نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے

نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے

جتنے بچے ہیں سنگ ملامت، اٹھائیے

 

مصلوب کیجئے ہمیں نا کردہ جرم پر

معصوم پھر بنا کے سلامت اٹھائیے

 

یہ ٹیڑھے ترچھے وار ہیں توہین عاشقی

تیغ ستم کو برسر قامت اٹھائیے

 

اِس تہمتِ جفا سے بھی آگے ہیں مرحلے

اتنی سی بات پر نہ قیامت اٹھائیے

 

تکلیف دیجئے نہ کسی غمگسار کو

احسانِ چارہ گر بھی ذرا مت اٹھائیے

 

مرتا ہے شہر مہر و محبت کے قحط سے

خاصان خلق دست کرامت اٹھائیے

 

نادم کھڑے ہیں سارے گنہگار منتظر

بڑھ کر ظہیرؔ بار امامت اٹھائیے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اہلِ دل چشمِ گہربار سے پہچانے گئے
ہم ترا ذکرِ طرحدار لکھا کرتے تھے
مصالحت سے یہ قصہ نمٹ بھی سکتا ہے
دو قدم کا فاصلہ ہے بس شکستِ فاش میں
کوئی منتر کوئی تعویذ ؟ مرشد
نہیں جناب ، کسی اور کی امانت ہیں
اپنی قربت کے سب آثار بھی لیتے جانا
بے غرض کرتے رہو کام محبت والے
سب کی وحشت کو خلاؤں میں لگایا ہوا ہے
آتشِ رنج و الم، سیلِ بلا سامنے ہے