اردوئے معلیٰ

ہے راہ نہ منزل کا نشاں نظروں میں

اک دھند کا پھیلا ہے جہاں نظروں میں

کس دشتِ بلا سے ہوں گذر کر آیا

ہے ریت کا دریا سا رواں نظروں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات