غلام رسول مہر کا یومِ پیدائش

آج اردو کے نامور ادیب اور نقاد مولانا غلام رسول مہر کا یومِ پیدائش ہے۔

غلام رسول مہر
(پیدائش: 13 اپریل 1895ء – وفات: 16 نومبر 1971ء)
——
مولانا غلام رسول مہر 4؍ اپریل 1895ء کو پھول پور میں پیدا ہوئے۔ یہ جالندھر سے قریب ایک گاؤں ہے۔ ابتدائی تعلیم یہیں ہوئی۔ پھر جالندھر مشن ہائی اسکول سے دسویں درجے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد لاہور آگئے اور وہاں سے بی اے کی ڈگری لی۔ بعدہٗ وہ مولانا آزاد کے اخبار ’’الہلال‘‘ سے دلچسپی لینے لگے تھے۔ یہ رسالہ ان کے مطالعے میں مسلسل رہتا۔ اسی زمانے میں شعرگوئی کی طرف بھی مائل ہوئے۔ ایک وقت وہ بھی آیا کہ وہ مولانا بوالکلام آزاد سے بے حد متاثر ہوئے اور ان کی بنائی ہوئی تنظیم ’’حزب اللہ‘‘ کے رکن ہوگئے۔ اس کے بعد 1915ء میں حیدرآباد آگئے اور پائگاہ وقارالعمرا میں انسپکٹر تعلیمات ہوگئے۔ پھر انہوں نے ایک اخبار ’’سلطنت‘‘ جاری کیا۔ جب مولانا ظفر علی خاں نے اخبار ’’زمیندار‘‘ جاری کیا تو غلام رسول مہر بھی کسی نہ کسی نہج سے قریب ہوگئے۔ پھر وہ حیدرآباد سے واپس ہوئے تو خلافت تحریک کی سرگرمیوں میں شامل ہوگئے۔ مالک رام ان کے احوال و آثار پر نظر ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔
’’مہر نے یورپ مغربی ایشا کے بیشتر ممالک کا سفر کئے تھے اور وہاں کے کئی اکابر سے ان کے ذاتی تعلقات تھے۔ ان ملکوں کے اندرونی اور بیرونی معاملات پر ان کی گہری نظر تھی جو ایک روزانہ اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ان کے لئے بہت مفید ثابت ہوئی۔ 1947ء میں آزادی آئی، ملک تقسیم ہوگیا۔ ایک کی جگہ دو ملک وجود میں آئے۔ مہر و سالک نے دیکھا کہ تبدیل شدہ حالات صحافت کے لیے سازگار نہیں۔ اگر ہم چاہیں کہ اپنی آزادی رائے بھی قائم رکھیں اور حکومت بھی ہم سے خوش رہے تو یہ ناممکن ہے چونکہ آزادی ضمیر ان کے نزدیک خوشنودی حکومت سے عزیز تر تھی۔ انہوں نے ’’انقلاب‘‘ کی قربانی دینے کا فیصلہ کرلیا۔ چنانچہ 10؍ اکتوبر 1949ء کو ’’انقلاب‘‘ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔ ایک کامیاب، بااثر و رسوخ، نفع مند اخبار کو اصول کی خاطر بند کردینے کی ایسی اور مثال شاید ہی کہیں مل سکے! اس کے بعد مہر صاحب نے براہ راست سیاست سے بہت کم تعلق رکھا۔‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر عبد المجید سالک کا یوم وفات
——
لیکن اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ صحافت سے الگ ان کی ایک حیثیت ادیب کی بھی ہے۔ خصوصاً غالب اور اقبال کے حوالے سے ان کی ادبی حیثیت تسلیم کی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے غالب پر ایک کتاب 1936 ء میں شائع کی۔ جس کی انفرادیت سے کسی کو انکار نہیں۔ دراصل انہوں نے یہ کتاب اس طرح لکھی کہ اس میں غالب کی سوانح عمری بھی داخل ہوگئی۔ بعد میں غالب کی سوانح عمری پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن اس کتاب کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوئی۔ پھر موصوف نے دو جلدوں میں غالب کے خطوط مرتب کئے اور مفید حواشی لکھے۔ ان کی ایک کتاب حضرت سید احمد شہید بریلوی پر 1952ء میں شائع ہوئی جس کی تکمیل میں ان کے 18 سال صرف ہوئے۔ اس سلسلے کی ایک کتاب ’’سرگزشت مہاجرین‘‘ بھی شائع ہوئی جس میں حضرت شہید کے رفیقوں کے حالات ہیں۔ ’’انقلاب‘‘ کے نام سے ایک کتاب 1857ء کے ہنگامے کے سلسلے میں قلمبند کی۔ اقبال کے سلسلے میں ان کا کام بیحد معیاری ہے۔ مالک رام لکھتے ہیں کہ چونکہ غلام رسول مہر مدتوں اقبال کے ساتھ رہے تھے اس طرح ان کا وافر کلام ان کے پاس موجود تھا جسے موصوف شائع کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ’’بانگ درا‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘ کے محتویات پر گہری تجزیاتی نظر ڈالی ہے۔ ایک کتاب اقبال کی سوانح سے متعلق بھی ہے۔ مہر بچوں کے ادب سے بھی دلچسپی لیتے رہے تھے اور اس سلسلے میں چھوٹی بڑی تقریباً پچاس کتابیں قلمبند کیں۔ انہوں نے تاریخ اسلام کا بھی گہرا مطالعہ کیا اور اس سلسلے کی کتابوں کا ترجمہ کیا۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا غلام رسول مہر ایک اچھے صحافی، ماہر غالبیات اور فدائے اقبال تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے کئی اہم کام سرانجام دیئے۔ ان کا انتقال حرکت قلب بند ہوجانے سے 16؍نومبر 1971 ء کو لاہور میں ہوا اور وہیں مدفون ہیں۔
——
تصانیف
——
تاریخ سندھ (عہد کلہوڑا)
طبقات ناصری (ترتیب)
خطوط غالب (ترتیب)
سرودِ رفتہ
سید احمد شہید
سرگزشتِ مجاہدین
جماعتِ مجاہدین
اسلام- صراطِ مستقیم (ترجمہ)
اسلامی مملکت و حکومت – بنیادی اصول (ترجمہ)
اسلام اور قانونِ جنگ و صلح (ترجمہ)
جزیہ اور اسلام (ترجمہ)
فہرست ملفوضات گیلانی
تاریخ پاکستان و ہند
تاریخِ پاکستان
نوائے سروش (مکمل دیوان غالب مع شرح)
دیوان غالب عکسی
غالب
مطالب ِ ضرب کلیم (اقبالیات)
مطالب ِ بانگ درا (اقبالیات)
مطالب ِ اسرار و رموز (اقبالیات)
مطالب بال جبریل (اقبالیات)
——
یہ بھی پڑھیں : جنوں کے ساتھ ابھی تک ہیں سلسلے گویا
——
انسائیکلوپیڈیا تاریخِ عالم – تاریخِ اسلام جلد اول (ترجمہ)
انسائیکلوپیڈیا تاریخِ عالم – تاریخ عمومی جلد دوم (ترجمہ)
انسائیکلوپیڈیا تاریخِ عالم – تاریخِ عمومی جلد سوم (ترجمہ)
تاریخِ تہذیب (حصہ اول، دوم) (ترجمہ)
سکندرِ اعظم (ہیرالڈلیم) (ترجمہ)
تاریخِ لبنان (فلپ کے حتی) (ترجمہ)
تاریخِ شام (فلپ کے حتی) (ترجمہ)
قسطنطنیہ (ترجمہ)
کتابیں جنہوں نے دنیا بدل ڈالی (رابرٹ بی) (ترجمہ)
ہٹلر کا عروج و زوال (حصہ اول، دوم، سوم) (ترجمہ)
خود اعتمادی بڑھائیے (ترجمہ)
جنگِ عظیم (با تصویر) (ترجمہ)
تخلیق (ترجمہ)
طیاروں کی پہلی کِتاب (ترجمہ)
بہتر نگرانی،بہتر مدارس (ترجمہ)
فکرِ سلیم (ترجمہ)
اٹلی – سر زمین اور باشندے (ترجمہ)
بلجیئم – سر زمین اور باشندے (ترجمہ)
ترکی – سر زمین اور باشندے (ترجمہ)
جاپان – سر زمین اور باشندے(ترجمہ)
ذہن انسانی کا ارتقا (ترجمہ)
1857ء
نقشِ آزاد ( مئی 1914ء سے 1936ء تک مولانا ابولکلام آزاد کے لکھے گئے خطوط و نادر تحریریں)
تبرکاتِ آزاد (مولانا ابولکلام آزاد کے مکاتیب،مقالات و مضامین)
رسول رحمت (مولانا ابوالکلام آزاد) (ترتیب)
انبیائے کرام (مولانا ابوالکلام آزاد) (ترتیب)
——
یہ بھی پڑھیں : اُجالے کیوں نہ ہوں دیوار و در میں
——
منتخب کلام
——
بندِ اول

سرگزشت دلِ پر سوز سناؤں کیونکر
آگ کو معرض گویائی میں لاؤں کیونکر
المدد المدد اے چشم بہا دے دریا
کشتئ عشق کو خشکی پہ چلاؤں کیونکر
شبہ سے ہوں نہ مبدل گہراشک کہیں
سرمہ بن کرتری آنکھوں میں سماؤں کیونکر
اس چھپانے کا عیاں ہوناہے رازِ الفت
کوئی بتلا دے چھپانے کو چھپاؤں کیونکر
خوف محراب عقیدت سے کیا ترک سجود
دامن بیخودی پرداغ لگاؤں کیونکر
ٰؓبیخود شوق ہوں آتا ہے توہّم مجھ کو
کہ مرا جوش محبت نہ کرے گم مجھ کو
شکن موج یم اشک یتیماں ہوں میں

بندِ دوم

رگ بالیدگئ خواب پریشاں ہوں میں
گرد جولانی ہوئی مجھ کو حجابِ زنگار
صافی حیرتِ نظارۂ جاناں ہوں میں
دیکھ اوچشم ابھی ضبط کوکردے تاکید
اشک گرنے پہ نہ منت کشِ داماں ہوں میں
گرد میری ہے حجابِ حرمینِ امید
شو ر ناقوس صنم خانۂ حرماں ہوں میں
نہ گرابے خطر او دیدۂ تر خون جگر
آبروئے شفق شام غریباں ہوں میں
ضعف پیری نے کیا مجھ کو زبس مثل ہلال
موت کے خوان پہ گویا لب جاناں ہوں میں
کیوں نہ وقف قفس آرائی کروں شوق سے پھر
اپنے صیاد کا پرورؤہ احساں ہوں میں
ہر رگ وریشہ میں عصمت کا لہو جوشاں ہے
اے زلیخا ترے یوسف کا گریبا ں ہوں میں
شیخ جی گردِ تکدّر ہے نظر کا پردہ
کفر بھی ہوں توحجابِ رُخ ایماں ہوں میں
ہے سویدائے دلِ حورشبستاں میری
کس بتِ ناز کی زلفوں کا پریشاں ہوں میں
میں ہوں دریا ئے طلب، پاس مرا ساحل ہے
بلبلہ قالب مینائے شکست دل ہے
——
تری زیست سر بہ زانو ، مری زیست سر بہ خنجر
ترا کیش خانقاہی ، مرا ذوق پادشاہی
اسی شبنم و صبا سے یہ چمن ہرا بھرا ہے
کوئی گریۂ شبانہ ، کوئی آہِ صبح گاہی
ملی شیخ کو کہاں سے رہ و رسمِ فرقہ سازی
نہ یہ سنتِ الہیٰ ، نہ طریقِ خانقاہی
ہے خودی بجز خدا کے نہ جھکے کسی کے آگے
نہ نیازِ دگلہ پوشی ، نہ طرازِ کج کلاہی
——
عشق ہے شیرِ خدا ، عشق ہے سرِ علا
عشق ہے خیبر شکن ، عشق ہے اقصیٰ خرام
عقل ہے بے کیف و ذوق ، عشق ہمہ جذب و شوق
عقل ہے بے مقتدیٰ ، عشق جہاں کا امام
اس کا نتیجہ بقا ، اُس کا نتیجہ فنا
عشق کی مستی حلال ، عقل کی مستی حرام
عقل کو خود اس کے تیر کر گئے غلطاں بخوں
عشق ہے قدرت کی ضرب، جس کی نہیں روک تھام
عقل لئیم و رجیم ، عقل عذابِ الیم
عشق کریم الکرام ، عشق امام الانام
عقل ہے عرفاں سے دور ، منزلِ جاناں سے دور
عشق ہے یثرب خرام ، عشق ہے یثرب مقام
——
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ