نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے

نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے

جتنے بچے ہیں سنگ ملامت، اٹھائیے

 

مصلوب کیجئے ہمیں نا کردہ جرم پر

معصوم پھر بنا کے سلامت اٹھائیے

 

یہ ٹیڑھے ترچھے وار ہیں توہین عاشقی

تیغ ستم کو برسر قامت اٹھائیے

 

اِس تہمتِ جفا سے بھی آگے ہیں مرحلے

اتنی سی بات پر نہ قیامت اٹھائیے

 

تکلیف دیجئے نہ کسی غمگسار کو

احسانِ چارہ گر بھی ذرا مت اٹھائیے

 

مرتا ہے شہر مہر و محبت کے قحط سے

خاصان خلق دست کرامت اٹھائیے

 

نادم کھڑے ہیں سارے گنہگار منتظر

بڑھ کر ظہیرؔ بار امامت اٹھائیے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ