ممتاز شاعر وامق جونپوری کا یوم پیدائش

آج ممتاز شاعر وامق جونپوری کا یوم پیدائش ہے

وامق جونپوریاحمد مجتبیٰ المعروف وامق جونپوری (انگریزی: Wamiq Jaunpuri)، (پیدائش: 23 اکتوبر، 1909ء – وفات: 21 نومبر، 1998ء) بھارت کے ممتاز ترقی پسند شاعر تھے۔ وامق ان شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے ترقی پسند فکر اور نظریے سے اپنی مضبوط وابستگی کی بنا پر اپنی ساری زندگی اور اپنی ساری صلاحیتیں اس کی تشہیر وتبلیغ کیلئے وقف کردی تھیں۔ ان کی نظم بھوکا بنگال بہت مشہور ہوئی اور ایک طرح سے ان کی شناخت کا حوالہ بن گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالات زندگی و فن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وامق جونپوری 23 اکتوبر، 1909ء کوکجگاؤں، جونپور، اترپردیش،برطانوی ہندوستان کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید احمد مجتبیٰ زیدی تھا اور والد کا نام سید محمد مصطفی خاں تھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم اردو فارسی عربی ( میزان منشعب تک) اورانگریزی مکتبی صورت میں گھرپر ہوئی۔ بعد ازاں وہ اپنے آبائی جونپور سے بارہ بنکی چلےگئے جہاں ان کے والد صوبائی سول سروس میں تھے اور یہاں اردو، فارسی اور عربی کے عالم مولوی متوسط حسین زید پوری ان کے اتالیق مقرر ہوئے۔ بارہ بنکی سے ہائی اسکول کی تعلیم، فیض آباد گورنمنٹ انٹر کالج سے انٹر میڈیٹ کیا اور لکھنؤ یونیورسٹی کیننگ کالج سے بی اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کر کے 1937ء میں تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیا۔ اس کے بعد ضروری ٹریننگ لے کر 1939ء میں فیض آباد میں وکالت شروع کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : مری کہانی کے کردار سانس لیتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے ایک آسودہ حال زمینداراور سرکاری نوکری پیشہ خاندان میں آنکھ کھولی تھی۔ شعور تک پہنچتے پہنچتے انہوں نے ماحول کی قدیم روایت پسند اور انگریز پرست ذہنیت سے مزاجاًمتنفر ہو گئے۔ لیکن مزاج میں خاندانی تہذیب میں حفظ مراتب اور بزرگوں کے احترام کا رنگ اس قدرپختہ تھا کہ انحراف یا بغاوت تو درکنار اپنے خیالات کا اظہار بھی بعد از تصور تھا۔ البتہ جب وہ لکھنؤ یونیورسٹی میں داخل ہوئے تو وہاں آزادی اور غلامی کا براہ راست تصادم دیکھنے میں آیا۔ یونیورسٹی میں بھی اور اس کے باہر بھی آرگینک کمسٹری کے ان کے استاد ڈاکٹر حسین ظہیر آئے دن قید ہو کر جیل جایا کرتے تھے اور تحریک آزادی شباب پر تھی۔ انہیں ڈاکٹر حسین ظہیر نے انہیں پروفیسر ڈی پی مکرجی سے ملوایا۔ ان کی قربتوں اور صحبتوں نے آزادی فکر و نظر کا وہ راستہ دکھایا۔ ان کے سیاسی، سماجی اور جمالیاتی شعور کو نئی جلا نصیب ہوئی۔ یہ وہی زمانہ تھا جب سجاد ظہیر نے ادبی محاذ پر رجعت پرستی اور غلامی کے خلاف منشی پریم چند کی صدارت میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی لکھنؤ میں بنیاد رکھی تھی۔ وکالت کی ٹریننگ کے بعد جب فیض آباد میں انہوں نے پریکٹس شروع کی تو وہاں اچھا خاصہ ادبی ماحول ملا۔ یہاں شعری نستیں اورمشاعرے ہوتے تھے۔ فیض آباد سے قربت کی وجہ سے اکثر جگر مراد آبادی، مجروح سلطانپوری، خمار بارہ بنکوی اور مسعود اختر جمال و دیگر شعرا وہاں آجایا کرتے تھے۔ 1941ء میں گورکھپور کے ایک مشاعرہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا باقاعدہ ملی ممبر بن گئے۔
1942ء میں وکالت ترک کرکے تلاش معاش کے سلسلے میں دہلی چلے گئے۔ دوسری عالمی جنگ اپنے پورے شباب پر تھی۔ یہاں تلا ش معاش سے کم شعر و شاعری سے زیادہ سروکار رہا۔ دہلی سے بے نیل مرام 1943ء میں جونپور واپس آگئے۔ جونپور میں ایک دن گذارنے کے بعد وہ کلکتہ چلے گئے جہاں قحط بنگال کے دل خراش مناظر دیکھے، واپسی پر نظم بھوکا بنگال لکھی جس کے بعد ان کا شمار صف اول کے ترقی پسند شعرا میں ہونے لگا۔ بیکاری سے تنگ آکر انہوں نے بنارس کے محکمہ سپلائی وارشننگ میں نوکری کر لی اور ایک سال میں ترقی کرکے راشننگ افسر بن گئے۔ مگر اپنی تخلیقات پر اس نوکری کو حاوی نہیں ہونے دیا۔ وہ بالاعلان مشاعروں اور جلسوں میں اپنی انقلابی نظمیں پڑھتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ اور ہندستان تقسیم ہو چکا تھا۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں ہجرت اور فسادات کا حشر برپا تھا۔ ان دنوں وامق الہ آباد میں متعین تھے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ چیخیں 1948ء میں وہیں سے شائع ہوا تھا جس میں تقسیم، فسادات اور مہاتما گاندھی کے قتل پر نظمیں شامل تھیں۔ 1950 ء میں نوکری سے مستعفی ہو گئے اور اسی سال ان کی نظموں کا دوسرا مجموعہ جرس دانش محل سے شائع ہوا۔ 1952ء تک بے روزگاری کی وجہ سے گھر پر رہے۔ زمینداری بھی ختم ہو چکی تھی مگر جب فاقوں کی نوبت آگئی تو میں پھر دہلی چلے گئے اور ڈھائی سو روپے ماہوار پر ماہنامہ شاہراہ کا مدیر مقرر ہوئے۔ 1943ء – 1944ء تک وہیں دہلی میں رہے، بعد ازاں ڈاکٹر ذاکر حسین انہیں اپنے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی لے گئے اور انجینئری کالج کے دفتر کا سپرنٹنڈنٹ بنا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : اپنی قربت کے سب آثار بھی لیتے جانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں رہائش کے لیے انہیں ایک مکان مل گیا، اہل و عیال بھی یہیں آگئے اور بچوں کی باقاعدہ تعلیم بھی شروع ہو گئی۔
1961ء میں علی گڑھ سے کشمیر چلے گئے اور نو برس وہاں نوکری کرکے 1970ء میں ریٹائر ہو کر اپنے آبائی وطن واپس آگئے۔ 1979ء میں ان تیسرا شعری مجموعہ شب چراغ شائع ہوا جس پر انہیں اتر پردیش اردو اکادمی کا پہلا ایوارڈ ملا اور 1980ء میں ادبی خدمات پر سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ملا۔ ان کا چوتھا شعری مجموعہ سفر نا تمام 1990ء میں شائع ہو کرمنظر عام پر آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعری مجموعے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1949ء ۔ چیخیں
1950ء ۔ جرس (ناشر: دانش محل، لکھنؤ)
1980ء ۔ شبِ چراغ
1990ء ۔ سفرِ ناتمام (ناشر: اتر پردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ)
ترتیب
1944ء ۔ مخدوم کے سو شعر (بہ اشتراک وقار خلیل، حفیظ اقبال)
خودنوشت
1993ء ۔ گفتنی نا گفتنی – (ناشر: خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وامق جونپوری پر لکھی گئی کتب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وامق جونپوری شخص اور شاعر، ایس ایم عباس، 1991ء، ایس ایم عباس ایڈوکیٹ، تاڑ تلہ، جون پور
وامق جونپوری: شخصیت اور شاعری (وامق صدی تقریبات میں پیش کیے گئے مقالات)، مرتب: علی احمد فاطمی، 2010ء، (ناشر: شعبہ اردو، جامعہ الٰہ آباد)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعزازات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اترپردیش اردو اکادمی ایوارڈ
سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ
میر اکادمی ایوارڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے
نہیں ملتے تو اک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی
مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے
یہ مانا شیشۂ دل رونق بازار الفت ہے
مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے
نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداؤں کو
چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے
یہ مانا حسن کی فطرت بہت نازک ہے اے وامقؔ
مزاج عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : نبی کا نقشِ کفِ پا تلاش کرتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کے ویرانے کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم
کر بھی کیا سکتے ہیں تجھ کو یاد کر لیتے ہیں ہم
جب بزرگوں کی دعائیں ہو گئیں بیکار سب
قرض خواب آور سے دل کو شاد کر لیتے ہیں ہم
تلخی کام و دہن کی آبیاری کے لیے
دعوت شیراز ابر و باد کر لیتے ہیں ہم
دیکھ کر دھبے لہو کے دست آدم زاد پر
طاری اپنے ذہن پر الحاد کر لیتے ہیں ہم
کون سنتا ہے بھکاری کی صدائیں اس لیے
کچھ ظریفانہ لطیفے یاد کر لیتے ہیں ہم
جب پرانا لہجہ کھو دیتا ہے اپنی تازگی
اک نئی طرز نوا ایجاد کر لیتے ہیں ہم
دیکھ کر اہل قلم کو کشتۂ آسودگی
خود کو وامقؔ فرض اک نقاد کر لیتے ہیں ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے فکر و فن کو نئی فضا نئے بال و پر کی تلاش ہے
جو قفس کو یاس کے پھونک دے مجھے اس شرر کی تلاش ہے
ہے عجیب عالم سرخوشی نہ شکیب ہے نہ شکستگی
کبھی منزلوں سے گزر گئے کبھی رہ گزر کی تلاش ہے
مجھے اس جنوں کی ہے جستجو جو چمن کو بخش دے رنگ و بو
جو نوید فصل بہار ہو مجھے اس نظر کی تلاش ہے
مجھے اس سحر کی ہو کیا خوشی جو ہو ظلمتوں میں گھری ہوئی
مری شام غم کو جو لوٹ لے مجھے اس سحر کی تلاش ہے
یوں تو کہنے کے لیے چارہ گر مجھے بے شمار ملے مگر
جو مزاج غم کو سمجھ سکے اسی چارہ گر کی تلاش ہے
مرے ناصحا مرے نکتہ چیں تجھے میرے دل کی خبر نہیں
میں حریف مسلک بندگی تجھے سنگ در کی تلاش ہے
مجھے عشق حسن و حیات سے مجھے ربط فکر و نشاط سے
مرا شعر نغمۂ زندگی تجھے نوحہ گر کی تلاش ہے
اسے ضد کہ وامقؔ شکوہ گر کسی راز سے نہ ہو با خبر
مجھے ناز ہے کہ یہ دیدہ ور مری عمر بھر کی تلاش ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلائے جاتے ہیں مقتل میں ہم سزا کے لیے
کہ اب دماغ نہیں عرض مدعا کے لیے
ازل کے روز ہمیں کون سے وہ تحفے ملے
کہ ہم سے دہر نے بدلے گنا گنا کے لیے
وہ وعدے یاد نہیں تشنہ ہے مگر اب تک
وہ وعدے بھی کوئی وعدے جو مے پلا کے لیے
وہ لمحہ بھر کی ملی خلد میں جو آزادی
تو قید ہو گئے مٹی میں ہم سدا کے لیے
شمار تار گریباں میں ہے جو الجھے ہوئے
وہ ہاتھ بھی تو ہمیں دیجیے دعا کے لیے
بہت گراں ہے اگر تم پہ انتظار بہار
ہمارا خون سر دست لو حنا کے لیے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اردو دنیا کے شہنشاہ ظرافت دلاور فگار کا یوم پیدائش
معروف شاعر ڈاکٹر عندلیب شادانی کا یوم وفات
شاعر جذب و حقیقی عشق خواجہ عزیز الحسن مجذوب کا یومِ وفات
اردو اور پنجابی کے معروف شاعر شیر افضل جعفری کا یوم پیدائش
ممتاز شاعر شوکت علی خاں فانی بدایونی کا یوم پیدائش
شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم محسن احسان کا یوم پیدائش
شاعر سید ہاشم رضا کا یومِ پیدائش
ممتاز شاعر ڈاکٹر کلیم عاجزؔ کا یومِ پیدائش
نامور غزل گو شاعر جناب استاد قمر جلالوی کا یوم وفات
معروف شاعر ظہیر غازی پوری کا یوم وفات