اردوئے معلیٰ

Search

میسر جو نہیں مجھ کو یہاں اِملاک لے آنا

مدینے کی گلی سے تُم، اُٹھا کر خاک لے آنا

 

مِری تسبیح بن جائے گی ، موتی کام آئیں گے

بچا لینا کچھ آنسو ، دیدۂ نم ناک لے آنا

 

لگایا تھا نبی نے جو کبھی ، خود اپنے ہاتھوں سے

جو ممکن ہوتو ، تم اس پیڑ کی مسواک لے آنا

 

مجھے بھی اِن اندھیروں میں اُجالوں کی ضرورت ہے

تجلیاتِ دربارِ رسولِ پاک لے آنا

 

سنو ، میرے لئے بھی واپسی پر شہرِ حکمت سے

شعورِ زندگی تھوڑا سا ، کچھ اِدراک لے آنا

 

ہمارا شہر تاریکی میں ہے ڈوبا ہوا، کہنا

تُم انوارِ مزار سیدِ لولاک لے آنا

 

جو جلوے بھی نظر آئیں ، بسا لینا تم آنکھوں میں

غذا میرے بدن کی ، روح کی خوراک لے آنا

 

نئی تعمیر کے نیچے ہے ، اُن کے لمس کی خوشبو

جو ممکن ہو ، زمیں کا سینہ کر کے چاک لے آنا

 

لپٹ کر اِس سے جو بھی مانگنا ہے ، مانگ لوں گا میں

حرم کے جسم سے اُترے گی جو پوشاک لے آنا

 

دکھوں کا کون کہتا ہے ؟ مداوا ہو نہیں سکتا

وہاں مِل جائے گا ، تُم زہر کا تریاک لے آنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ