نظر چُرا کے کہا بس یہی مقدر تھا

نظر چُرا کے کہا بس یہی مقدر تھا

بچھڑنے والے نے ملبہ خدا پہ ڈال دیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ایسے نحیف شخص کی طاقت سے خوف کھا
میں نے کل طیش میں پتھر تو بہت مارے مگر
تُو اگر وقت بن کے مل جاتا
اس شہرِبے مثال میں بس مجھ کو چھوڑ کر
اٌس کا لہجہ بتا رہا ہے مجھے
ہو غریبوں کا چاک خاک رفو
مجھے بس اس کا لہجہ چومنا تھا
یہ بھی حسرت کوئی تدبیر سکوں ہے کیا خوب
مر گئے جن کے چاہنے والے
وہ جو ترک ربط کا عہد تھا کہیں ٹوٹنے تو نہیں لگا