیں گھر
کس نے تجھے کہا تھا یار شرط لگا لڑائی پر
اس پہ کبھی کیا ہے غور فلم سے زندگی ہے اور
کیسے یقین کر لیا تم نے سنی سنائی پر
آب و ہوا کے آر پار , خوف و خلا کے درمیاں
زندگی اور موت بھی جا کے رکی ہیں کھائی پر
———-
پرانے رشتوں کی خوش گمانی سے مل رہے ہیں
ہم ایک دشمن کی مہربانی سے مل رہے ہیں
سلگ رہے ہیں پرانی تصویر کے کنارے
ہمارے جسموں کے رنگ پانی سے مل رہے ہیں
ہماری اک دوسرے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے
ہم ایک دوجے سے جس روانی سے مل رہے ہیں
ہمارا انجام لوگ پہلے سے جانتے ہیں
ہمارے کردار اک کہانی سے مل رہے ہیں
ہم ایک مدت کے بعد اپنے گھروں سے باہر
گلی میں بچوں کی بدزبانی سے مل رہے ہیں
———-
میں ایک بوسہ ترے جسم پر سجاؤں گا
پھر ایک دُھن میں کئی گیت گنگناؤں گا
میں گرم سانس سے پگھلاؤں گا کوئی پتھر
میں ٹھنڈی سانس سے شیشے پہ دل بناؤں گا
ہوا بھی ڈھونڈنے لگ جائے گی نیا رستہ
میں اس کے جسم کو اتنا قریب لاؤں گا
کئی نشان مرے دل پہ چھوڑنے والے
میں ایک زخم ترے ہونٹ پر لگاؤں گا
دیے کی لَو کو میں جسموں کے بیچ رکھوں گا
اور ایک دوسرے کا صبر آزماؤں گا
کبھی کبھی تو وہ اتنی حسین لگتی ہے
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے مر ہی جاؤں گا
میں کائنات کے سارے نقوش ڈھونڈوں گا
اور ایک دن تمہیں پوری غزل سناؤں گا
———-
ہمارے اس سوال کا جواب ہے کہ ہے نہیں
پرانا کوئی خواب زیرِ آب ہے کہ ہے نہیں
اخیر سین، فلم کا، وہ چھوڑ کر چلا گیا
تمہارا موڈ ؛ دل مرا خراب ہے ، کہ ہے نہیں
مشاہدے کے ساتھ ایک، فائدے کی بات ہے
یہ سرخ رنگ کا فضول خواب ہے ، کہ ہے نہیں
یہ چھوڑ کون کس جگہ پہ مر گیا تو یہ بتا
سماعتوں میں نغمہء رباب ہے کہ ہے نہیں
پھر اس کی لپ اسٹک کو دیکھ کر یہ چیک کیا گیا
گلاس پر کھلا ہوا گلاب ہے کہ ہے نہیں
نشہ کسی نگاہ کا اتر رہا ہے کیا کروں
تمہارے پاس قیمتی شراب ہے کہ ہے نہیں
بدل بدل کے چینلوں کو بور ہو گیا کوئی
میں دیکھتا ہوں شیلف پر کتاب ہے کہ ہے نہیں
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی کا یوم پیدائش
———-
جنگل میں آگ کی طرح پھیلا نہیں دیا گیا
تم کو تمہارے عشق کا طعنہ نہیں دیا گیا
جتنا بھرا ہوا تھا وہ اتنا ہی پرسکون تھا
دریا کو آبشار کا لہجہ نہیں دیا گیا
جاتے ہوئے فقیر نے کتنی دعائیں دیں ہمیں
ہم سے تو ایک وقت کا کھانا نہیں دیا گیا
ہوٹل کی انتظامیہ کا شکر ادا کرو میاں
اس رات تم کو ہجر کا کمرہ نہیں دیا گیا
بونوں پہ جھاڑ کے چھڑی ٹیبل سے اٹھ گئی پری
بچوں کو بات چیت کا موقع نہیں دیا گیا
اس کی ہنسی کے راستے اپنی خوشی کے واسطے
کھلتا گلاب توڑ کر تحفہ نہیں دیا گیا
جو کچھ ہمارے بیچ تھا پردے میں ہی رکھا گیا
محفل کو اپنی بات سے چونکا نہیں دیا گیا
اپنا تمام قیمتی سامان دیکھ لیجیے
ہم سے سفر کے درمیاں دھوکا نہیں دیا گیا
اس کارگہِ زیست میں اپنا بھی تھوڑا ہاتھ ہے
ہم کو ہمارے کام کا حصہ نہیں دیا گیا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ