ڈاکٹر علی یاسر کا یوم وفات

آج معروف شاعر ڈاکٹر علی یاسر کا یوم وفات ہے

ڈاکٹر علی یاسرڈاکٹر علی یاسر (پیدائش:13 دسمبر 1976ء ۔ وفات: 17 فروری 2020ء) اردو زبان کے پاکستانی شاعر، نقاد، محقق اور مترجم تھے۔
ڈاکٹر علی یاسر 13 دسمبر 1976ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حبیب حیدر تھا۔ انہوں عمر کے ابتدائی سولہ سال گوجرانوالہ میں ہی گذرے اور وہ 1994 میں اسلام آباد آ گئے۔ ڈاکٹر علی یاسر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی اور پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو ادب میں ایم فل اور پھر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر علی یاسر نے 1990 میں شاعری کا آغاز کیا اور ابتدا میں اپنے دادا امیر علی ساتھی سے اصلاح لی۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی اردو کے حوالوں سے جاری رہیں اور یوں ان کا ادبی ذوق اور مہارت بڑھتی رہی۔ انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی مضبوط پہچان اور جدا رنگ قائم کیا۔ ڈاکٹر علی یاسر نے ادب کی سرپرستی کے لیے قائم حکومتی ادارے اکادمی ادبیات میں ملازمت اختیار کی اور یوں نہ صرف ملک بھر کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہو گئے بلکہ شعر و ادب کی خدمت کا بیڑا بھی اٹھایا۔ وہ اکادمی ادبیات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور رہے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : نامور سندھی ادیب اور صحافی غلام محمد گرامی کا یوم وفات
———-
شاعری میں اپنی پہچان رکھنے والے ڈاکٹر علی یاسر میڈیا سے بھی وابستہ رہے اور ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام میں شریک بھی ہوتے اور میزبانی بھی کرتے رہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور علامہ اقبال یونیورسٹی ایف ایم ریڈیو پر کئی پروگرامز کے میزبان رہے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے لیے بہت سی دستاویزی فلمیں، سکرپٹس اور نغمے لکھے۔ بطور مترجم انہوں نے انگریزی اور پنجابی سے اردو میں تراجم کیے جن میں “چین کی محبت کی نظمیں” اور “نوبل لیکچر” وغیرہ شامل ہیں۔ علی یاسر علامہ اقبال یونیورسٹی سے جُز وقتی استاد کے طور پر بھی وابستہ تھے۔
ڈاکٹر علی یاسر تواتر سے مشاعروں میں شریک ہوتے تھےاور مشاعروں کی نظامت بھی کرتے تھے۔ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ادبی محافل اور مشاعروں میں شرکت کے علاوہ دبئی، ابو ظہبی اور نئی دہلی میں مشاعروں میں بھی شریک ہو ئے۔ “ارادہ” کے نام سے علی یاسر کی غزلوں کا مجموعہ 2007 میں منظر عام پر آیا جبکہ 2016 میں ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ “غزل بتائے گی” کے عنوان سے شائع ہوا۔ علی یاسر نے 2008 اور 2010 میں اہلِ قلم ڈائری کو مرتب کیا۔ “کلیاتِ منظور عارف” اور “اردو غزل میں تصورِ فنا و بقا” کے عنوانات سے کتابیں زیرِ طبع ہیں۔ وہ اپنی نعتیں اور نیا مجموعہء غزل بھی مرتب کرنے میں منہمک تھے لیکن موت نے مہلت نہ دی
علی یاسر 17 فروری 2020ء کو برین ہیمرج کے سبب اسلام آباد میں وفات پا گئے اور اپنے آبائی علاقے راہوالی ( گوجرانوالہ) میں مدفون ہوئے۔
———-
علی یاسر از امجد اسلام امجد
———-
نو عمری یا جوانی کی موت کے بارے میں اکثر ہم روا روی میں یہ کہہ جاتے ہیں کہ ’’وقت سے پہلے چلا گیا‘‘ یا یہ کہ ’’ابھی یہ وقت نہیں تھا اُس کے جانے کا‘‘ ایسا کہنے والوں میں خود بھی شامل رہا ہوں مگر عزیز دوست دلدار پرویز بھٹی مرحوم کے جنازے پرایک بظاہر ان پڑھ دیہاتی بابے نے ایک ایسی بات کی کہ اب میں کبھی اس طرح کے الفاظ زبان پر نہیں لاتا اُس نے کہا جب ہمیں یہ علم ہی نہیں کہ کس نے کب جانا ہے تو پھر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ وقت سے پہلے چلا گیا یا یہ کہ ابھی یہ اُس کے جانے کا وقت نہیں تھا ؟ پھر اُس نے اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جانے والا تو اپنے صحیح اور مقررہ وقت پر ہی جاتا ہے اُس سے محبت کرنے والے نہیں چاہتے تھے کہ وہ ابھی جائے۔
کل صبح فیس بُک پر علی یاسر کی رحلت کی خبر ایسی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ چند لمحوں کے لیے ایک بار پھر میں ’’وقت اور ناوقتی‘‘ کے اسی دوراہے پر آن کھڑا ہوا ۔ چند دن قبل فون پر ہونے والی آخری گفتگو میں وہ بتا رہا تھا کہ تین مہینے منسٹری میں خواری کے بعد وہ آج ہی اکادمی ادبیات میں اپنی سیٹ پر واپس آیا ہے جہاں تعطل کا شکار بے شمار کام جمع ہوئے پڑے ہیں اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اکادمی سے متعلق احباب کے گِلوں اور سوالوں کا جواب کیسے دے، پھر جیسے خودکلامی کے انداز میں بولا ’’بہرحال میں نے کام شروع کر دیا ہے ‘‘۔
ابھی دو ماہ پہلے کی بات ہے وہ مظہر بھائی ، احمد جلال اورشازیہ بی بی کے پی ٹی سی ایل کے سالانہ مشاعرے کے انتظامات اتنی محنت اور اپنائیت سے کر رہا تھا جیسے وہ مہمان کم اور میزبان زیادہ ہو ۔ اب سوچتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ وہ ہر کام ایسی ہی دلجمعی ، خندہ پیشانی اور ذمے د اری کے ساتھ کیا کرتا تھا جس کی ایک مثال اُس کی دفتری اور دیگر مصروفیات کے باوجود پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حصول بھی تھا، اب یہ اور بات ہے کہ اُسے اپنے نام کے ساتھ ’’ڈاکٹر‘‘ لکھنے اور سننے کی عادت بھی نہیں پڑسکی تھی کہ ایک دم سارا تماشا ہی ختم ہوگیا ، ابھی تو اس کی اس کامیابی پر بجنے والی تالیوں کی گونج بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ان کی جگہ آہوں اور کراہوں نے لے لی اور رحمن فارس کے اس شعر نے ایک حقیقی منظر نامے کی شکل اختیار کرلی کہ
———-
کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
———-
کل سے اب تک فیس بُک پر اظہار افسوس کرنے والوں نے اُس کے بہت سے اشعار کے حوالے دیے ہیں لیکن میرا دھیان بار باراس کی اُن دو مشہور اور پسندیدہ غزلوں کی طرف جا رہا ہے جس میں موت اور جدائی اور وقت کی روانی اور بے کرانی ایک عجیب طرح سے ایک دوسرے پر overlap ہو رہے ہیں ۔ یہ سچ ہے یا مجھے ہی ایسا لگ رہا ہے ذرا دیکھیئے ۔
———-
کل تمہیں کوئی مصیبت بھی تو پڑسکتی ہے
ہم فقیروں کی ضرورت بھی تو پڑسکتی ہے
اتنی عجلت میں بچھڑنے کا ارادا نہ کرو
پھر ملاقات میں مدّت بھی تو پڑسکتی ہے
آدمی زاد ہوں مجھ کو نہ فرشتہ سمجھو
لب کشا ہونے کی ہمت بھی تو پڑسکتی ہے
یہ بھی ہوسکتا ہے زندہ نہ رہوں اُس کے بغیر
اور تنہائی کی عادت بھی تو پڑسکتی ہے
———-
یہ شاعری بھی کیا جادوگری ہے کہ چشم زدن میں الفاظ کے مطلب کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں بالخصوص جب شاعر خود ’’ہے‘‘ سے ’’تھا‘‘ تک کا سفر کرتا ہے تو یہ تبدیلی اُس کے کہے ہوئے لفظوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اب دیکھئے اس غزل کی ’’ردیف‘‘ ’’پڑسکتی ہے‘‘میں جو امکان کی کیفیت تھی اس نے کیسے اسے امرِواقعہ کی شکل اختیار کرلی ہے اور یہ دوسری غزل تو اور زیادہ معنی آفریں اور پراسرارہوگئی ہے کہ
———-
میں ہوں صاف گو کسی پیش و پس میں نہ آؤں گا
ترا وہم ہے، تری دسترس میں نہ آؤں گا
میں گُلوں کی شکل میں آؤں گا ترے سامنے
مرے یار صورتِ خاروخس میں نہ آؤں گا
مجھے روک لو میں چلا گیا تو چلا گیا
کسی طورپھر میں تمہارے بس میں نہ آؤں گا
———-
علی یاسر کا شمار ان شاعروں میں ہوتا ہے جن کا باقاعدہ فنی سفر شروع ہی اکیسویں صدی میں ہوا ہے ان بیس برسوں میں کہنے کو تو بے شمار شاعر سامنے آتے ہیں مگر جن چند نوجوانوں نے زیادہ تیزی اور مہارت کے ساتھ یہ مسافت طے کی ہے اُن کی تعداد کوئی بہت زیادہ نہیں جب کہ پہلی صف میں جگہ پاسکنے والے سخن گو تو اور بھی کم ہیں ۔
علی یاسر جس تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اس میں مزید فروغ اور پائیداری کے امکانات اس لیے بھی زیادہ تھے کہ وہ اُردو شاعری کی کلاسیکی روائت سے نہ صرف گہری دلچسپی رکھتا تھا بلکہ اس ضمن میں اس کا مطالعہ اور ترجیحات بھی بہت حوصلہ افزا تھیں۔ گزشتہ چند برسوں میں نوجوانی میں اس دنیا سے پردہ کرجانے والے شاعروں میں دانیال عزیز کے بعد وہ دوسرا شاعر ہے جن کا مستقبل بہت روشن نظر آرہا تھا وہ ایک خوش رُو ، خوش گفتار اور خوش مزاج انسان تھا جو یقیناً بہت آگے تک جاسکتا تھا لیکن… اب یہ ’’لیکن‘‘ ہی وہ خطرناک موڑ ہے جسے کاٹتے ہوئے منظر اور ناظر دونوں پھر اس گرداب میں گھومنے لگ جاتے ہیں کہ وقت کہیں ہے بھی یا نہیں ؟
———-
لفظ کا حسن معانی میں ہوا کرتا تھا
میرا کردار کہانی میں ہواکرتا تھا
———-
منتخب کلام
———-
مجھ کو تو راہ نکلتی نظر آتی ہے کوئی
بل نہیں یہ جو سرِ سطحِ جبیں پڑتا ہے
———-
حوصلہ اور ذرا حوصلہ، اے سنگ بدست
وقت آے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے
———-
تمہارے پاس نہیں ہے تو ہم سے لے جاؤ
ہمارے پاس محبت ہے اور کچھ بھی نہیں
———-
تو آپس میں لڑائی کس لیے ہے
اگر ہے متفق دنیا خدا پر
———-
یہ بھی پڑھیں : اُردو ادب کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد دھلوی کا یومِ وفات
———-
تیرگی بھی جائے گی ٗ روشنی بھی آئے گی
اک دیا جلاؤ تم ٗ اک دیا جلائیں ہم
———-
اسے میں غنچۂ دل میں اسیر کیسے کروں
حیات بادِصبا ہے اور آنی جانی ہے
———-
ہے کون شاعرِ خوش فکر ، کون ہے فنکار
غزل بتائے گی جو اس میں نام کر کے گیا
———-
جیسے ہم آنکھ ملا کر ترے دل میں اتر آئے
لوگ اس زینۂ دشوار سے کم اتریں گے
———-
کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا
مری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا
جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے
جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا
اسیر ہوتے گئے بادل نا خواستہ لوگ
غلام کرنا تھا اس نے غلام کر کے گیا
جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار
یہ معجزہ بھی مرا خوش خرام کر کے گیا
ہے زندگی بھی وہی جو ہو دوسروں کے لئے
وہ محترم ہوا جو احترام کر کے گیا
یہ سرزمیں ہے جلال و جمال و عظمت کی
ہے خوش نصیب یہاں جو قیام کر کے گیا
ہے کون شاعر خوش فکر کون ہے فن کار
غزل بتائے گی اس میں نام کر کے گیا
اثر ہوا نہ ہوا بزم پر علی یاسرؔ
کلام کرنا تھا میں نے کلام کر کے گیا
———-
آب میں ذائقۂ شیر نہیں ہو سکتا
خواب تو خواب ہے تعبیر نہیں ہو سکتا
مجھ کو پابند سلاسل کوئی جتنا کر لے
پر مرا عزم تو زنجیر نہیں ہو سکتا
ہر طرف غل ہے شہنشاہ کی مرضی کے بغیر
اب کوئی لفظ بھی تحریر نہیں ہو سکتا
رزق جیسا ہے مقدر میں لکھا ہوتا ہے
فن کسی شخص کی جاگیر نہیں ہو سکتا
ہم نے دروازۂ مژگاں پہ سجا رکھا ہے
وہ ستارا کہ جو تسخیر نہیں ہو سکتا
———-
پوری ہوئی جو ہجر کی میعاد آوے گا
قید انا سے ہو کے وہ آزاد آوے گا
اس بت سے جی لگا نہ لگا کیا مجھے ولے
پھر کیا کرے گا جب وہ تجھے یاد آوے گا
میں تو کروں ہوں عمر بھر اک دشت کا سفر
کیا ہوگا جب وہ قریۂ آباد آوے گا
آوے گا اک سے ایک سخنور یہاں مگر
کوئی بھی میرؔ جیسا نہ استاد آوے گا
میں اس کو دیکھتا ہوں تو آتا ہے دھیان میں
کس کام اس کے یہ دل برباد آوے گا
میں جب کہا کہ غم سے طبیعت بحال ہے
بولا وہ روز حشر ہی تو شاد آوے گا
واقف نہیں ہیں آبلے صحرا کی پیاس سے
اور سوچتے ہیں قیس پئے داد آوے گا
بازار ہست و بود میں شیشہ گری مری
کوہ جنوں بھی سر پہ مجھے لاد آوے گا
———-
یہ بھی پڑھیں : آخری حد پہ اک جنون کے ساتھ
———-
عہد صد مصلحت‌‌ اندیش نبھانا پڑے گا
مسکرانے کے لئے غم کو بھلانا پڑے گا
جانتے ہیں کہ اجڑ جائیں گے ہم اندر سے
مانتے ہیں کہ تمہیں شہر سے جانا پڑے گا
آمد فصل بہاراں پہ کوئی جشن تو ہو
دوستو دل پہ کوئی زخم کھلانا پڑے گا
چشم بد دور یہی اک مرا سرمایہ ہے
تیری یادوں کو زمانے سے چھپانا پڑے گا
تمہیں جانا ہے چلے جاؤ مگر شرط یہ ہے
کہ بلا ناغہ تمہیں خواب میں آنا پڑے گا
خود کو پہچان نہیں پائیں گے چہروں والے
انہیں آئینۂ اوقات دکھانا پڑے گا
نظر انداز بھی کر سکتے ہو اخلاص مرا
یہ کوئی قرض نہیں ہے جو چکانا پڑے گا
شاعری ہو تو نہیں سکتی کبھی تیرا بدل
کیا کریں دل تو کہیں اور لگانا پڑے گا
تھک نہ جائے وہ کہیں ہم پہ ستم کرتے ہوئے
یاسرؔ اس کا بھی ہمیں ہاتھ بٹانا پڑے گا
———-
ہر طور فقیر مطمئن ہے
صد شکر ضمیر مطمئن ہے
اے زلف تو بے قرار مت ہو
تیرا یہ اسیر مطمئن ہے
بارش، سیلاب ، زلزلوں میں
شوقِ تعمیر مطمئن ہے
سر کٹ کے بھی سر کشی پہ مائل
لیکن شمشیر مطمئن ہے
میں دیکھ رہا ہوں ، جل رہا ہوں
اس کی تصویر مطمئن ہے
درپیش ہے شوقِ نارسائی
میں چپ ، تقدیر مطمئن ہے
اسلوبِ حیات بے ثباتی
طرزِ تحریر مطمئن ہے
کیوں راس نہیں فضائے زنداں ؟
کیونکر زنجیر مطمئن ہے ؟
پیوست ہے قلبِ آرزو میں
یاسرؔ یوں تیر مطمئن ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ