اردوئے معلیٰ

کلیم عاجز کا یومِ وفات

آج کلاسیکی لہجے کے ممتاز شاعر ڈاکٹر کلیم عاجز کا یومِ وفات ہے۔

کلیم عاجزؔ
(پیدائش:11 اکتوبر 1920ء – وفات: 14 فروری 2015ء)
——
کلیم عاجزایک ہندوستانی نژاد اردو شاعر جن کا تعلق اردو کے دبستان عظیم آباد سے تھا۔ کلیم عاجز کو ان کی ادبی خدمات پر حکومت ہند کی جانب سے 1982ء میں پدم شری اعزاز سے بھی نوازا گیا۔کلیم عاجز کی ولادت 1920ء میں پٹنہ کے موضع تیلہاڑہ میں ہوئی۔ تیلہاڑہ صوبہ بہار کے نالندہ ضلع کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں پرانے زمانے میں بدھ مت کے راہب رہا کرتے تھے۔ انہیں صوفیوں کی خانقاہوں سے بڑی عقیدت تھی، خاص طور پر خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کے شاہ محسن داناپوری سے گہرا لگاو تھا، کلیم عاجز نے پٹنہ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ پھر اسی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری اور بعد ازاں 1956ء میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ انہوں نے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ "بہار میں اردو ادب کا ارتقا” کے عنوان پر لکھا جو بعد میں کتابی شکل میں شائع بھی ہوا۔ طالب علمی سے فراغت کے بعد کلیم عاجز کا پٹنہ یونیورسٹی سی تعلق باقی رہا۔ وہ وہاں شعبہ اردو میں فیکلٹی ممبر کی حیثیت سے شامل ہوئے اور بحیثیت پروفیسر وظیفہ یاب ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ حکومت بہار کی اردو مشاورتی کمیٹی (Urdu Advisory Committee) کے صدر مقرر ہوئے اور تا دم حیات اس عہدے پر باقی رہے۔
کلیم عاجز نے اپنی پہلی غزل 17 برس کی عمر میں لکھی اور 1949ء سے مشاعروں میں شرکت شروع کی۔ انکا پہلا دیوان 1976ء میں شائع ہوا جس کی تقریب رونمائی اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند فخر الدین علی احمد کے ہاتھوں وگیان بھون میں ہوئی۔ اس کے بعد ان کے متعدد دیوان منظر عام پر آئے جن میں "جب فصل بہاراں آئی تھی”، "وہ جو شاعری کا سبب ہوا”، "جب فصل بہار آئی” اور "جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی” قابل ذکر ہیں۔ دنیا بھر میں ڈلاس (امریکا) سمیت کئی ملکوں میں انہوں نے اردو کے مشاعروں میں شرکت کی اور اپنے کلام سے مستفیض کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : کلیم عثمانی کا یومِ پیدائش
——
14 فروری 2015ء کو جھارکھنڈ کے شہر ہزاری باغ میں انہوں نے آخری سانسیں لیں۔ ان کی نماز جنازہ پٹنہ کے گاندھی میدان میں ادا کی گئی اور آبائی وطن تیلہاڑہ میں مدفون ہوئے۔
——
کلیم عاجز: ہمارے مطالعہ کی روشنی میں از حذیفہ شکیل قاسمی
——
’’میرے نام کا اثر مجھ پہ نمایاں ہے، ’’کلیم‘‘میرا نام ہے، میں موزوں کلام کرتا ہوں، شاعری بھی کرتا ہوں ‘‘۔
باکمال شاعر، صاحب طرز ادیب، بہترین سوانح نگار، بے مثال مکتوب نگار، لاجواب مضمون نگار، لائق و فائق سفر نامہ نگار ہونے کے ساتھ ہی ایک عظیم انسان تھے کلیم عاجزؔ۔عجز جس کے نام کے ساتھ زندگی کا بھی حصہ اور کلیم جس کی شخصیت کا وصف خاص تھا، منکسر المزاجی، اعلی ظرفی، کم گفتاری، نرم خوئی، تواضع و انکساری جس کی فطرت، انسانیت و شرافت، سادگی و سنجیدگی جس کی خصلت، جس کی پوری شخصیت صلاحیت و صالحیت کے حسین امتزاج سے مزین، جو نہ صرف فخر بہار، بلکہ فخر ہند کی حیثیت کے حامل تھے۔
خوبیوں اور کمالات کا کسی ایک شخص میں جمع ہوجانا ایک الگ بات ہے اور بہتر انداز میں ان کمالات کو بروئے کار لانا ایک علیحدہ ہنر ہے، اپنی صلاحیتوں کو صحیح رخ دے کر اس کا بہتر مصرف لینا بھی ایک فن ہے اور میری نظر میں کلیم عاجزـؔ اس فن کے نہ صرف ماہر بلکہ کامل ہیں۔
کلیم عاجز کا پوری اردو آبادی میں مقبول شاعر کی حیثیت سے استقبال ہوتا ہے، جہاں جہاں اردو ہے وہاں وہاں کلیم عاجزؔ ہیں، شہرت بہت سے لوگوں کو ملی ہے لیکن کلیم عاجزؔ کی شہرت مقبولیت کی عظمت کے ساتھ وابستہ ہے، ان کی شہرت کی بنیادی وجہ بے مثال شاعری ہے، جس میں جدت و ندرت کے ساتھ طرز و اسلوب کا انوکھا پن بھی ہے، عاجزؔ کے استاذ علامہ جمیل مظہری کے بقول ’’کلیم عاجزؔکی شاعری کو سینکڑوں شعراء کے ہزاروں اشعار کے ہجوم میں پہچانا جاسکتا ہے‘‘ (وہ جو شاعری کا سبب ہوا، ص39)
انسانی تخلیق اس کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے عربی مقولہ کل إناء یترشح بما فیہ ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے، اس لحاظ سے کلیم عاجز کی شاعری کا جب ہم تجزیہ کرتے ہیں تو ان کی شاعری درد و کرب، غم و اندوہ، حزن و ملال، رنج و الم اور یاس و امید سے عبارت نظر آتی ہے۔
خود کلیم عاجز کا احساس ہے:
’’درد بیداری کی علامت ہے، سکون خواب ہے، درد تیز بینی کا ثبوت ہے، بلند آگہی کا ثبوت ہے، درد ہی سے وہ روشنی پیدا ہوتی ہے جو پس پردہ کو پیش پردہ کردیتی ہے۔ درد سے ہی گفتار میں سلیقہ، باتوں میں حلاوت اور اشعار میں تاثیر پیدا ہوتی ہے۔‘‘(جب فصل بہاراں آئی تھی، ص47)
او ریہی حلاوت و تاثیر کلیم عاجزؔ کی شاعری میں ہمیں جابجا ملتی ہے، ان کے اشعار ہمارے نظریے کی تائید کرتے ہیں۔
——
ایک درد ہے جو شام سے اٹھے ہے سحر تک
ایک سوز ہے جو صبح سے تاشام رہے ہے
——
یہ بھی پڑھیں : مظہر کلیم ایم اے کا یوم وفات
——
اس شعر میں کلیم عاجز نے درد و کرب کی اس حالت کو بیان کیا ہے، جو ان کی زندگی کا حصہ ہے، آپ بیتی ہے، جس نے جگ بیتی کی شکل اختیار کرلی ہے، ان کی شخصیت کا ایک خاص وصف یہ بھی تھا کہ وہ دوسروں کو خوش دیکھنا چاہتے تھے اور ان کا یہ بھی احساس تھاکہ جتنے رنج و الم مجھ اکیلے شخص پر ٹوٹ پڑے ہیں اور جتنے کرب کو میں جھیل رہا ہوں، اگر ایک بڑی جماعت پر اس کا بٹوارہ کردیا جائے تو وہ بھی اس کو برداشت کرنے سے قاصر رہ جائے۔
——
وہ تو کہیے ہم نے رکھ لی آشیانے کے لئے
ورنہ اتنی آگ کافی تھی زمانے کے لئے
——
عاجزؔ کی شاعری میں ایک قسم کی جاذبیت و دلکشی ہے جو قاری کی توجہ اپنی جانب بآسانی مبذول کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے، وہ اسے پڑھتا ہے اور دیر تلک سر دھنتا ہے، اشعار دیکھئے۔
——
وہ بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غم دل
سمجھانے میں اک عمر گزر جائے ہے پیارے
——
سلگنا اور شئے ہے جل کے مرجانے سے کیا ہوگا
جو ہم سے ہورہا ہے کام پروانے سے کیا ہوگا
——
اور نہ جانے ایسے کتنے اشعار ہیں جو نہ صرف لوگوں کو مسحور کرتے ہیں بلکہ عاجزؔ کی شعری عظمت کا قائل کردیتے ہیں اور لوگوں کو اعتراف کرنا پڑتا ہے۔
——
فلک سے چاند چمن سے گلاب لے آئے
کہاں سے کوئی تمہارا جواب لے آئے
——
کلیم عاجزؔ نے اپنے اشعار کی شیرینی و حلاوت سے عوام و خواص دونوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور حد تو یہ ہے کہ کلیم الدین احمد جیسے قد آور اور جارح ناقد نے بھی عاجز کی شاعری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’’کلیم عاجز کے شعروں میں ایک مخصوص سادگی ہے، ان کے الفاظ جانے پہچانے ہیں، ان کی ترکیبیں ایسی سیدھی سادی ہوتی ہیں کہ مفہوم فوراً ذہن نشیں ہوجاتا ہے، یہ اس لئے نہیں کہ ان کے اشعار سطحی ہوتے ہیں، بلکہ یوں کہیے کہ ان کے الفاظ ایسے صاف شفاف ہیں کہ معانی کو ایک نگاہ غلط انداز بھی پالیتی ہے۔‘‘
نامور صحافی غلام سرور کلیم عاجزؔ کے بارے میں اپنا تاثر بیان کرتے ہیں :
’’بیسویں صدی کے نصف اواخر میں ان کا سا غزل گو کوئی پیدا نہیں ہوا۔‘‘
1972کے عظیم الشان مشاعرے میں جس کے مہمان خصوصی فراقؔ گورکھپوری تھے، کلیم صاحب نے اپنی غزل کا جب یہ شعر پڑھا کہ :
——
اب انسانوں کی بستی کا وہ عالم ہے کہ مت پوچھو
لگے ہے آگ اک گھر میں تو ہمسایہ ہوا دے ہے
——
اس شعر کے بعد کی صورت حال بیان کرتے ہوئے خود کلیم عاجز فرماتے ہیں ’’پورے مشاعرے میں صرف دوچیزیں نمایاں تھیں۔ غزل پڑھتا ہوا کلیم اور غزل کی داد دیتا ہوا غلام سرور۔ وہ مشاعرہ، میری غزل اور غلام سرور کی داد تینوں تاریخی ہوگئیں۔ ‘‘
فراق گورکھپوری کے اعتراف حقیقت کو دیکھئے ’’جب میں نے کلیم عاجز صاحب کا کلام سنا تو شاعر اور اس کے کلام پر مجھے ٹوٹ کر پیار آیا، اور ہم آہنگی، محبت اور ناقابل برداشت خوشی کے جذبات میرے اندر پیدا ہوگئے۔ ان کا کلام مجھے اتنا پسند آیا کہ مجھے تکلیف سی ہونے لگی اور کلیم عاجز صاحب پر غصہ آنے لگا کہ یہ کیوں اتنا اچھا کہتے ہیں۔ ان کے اس جرم اور قصور کے لئے میں انہیں کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ اتنی دھلی ہوئی زبان، یہ گھلاوٹ، لب و لہجے کا یہ جادو جو صرف انتہائی خلوص سے پیدا ہوسکتا ہے، اس سے پہلے مجھے کبھی اس موجودہ صدی میں دیکھنے یا سننے کو نہیں ملا تھا۔‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
——
یہ بات مسلم ہے کہ کلیم عاجز البیلے طرز و اسلوب اور منفرد لب و لہجے کے حامل ایک عظیم شاعر تھے اور اپنے انداز تغزل اور غزلیہ رنگ و آہنگ سے وہ لوگوں کے حواس پر چھا گئے، ان کی شعری عظمت کا زمانہ معترف ہوگیا۔
کلیم عاجزؔ کی تصنیفات جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی، ابھی سن لو مجھ سے، دیوانے دو، پہلو نہ دکھے گا، یہاں سے کعبہ کعبہ سے مدینہ،اک دیس اک بدیسی، میری زبان میراقلم، دفتر گم گشتہ اور دیگر کتابوں کا میں نے مطالعہ کیا تو محسوس ہوا کہ کلیم عاجزـؔ کا نثری سرمایہ کس قدر قیمتی، بیش بہا ہے اور اس کی حیثیت ادبی دنیا کے لئے باعث افتخار ہے۔ اسے جس انداز میں لوگوں کے سامنے آنا چاہیے تھا وہ نہیں آسکا۔ ان کی تحریریں ان کے صاحب طرز ادیب ہونے کا خوب خوب احساس دلاتی ہیں، بیان کی سادگی، برجستگی اور وضاحت ان کی نثر کا خاص وصف ہے، ان کے اسلوب میں دلکشی بھی ہے اور ماہرین اسلوبیات کے فنی اصولوں پر وہ پورا بھی اترتا ہے، ان کی تحریروں میں معیاری لب و لہجہ اور مستند زبان و بیان کی پاسداری ملتی ہے، کلیم عاجزؔ بسیار نویس ہیں اور ہر چیز کو خوب وضاحت کے ساتھ پھیلا پھیلا کر لکھتے ہیں، ایسا اس لئے کہ ان کے پاس تجربات و مشاہدات کا خزانہ ہے۔
میں نے کلیم صاحب کی مختلف نثری تحریروں کو پڑھ کر خوب لطف اندوزی کی ہے اور اس شعر میں ذراسی تبدیلی کے ساتھ یہ کہنا پڑا ہے کہ :
——
یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
جو یہ لکھیں گے کسی سے لکھا نہ جائے گا
——
میں اپنے لذت مطالعہ میں آپ کو بھی شریک کرنا چاہتا ہوں، آپ بھی اس شخص کی تحریر کا انداز ملاحظہ کیجیے جس کی تحریروں نے بحیثیت نثر نگار نہ صرف ان کی عظمت کا مجھے قائل کیا بلکہ اسیر کردیا ہے۔
تحریر کا اسلوب اور برجستگی ملاحظہ ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کی صورت حال کی بہترین منظر کشی کررہے ہیں کلیم عاجزؔ
’’انسانیت کا معیار بہت گر گیا ہے اور دن بدن گرتا جارہا ہے، اسے اٹھانے کی کوئی کوشش نہیں بلکہ خواہش بھی نہیں۔ اگر اٹھانے میں کسی کا روپیہ بھی خرچ ہوتا ہے تو وہ ہاتھ کھینچ لیتا ہے کیوں کہ انسانیت کے گرانے میں ہزاروں جیب میں مل رہے ہیں، کاہے کو کوئی اٹھائے، اس میں سب شامل ہیں۔ حاکم بھی، محکوم بھی، فقیر بھی، بادشاہ بھی، پرجا بھی، راجابھی۔اخبار اٹھاکر دیکھئے تو سوائے پبلسٹی اور شخصیتوں کے قصیدہ خوانی کے اور کچھ نہیں۔ نہ کوئی سچائی کو بولنے والا ہے اور نہ سچائی کی حمایت کرنے والا نہ سچائی کی طرف راہ دکھانے والا۔ ہر چیز پیسوں میں روپیوں میں تلنے لگی ہے۔ کوئی اور بٹکھرا کوئی ترازو رہا ہی نہیں۔ ہر روز کا سورج اپنے پچھلے روز کے سورج سے کالا ہوتا ہے۔ روشنی گھٹ ہی رہی ہے، دلوں میں گھپ اندھیرا ہے۔ ‘‘
ان کے سفرنامۂ حج ’’یہاں سے کعبہ کعبہ سے مدینہ‘‘کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں :
’’عرب فطرتا نرم مزاج، خوش خلق، صاف گو، صاف دل، بامروت، پابند عہد، نڈر اور خدا پرست ہیں۔ ہم اپنے ڈھائی تولے دین کے ساتھ جاتے ہیں اور عرب کے سوا سیر دین کو اس ڈھائی تولے کے بٹکھرے سے تولنا چاہتے ہیں، ہم لیلی پوٹین سے گولیور کو وزن کرنا چاہتے ہیں، یا سبزی تولنے والے ترازو پر سونا تولنا چاہتے ہیں، سونے کے لئے ترازو نہیں ایک اور چیز ہے جسے ہندی میں پریانی کہتے ہیں۔ ہیرے کو قیراط سے وزن کیا جاتا ہے، سیر بٹکھرے سے نہیں، آلو ٹماٹر بیچنے والی آنکھ ہیرے کو نہیں پہچان سکتی، اس کے لئے جوہری کی آنکھ چاہئے، ہندوستان بزرگوں کی جگہ ہے۔ عرب صحابہ کی سر زمین ہے اور سارے عالم کے بزرگ مل کر ایک صحابی کے برابر نہیں ہوسکتے۔‘‘
کلیم عاجزؔ کی مذہبی حیثیت بھی مسلم ہے اور جہاں کہیں وہ اس کی گنجائش پاتے ہیں ایک مبلغ اور داعی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے حکمت و موعظت کے ساتھ اسلامی شعار کی وضاحت بھی فرماتے چلتے ہیں، بطور مثال ان کا ایک خط ملاحظہ ہو، جس میں وہ ایک ایسے شخص کو جو ان کا ہم مذہب نہیں ہے، اعتکاف کی اہمیت وافادیت سے کس طرح واقف کراتے ہیں :
——
یہ بھی پڑھیں : کلیم عاجز کا یومِ وفات
——
’’کل آپ کا خط ملا، جب میں تین روز کے لئے مسجد میں اعتکاف کرنے کوآ رہا تھا۔ اعتکاف کہتے ہیں چند روز کے لئے دنیا سے بالکل الگ علاحدگی اختیار کرنے کو، ہر طرح کے تعلق اور مشغلے سے الگ ہوکر صرف دھیان، تپسیا اور عبادت میں لگنا۔ دل کو دنیا سے خالی کرنا بہت مشکل ہے اور ہمارے مذہب میں دینداری اس کو کہتے ہیں کہ دنیا میں پوری طرح رہ کر، جسم کو دنیا میں مشغول رکھ کر، دل کو دنیا سے خالی رکھا جائے یعنی دنیا کی محبت دل میں نہ آئے، ہمارے یہاں اصل بروگ اور اصل جوگ یہی ہے۔‘‘(دیوانے دو، صفحہ 66)
کلیم عاجزؔ کی بیشتر تصانیف میں ایک اور بات جو نمایاں ہے اور دوسرے مصنفین سے انہیں ممتاز کرتی ہے وہ اپنی کتابوں کے عنوانات کا حسین انتخاب ہے، کتابوں کے عناوین عموماً ان کے اشعار سے ماخوذ مکمل مصرعہ یا مصرعہ کا جزو ہوا کرتا ہے اور عنوان ہی قاری کی دلچسپی کا سامان بن جاتا ہے۔ جیسے:خود نوشت سوانح کا عنوان ان دو اشعار سے مستعار ہے۔
——
’’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی‘‘ جہاں نغمے ہی نغمے تھے
وہ گلشن اور وہ یاران غزل خواں یاد آتے ہیں
——
یہ بیان حال یہ گفتگو، ہے میرا نچوڑا ہوا لہو
’’ابھی سن لو مجھ سے‘‘ کہ پھر کبھو نہ سنوگے ایسی کہانیاں
——
سفر نامۂ حج کا عنوان اس شعر سے ماخو ذ ہے:
——
سفرہوتا بخم، پھرتا بمینا
یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ
——
اور بھی دیگر کتابوں کا یہی حال ہے۔
کلیم عاجز کی شاعری اور ان کی نثر میں تہذیب و تمدن بھی ہے، تاریخ و فلسفہ بھی ہے، درد و کرب بھی ہے، اقدار و روایات بھی ہیں، شعری اور نثری سرمایہ میں کہیں بھی سطحیت نہیں پائی جاتی، ان کی تحریروں کو پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ بلا شبہ کلیم عاجزؔ آسمان شعر و ادب پر نہ صرف یہ کہ روشن ستارہ ہیں بلکہ ان کی حیثیت بدر کامل اور ماہ تمام کی ہے۔
——
غزل میں کون نئی چاشنی چکھائے گا
اگر کلیم نہ ہوگا مزا نہ آئے گا
——
منتخب کلام
——
ایک دیوانہ بنا فصلِ بہاراں میں اگر
سینکڑوں بن گئے زنجیر بنانے والے
——
چھپا لیا ہے مشقت نے عیبِ عُریانی
ہے گرد جسم پہ اس طرح پیرہن جیسے
——
لہو دیں گے تو لیں گے پیار ، موتی ہم نہیں لیں گے
ہمیں پھولوں کے بدلے پھول دو ، شبنم نہیں لیں گے
——
وہ تو کہیے ہم نے رکھ لی آشیانے کے لیے
ورنہ اتنی آگ کافی تھی زمانے کے لیے
——
موسمِ گُل کی کچھ باتیں ہیں لیکن تم سے کون کہے
تم تو بس سنتے ہی عاجزؔ دیوانے ہو جاؤ ہو
——
پتھر کی طرح تیری ہر اک بات لگے ہے
دل توڑ کے ناصح تجھے کیا ہات لگے ہے
——
امید ایسی نہ تھی محفل کے اربابِ بصیرت سے
گناہِ شمع کو بھی جرمِ پروانہ بنا دیں گے
——
سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ
یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں
——
ہمارا ذکر کیا اب تو جناب شیخ صاحب بھی
اُسی کافر کی زلفِ پُر شکن کی بات کرتے ہیں
——
سلگنا اور شئے ہے جل کے مر جانے سے کیا ہو گا
جو ہم سے ہو رہا ہے کام پروانے سے کیا ہو گا
——
لے جا رہا ہوں درد میں ڈوبی ہوئی غزل
بے درد کے لیے کوئی سوغات چاہیے
——
ان کی زلفوں میں جتنی شکن چاہیے
ہم کو اتنا ہی دیوانا پن چاہیے
چاہیے ان کو رنگیں قبا اور ہمیں
چاک کرنے کو اک پیرہن چاہیے
یہ بھی ہے ایک سامانِ دل بستگی
کچھ تماشائے دار و رسن چاہیے
میرے جیسے مسافر بہت آئیں گے
ان کے جیسا حسیں راہزن چاہیے
قتل کرنے ہی کا اک سلیقہ سہی
کچھ تو مشہور ہونے کو فن چاہیے
آج کل سب کا بدلا ہوا بھیس ہے
شیخ ڈھونڈو اگر برہمن چاہیے
دل کا ایک ایک قطرہ لہو دے دیا
اور کیا، اے بہارِ چمن، چاہیے
ہم تو جلتے ہیں، تم بھی جلو دوستو
شمع کے واسطے انجمن چاہیے
اپنے ٹھنڈے دلوں کے لیے مانگ کر
ہم سے لے جاؤ جتنی جلن چاہیے
کج کلاہی فقط کام آتی نہیں
کچھ طبیعت میں بھی بانکپن چاہیے
کہنے والے پہ گذرے سو گذرا کرے
سننے والوں کو لطفِ سخن چاہیے
——
یہ بھی پڑھیں : اے کہ ترا وجود ہے لیلائے محمل حیات
——
میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
دن ایک ستم، ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو، دشمن کو بھی تم مات کرو ہو
ہم خاک نشیں، تم سخن آرائے سرِ بام
پاس آ کے ملو، دُور سے کیا بات کرو ہو
ہم کو جو ملا ہے وہ تمھیں سے تو ملا ہے
ہم اور بھُلا دیں تمھیں، کیا بات کرو ہو
یوں تو ہمیں منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے، بکے ہے
دیوانہ ہے، دیوانے سے کیا بات کرو ہو
——
رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے
اور اک چیز بڑی بیش بہا مانگی ہے
اور وہ چیز نہ دولت، نہ مکاں ہے، نہ محل
تاج مانگا ہے، نہ د ستار و قبا مانگی ہے
نہ تو قدموں کے تلے فرشِ گہر مانگا ہے
اور نہ سر پر کلہِ بالِ ہما مانگی ہے
نہ شریک سفر و زاد سفر مانگا ہے
نہ صدائے جرس و بانگِ درا مانگی ہے
نہ سکندر كی طرح فتح کا پرچم مانگا
اور نہ مانندِ خضر عمرِ بقا مانگی ہے
نہ کوئی عہدہ، نہ کرسی، نہ لقب مانگا ہے
نہ کسی خدمتِ قومی کی جزا مانگی ہے
نہ تو مہمانِ خصوصی کا شرف مانگا ہے
اور نہ محفل میں کہیں صدر کی جا مانگی ہے
مے کدہ مانگا، نہ ساقی، نہ گلستاں، نہ بہار
جام و ساغر نہ مئے ہوشرُبا مانگی ہے
نہ تو منظر کوئی شاداب و حسیں مانگا ہے
نہ صحت بخش کوئی آب و ہوا مانگی ہے
محفلِ عیش نہ سامانِ طرب مانگا ہے
چاندنی رات نہ گھنگور گھٹا مانگی ہے
بانسری مانگی، نہ طاؤس، نہ بربط، نہ رباب
نہ کوئی مطربۂ شیریں نوا مانگی ہے
چین کی نیند، نہ آرام کا پہلو مانگا
بختِ بیدار، نہ تقدیرِ رسا مانگی ہے
نہ تو اشکوں کی فراوانی سے مانگی ہے نجات
اور نہ اپنے مرَض دل کی شفا مانگی ہے
نہ غزل کے لئے آہنگ نیا مانگا ہے
نہ ترنم کی نئی طرزِ ادا مانگی ہے
سن کے حیران ہوئے جاتے ہیں اربابِ چمن
آخرش! کون سی پاگل نے دعا مانگی ہے
آ! ترے کان میں کہہ دوں اے نسیم سحری!
سب سے پیاری مجھے کیا چیز ہے؟ کیا مانگی ہے
وہ سراپائے ستم، جس کا میں دیوانہ ہوں
اس کی زلفوں کے لئے بوئے وفا مانگی ہے
——
یہ بھی پڑھیں : وہ ابر فیض نعیم بھی ہے نسیم رحمت شمیم بھی ہے
——
محبت بھی کۓ جاتے ہیں غم کھاۓ بھی جاتے ہیں
گنہہ کرتے بھی جاتے ہیں سزا پاۓ بھی جاتے ہیں
جفا کرتے بھی ہیں عذرِ جفا لاۓ بھی جاتے ہیں
لہو پیتے بھی جاتے ہیں قسم کھاۓ بھی جاتے ہیں
اِسی نے تم کو چمکایا ہمیں برباد کر ڈالا
وفا پر ناز بھی کرتے ہیں پچھتاۓ بھی جاتے ہیں
وہی ہر صبح امیدیں وہی سر شام مایوسی
کھلے بھی جا رہے ہیں پھول مرجھاۓ بھی جاتے ہین
مزا یہ ہے لۓ بھی جا رہے ہیں جانبِ مقتل
تسلی بھی دیۓ جاتے ہیں سمجھاۓ بھی جاتے ہیں
پڑے ہیں اس بتِ کافر کے سنگِ آستاں ہو کر
مگر پامال بھی ہوتے ہیں ٹھکراۓ بھی جاتے ہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ