اردوئے معلیٰ

امید فاضلی کا یوم پیدائش

آج نامور شاعر امید فاضلی کا یوم پیدائش ہے

امید فاضلی ( 17 نومبر 1923ء ۔ 29 ستمبر 2006ء ) کا شمار پاکستان کے نامور شاعروں اور مرثیہ نگاروں میں ہوتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور کیرئیر کا آغاز
ارشاد احمد فاضلی المعروف امید فاضلی 17 نومبر 1923 کو ڈبائی، بلندشہر ضلع، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام سید محمد فاروق حسن فاضلی تھا ۔ ڈبائی سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میرٹھ گئے جہاں سے میٹرک کیا ازاں بعد علی گڑھ محمڈن کالج اور یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پھر 1940 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔1944 ء میں وہ کنٹرولر آف ملٹری اکاونٹس کے محکمے سے وابستہ ہوئے۔ 1952ء میں پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل قیام کیا۔ ملٹری اکاؤنٹس کے ادارے میں ہی خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے۔ اس وقت کراچی کے ایک مجلہ سیپ کے مدیر نسیم درانی صاحب نے جب الفاظ کا اجرا کیا تو ریٹائرڈ شاعر و ادیب امید فاضلی کو اس کی ادارت سونپ دی ۔
سلسلہِ شعر و سخن
——
یہ بھی پڑھیں :  کوئی امید بر نہیں آتی
——
امید فاضلی نے شاعری کی ابتدا 15 برس کی عمر میں کی، پہلے شکیل بدایونی اور پھر نوح ناروی سے شرف تلمذ حاصل رہا۔ ابتدا میں وہ امید ڈبائیوی کے نام سے شاعری کرتے تھے بعد ازاں انہوں نے امید فاضلی کا قلمی نام اختیار کیا۔ امید فاضلی کی ابتدائی شہرت غزل سے ہوئی۔ تاہم بچپن سے مرثیہ خوانی کرنے کے باعث انہوں نے 1949ء سے مرثیہ گوئی کے میدان میں اپنا قلم رواں کیا اور ملک گیر شہرت پائی۔ امید فاضلی نے فنِ شاعری میں ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ غزل، نظم، سلام، نوحہ، حتی کہ گیت بھی لکھے۔ ان کے کئی اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔
امید فاضلی کی مرثیہ گوئی
بچپن سے مجالس اور مرثیہ خوانی کے باعث امید فاضلی کے ذہن میں اوزان و بحورزچ بس گئے تھے۔ نوح ناروی کی رہنمائی بھی ملی لہذا 1949ء میں 35 بند پر مشتمل پہلا مرثیہ یا رب بحقِ خونِ شہیدانِ کربلا کہا۔ اگرچہ 1949ء سے 1972ء تک وہ ایک غزل گو شاعر کی حیثیت سے ہی پہچانے گئے لیکن 1972ء میں جب انہوں نے دوسرا مرثیہ زبانِ عجز کھلی ہے تو مدعا مانگوں کہا، پھر اس کے بعد مرثیہ کہتے چلے گئے اور مرثیہ گوئی میں وہ مقام پایا کہ پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان پر ہر سال محرم میں ان کا مرثیہ تحت اللفظ پیش کیا جانے لگا۔ ان کے مرثیوں کے مجموعہ سر نینوا پر میر انیس ایوارڈ بھی دیا گیا۔ مشفق خواجہ اور پروفیسر کرار حسین نے ان کی غزلیہ شاعری کو سراہا۔
——
یہ بھی پڑھیں : عظیم مرثیہ گو شاعر مرزا سلامت علی دبیر کا یوم پیدائش
——
نمونہَ کلام
——
چمن میں رکھتے ہیں کانٹے بھی اک مقام اے دوست
فقط گلوں سے ہی گلشن کی آبرو تو نہیں
——
یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ
ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے
——
جانے کس موڑ پہ لے آئی ہمیں تیری طلب
سر پہ سورج بھی نہیں راہ میں سایا بھی نہیں
——
آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیں
وہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیں
——
مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلے
ہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے
——
یہ بھی پڑھیں : لکھنے بیٹھا ہوں میں نعتِ صاحبِ خلقِ عظیم
——
ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیں
یاد آنے کی طرح یاد وہ آیا بھی نہیں
جانے کس موڑ پہ لے آئی ہمیں تیری طلب
سر پہ سورج بھی نہیں راہ میں سایا بھی نہیں
وجہ رسوائی احساس ہوا ہے کیا کیا
ہائے وہ لفظ جو لب تک مرے آیا بھی نہیں
اے محبت یہ ستم کیا کہ جدا ہوں خود سے
کوئی ایسا مرے نزدیک تو آیا بھی نہیں
یا ہمیں زلف کے سائے ہی میں نیند آتی تھی
یا میسر کسی دیوار کا سایا بھی نہیں
بارہا دل تری قربت سے دھڑک اٹھا ہے
گو ابھی وقت محبت میں وہ آیا بھی نہیں
آپ اس شخص کو کیا کہیے کہ جس نے امیدؔ
غم دیا غم کو دل آزار بنایا بھی نہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ