اردوئے معلیٰ

کرتا ہے گلِ خلد کی شبنم سے لب کو تر

کرتا ہے گلِ خلد کی شبنم سے لب کو تر

جب چومتا ہے پیارِ سے کوئی نبی کا در

 

عزت حروف نسبتِ احمد سے پا گئے

شامل ہوئے جو نعت میں وہ ہوگئے امر

 

ہیں جاں نثار یار سبھی آپ کے حضور

عثمان ہوں علی ہوں یا صدیق اور عمر

 

کب پا رہا ہے نعت نبی کا نمو خیال

ہر لحمہ ذوق و شوق سے دل رکھتا ہے خبر

 

آتے ہیں جو پرندے مدینہ کے شہر سے

احوال ان سے پوچھتے رہتے ہیں سب شجر

 

سورج نے ان کے نور سے پائی ہے روشنی

سرکار کی ضیا سے چمکتا ہے یہ قمر

 

سرکار کا کرم ہے کہ ہوتی ہے ان کی نعت

بندہ تو خود سے کچھ نہیں بے کار و بے ہنر

 

سب سے عظیم تر ہیں عطا وہ خدا کے بعد

ہیں وجہِ کائنات کریں بات مختصر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ