اردوئے معلیٰ

آنس معین کا یوم وفات

آج 29 نومبر معروف شاعر ” آنس معین ” کا یوم وفات ہے ۔

آنس معین(پیدائش: 29 نومبر 1960ء – وفات: 5 فروری 1986ء)
——
آنس معین کاسوانحی خاکہ, تحریر و ترتیب: طفیل ہوشیار پوری
——
نام: سَیّد آنؔس معین
ادبی نام :آنؔس معین
تخلص : آنؔس
مقام و تاریخ ِ ولادت: لاہور:29نومبر1960
محمد طفیل (مدیر نقوش) احمد ندیم قاسمی ( مدیر فنون ) اور جوش ملیح آبادی نے یکے بعد دیگرے آنس معین کے کان میں اذان دی۔
والد کا نام : سَیّد فخرالدین بَلّے
والدہ کانام : مہرافروز بَلّے
دادا کا نام : سَیّد غلام ِ معین الدین چشتی
مورث ِ اعلیٰ:خواجہ خواجگاں حضرت معین الدین چشتی سنجری اجمیری
بہن بھائی: بالترتیب:
1۔عذراکمال
۔2۔سیدانجم معین بلے
3۔سیدہ اسماء رضوان
۔4۔سیدعارف معین بلے
۔5۔سیدہ نازاظہر
6۔سیدہ آمنہ آصف
7۔سیدظفرمعین بلے۔
{اپنے بہن بھائیوں میں آنس معین کاپانچواں نمبر تھا}
میٹرک: [ فرسٹ ڈویژن]1973.
ایف۔اے: گورنمنٹ سول لائنز کالج، ملتان 1976.
بی ۔ اے: گورنمنٹ کالج اصغر مال روڈ ، راولپنڈی . 1978.
شاعری کاآغاز: 1977
آنس معین کا پہلا شعر
——
آخر کوروح توڑ ہی دے گی حصار ِ جسم
کب تک اسیر خوشبو رہے گی گلاب میں
——
ایم اے اردو:باقاٰعدہ تیاری کاآغاز 1977میں کیا۔ کئی کئی گھنٹےذاتی اور کالجزاور دیگراداروں کی لائبریریوں میں مصروف رہتے۔
ملازمت: آفیسر یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ
ترقی: اسٹاف آفیسر کے عہدے پر جلد ہی فائز کردئیےگئے
امتیاز: فارن ایکسچینج کی ٹریننگ میں پوزیشن حاصل کی
فارن پوسٹنگ : جولائی اگست 1986میں ہونا تھی۔
آخری غزل کا ایک شعر
——
یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور
دُکھ مجھ کو ہے اور نِیر بہائے گا کوئی اور
——
آخری خط : بنام ابو اور امی۔ بتاریخ:4فروری 1986
آخری شعر:
——
ڈوبا نہیں خورشید، اُفق پار گیا ہے
دیوار کوڈھانے پس ِ دیوار گیا ہے
——
مقام و تاریخ ِ وفات: ملتان ۔5 فروری 1986
آخری آرام گاہ:
قبرستان نور شاہ بخاری، بہاول پور
پسندیدہ کھیل:
شطرنج ۔ بِرٌج ۔ شطرنج کے بڑے بڑے ٹورنامنٹ کھیلےاور بڑے بڑےشاطروں کومات دی۔ بریج کھیل کر بڑے بڑے کھلاڑیوں سے داد و تحسین حاصل کی۔
غزلیں : آنس معین نے 400سے450 تک غزلیں کہیں
نظمیں؛ آنس معین نے 200سے250نظمیں تخلیق کیں
آنس معین کے کمالِ فن کے اعتراف میں مدیر اوراق لاہور ڈاکٹر وزیر آغا ، مدیرِ گہراب جعفر شیرازی ، مدیرِ انکشاف لاہور بیدار سرمدی ، مدیر آوازِ جرس لاہور ظفر معین اور راقم السطور مدیرِ محفل لاہور طفیل ہوشیار پوری نے اوراق ، گہراب ، انکشاف اور آوازِ جرس کی اشاعتِ خاص کا اہتمام کیا اور خصوصی گوشے شائع کیے
——
آنِس معین پر تحقیقی اور تصنیفی کام
——
پاکستان اور بھارت میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیائے ادب میں آنس معین پر تحقیقی اور تصنیفی کام بھرپور انداز میں جاری ہے
احمد ندیم قاسمی جہاں جوش ملیح آبادی فیض احمد فیض ڈاکٹر سید عبداللہ محمد طفیل (نقوش) ڈاکٹر آغا سہیل پروفیسر منظر ایوبی مشفق خواجہ بیدار سرمدی ڈاکٹرصفدر حسین صفدر پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری ڈاکٹر وزیر آغا ڈاکٹر انور سدید اور ڈاکٹر مقصود زاہدی جیسے اعلی پائے کے بے شمار ناقدین اور مشاہیر ادب نے بھرپور انداز میں آنِس معین کے کلام کہ جسی لازوال ادبی سرمایہ کہنا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کا بھور ناقدانہ فرمایا ہے۔ بھارت میں کنور مہندر سنگھ بیدی سحر ڈاکٹر قمر رئیس پروفیسر ڈاکٹر عنوان چشتی پروفیسر جگن ناتھ آزاد
اظہار احمد انصاری رام لعل , پروفیسر ڈاکٹر اسعد بدایونی , خمار بارہ بنکوی , مجروح سلطان پوری , پروفیسر ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی , علی سردار جعفری اور ڈاکٹر فوق کریمی جیسی متعدد شعرو ادب کی معتبر شخصیات نے بھی آنِس معین پر تحقیقی اور تصنیفی کام کو نہایت احسن انداز میں جاری رکھا ہوا ہے۔
——
حلقہ ء احباب
——
جوش ملیح آبادی ، مرتضیٰ برلاس،فیض احمد فیض ،ڈاکٹروزیرآغا، ڈاکٹروحید قریشی، احمد ندیم قاسمی ،جابرعلی سید، محمد طفیل (مدیر نقوش) , احمد ندیم قاسمی . ڈاکٹرخورشید رضوی ،ڈاکٹرمقصودزاہدی، ممتاز العیشی، ڈاکٹر ہلال جعفری، غلام جیلانی اصغر، اسلم انصاری، ارشد ملتانی، ممتازاطہر، پرویزبزمی، چوہدری عبدالرحمان، سید سلطان احمد، انجم اعظمی اور بہت سے دیگر نامور ادبا اور شعرا اس فہرست میں شامل ہیں
——
خد و خال
——
بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں ، سورج سا دمکتا ہوا اور روشن چہرہ، لانبی گردن ،ستواں ناک ، میر کے کےمصرعوں کی طرح نازک بلکہ باریک ہونٹ، بھورے مگر کسی قدر گھنگریالے بال، ہونٹوں پر ہمہ وقت مسکراہٹ، طبیعت میں نزاکت ،چال میں تمکنت، لہجے میں وقار ،مزاج میں نفاست ،باتوں میں ںشائستگی ،طور اطوار میں زندگی ،دبلا پتلا جسم ایسا لگتا ہے کہ آنس معین اپنی خوبصورت شخصیت کےتمام خدو خال کےساتھ میرے سامنے کھڑا ہے ۔ (مرتضی برلاس )
——
آنِس مُعین کا آخری خَط
——
زندگی سے زیادہ عزیز امّی اور پیارے ابّو جان!
خُدا آاپ کو ہمیشہ سلامت اور خُوش رَکھّے۔
میری اِس حرکت کی سوائے اِس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ مَیں زندگی کی یکسانیت سے اُکتا گیا ہوں۔ کتابِ زِیست کا جو صفحہ بھی اُلٹتا ہوں اُس پر وہی تحریر نظر آتی ہے جو پچھلے صفحے پر پڑھ چُکا ہوتا ہوں۔ اِسی لیے مَیں نے ڈھیر سارے اَوراق چھوڑ کر وہ تحریر پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے جو آخری صفحے پر لکھّی ہوئی ہے۔
مُجھے نہ تو گھر والوں سے کوئی شکایت ہے نہ دَفتر یا باہر والوں سے۔ بلکہ لوگوں نے تو مُجھ سے اِتنی محبّت کی ہے کہ مَیں اس کا مُستحق بھی نہیں تھا۔
لوگوں نے میرے ساتھ اگر کوئی زیادتی کی بھی ہے یا کِسی نے میرا کُچھ دینا بھی ہے تو مَیں وہ مُعاف کرتا ہوں۔ خُدا میری بھی زیادتیوں اور گُناہوں کو مُعاف فرمائے۔
——
یہ بھی پڑھیں : تُجھ سے دور آتے ہوئے جانا کہ یہ سب کیا ہے
——
اور آخِر مِیں ایک خاص بات وہ یہ کہ وقتِ آخِر میرے پاس راہِ خُدا مِیں دینے کو کُچھ نہیں ہے۔ سَو مَیں اپنی آنکھیں Eye Bank کو Donate کرتا ہوں۔ مِیرے بَعد یہ آنکھیں کِسی مُستحق شخص کے لگا دی جائیں تو مِیری رُوح کو حقیقی سکُون حاصِل ہو سکنے کی اُمّید ہے۔
مَرنے کے بَعد مُجھے آپ کی دُعاوں کی پہلے سے زیادہ ضرورت رہے گی۔ البتہ غیر ضروری رَسُومات پر پیسہ خَرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مَیں نے کُچھ رُوپے آمنہ کے پاس اِسی لیے رَکھوا دیے ہیں کہ اِس موقعہ پر کام آ سکیں۔
آپ کا نالائق بیٹا
آنِسؔ مُعین
۴ – ۲ – ۸۶
——
آنس معین کے بارے میں چند کالم : لنک مندرجہ ذل ہے۔
——
منتخب کلام
——
بدن کی اندھی گلی تو جائے امان ٹھہری
میں اپنے اندر کی روشنی سے ڈرا ہوا ہوں
——
تمہارے نام کے نیچے کھنچی ہوئی ہے لکیر
کتاب زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعد
——
میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا
پھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا
——
نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا
——
اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں
مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں
——
ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا
دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے
——
انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور
——
وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے
——
حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا
——
اِیک نَظم
دانشور کہلانے والو!
تُم کیا سمجھو؟
مُبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں؟
تھل کے رِیگستان مِیں رہنے والے لوگو!
تُم کیا جانو؟
ساون کیا ہے؟
اَپنے بَدَن کو
رَات مِیں اَندھی تاریکی سے
دِن مِیں خُود اَپنے ہاتھوں سے
ڈھانپنے والو
عُریاں لوگو!
تُم کیا جانو؟
چولی کیا ہے، دَامن کیا ہے؟
شہر بَدَر ہوجانے والو!
فُٹ پاتھوں پر سونے والو!
تُم کیا سمجھو
چھت کیا ہے، دیواریں کیا ہیں
آنگن کیا ہے؟
اِک لڑکی کا خزاں رسیدہ بازُو تھامے
نَبض کے اُوپر ہاتھ جمائے
اِیک صَدا پر کان لگائے
دھڑکن، سانسیں گننے والو!
تُم کیا جانو؟
مُبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں؟
دھڑکن کیا ہے، جیون کیا ہے؟
سَترہ نمبر کے بِستر پر
اَپنی قید کا لمحہ لمحہ گننے والی
یہ لڑکی جو
برسوں کی بیمار نظر آتی ہے تُم کو
سولہ سال کی اِک بیوہ ہے
ہنستے ہنستے رو پڑتی ہے
اَندر تک بھیگ چُکی ہے
جان چُکی ہے
ساون کیا ہے؟
اس سے پُوچھو
کانچ کا بَرتن کیا ہوتا ہے؟
کچّا بندھن کیا ہوتا ہے؟
چولی، دَامن کیا ہوتا ہے؟
اس سے پُوچھو
مُبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں؟
سُونا آنگن، تنہا جیون کیا ہوتا ہے؟
——
یہ بھی پڑھیں : امیرالشعراء منشی امیر احمد صاحب امیر مینائی کا یوم وفات
——
تو میرا ہے
تیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیں
تیری آنکھ کے آنسو میرے
تیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میری
تو میرا ہے
ہر وہ جھونکا
جس کے لمس کو
اپنے جسم پہ تو نے بھی محسوس کیا ہے
پہلے میرے ہاتھوں کو
چھو کر گزرا تھا
تیرے گھر کے دروازے پر
دستک دینے والا
ہر وہ لمحہ جس میں
تجھ کو اپنی تنہائی کا
شدت سے احساس ہوا تھا
پہلے میرے گھر آیا تھا
تو میرا ہے
تیرا ماضی بھی میرا تھا
آنے والی ہر ساعت بھی میری ہوگی
تیرے تپتے عارض کی دوپہر ہے میری
شام کی طرح گہرے گہرے یہ پلکوں سائے ہیں میرے
تیرے سیاہ بالوں کی شب سے دھوپ کی صورت
وہ صبحیں جو کل جاگیں گی
میری ہوں گی
تو میرا ہے
لیکن تیرے سپنوں میں بھی آتے ہوئے یہ ڈر لگتا ہے
مجھ سے کہیں تو پوچھ نہ بیٹھے
کیوں آئے ہو
میرا تم سے کیا ناطہ ہے
——
ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور
بڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اور
کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار
اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور
پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو گے
یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور
تردید تو کر سکتا تھا پھیلے گی مگر بات
اس طور بھی ہوگی تری رسوائی ذرا اور
کیوں ترک تعلق بھی کیا لوٹ بھی آیا؟
اچھا تھا کہ ہوتا جو وہ ہرجائی ذرا اور
ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میں
یہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور
لڑنا وہیں دشمن سے جہاں گھیر سکو تم
جیتو گے تبھی ہوگی جو پسپائی ذرا اور
بڑھ جائیں گے کچھ اور لہو بیچنے والے
ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور
اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور
——
وہ کُچھ گہری سوچ مِیں اِیسے ڈُوب گیا ہے
بیٹھے بیٹھے ندی کِنارے ڈُوب گیا ہے
آج کی رَات نہ جانے کِتنی لَمبی ہو گی
آج کا سُورَج شام سے پہلے ڈُوب گیا ہے
وہ جو پیاسا لگتا تھا، سیلاب زَدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ڈُوب گیا ہے
مِیرے اَپنے اَندر اِیک بھنور تھا جِس مِیں
مِیرا سب کُچھ ساتھ ہی میرے ڈُوب گیا ہے
شور تو یُوں اُٹھّا تھا جیسے اِک طُوفاں ہو
سنّاٹے مِیں جانے کیسے ڈُوب گیا ہے
آخری خواہِش پُوری کرکے جینا کیسا؟
آنِسؔ بھی ساحل تک آکے ڈُوب گیا ہے
——
اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں
مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں
پتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سے
اس شہر خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں
ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوا دیکھے
سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیا دیں تو کسے دیں
سب لوگ سوالی ہیں سبھی جسم برہنہ
اور پاس ہے بس ایک ردا دیں تو کسے دیں
جب ہاتھ ہی کٹ جائیں تو تھامے گا بھلا کون
یہ سوچ رہے ہیں کہ عصا دیں تو کسے دیں
بازار میں خوشبو کے خریدار کہاں ہیں
یہ پھول ہیں بے رنگ بتا دیں تو کسے دیں
چپ رہنے کی ہر شخص قسم کھائے ہوئے ہے
ہم زہر بھرا جام بھلا دیں تو کسے دیں
——
یہ بھی پڑھیں : شاعر سید ہاشم رضا کا یومِ پیدائش
——
یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور
دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اور
کیا پھر یوں ہی دی جائے گی اجرت پہ گواہی
کیا تیری سزا اب کے بھی پائے گا کوئی اور
انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور
تب ہوگی خبر کتنی ہے رفتار تغیر
جب شام ڈھلے لوٹ کے آئے گا کوئی اور
امید سحر بھی تو وراثت میں ہے شامل
شاید کہ دیا اب کے جلائے گا کوئی اور
کب بار تبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا
یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائے گا کوئی اور
اس بار ہوں دشمن کی رسائی سے بہت دور
اس بار مگر زخم لگائے گا کوئی اور
شامل پس پردہ بھی ہیں اس کھیل میں کچھ لوگ
بولے گا کوئی ہونٹ ہلائے گا کوئی اور
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ