اردوئے معلیٰ

آج پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور آرکیٹیکٹ، ماہر اسلامی تعمیرات، مؤرخ اور مصنف ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی کا یومِ پیدائش ہے ۔

عبد اللہ چغتائی(پیدائش: 23 نومبر 1896ء – وفات: 19 دسمبر 1984ء)
——
ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی (پیدائش: 23 نومبر، 1896ء – وفات: 19 دسمبر، 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور آرکیٹیکٹ، ماہر اسلامی تعمیرات، مؤرخ اور مصنف تھے۔
ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی 23 نومبر، 1896ء کو محلہ چابک سواراں، لاہور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔ وہ نامور مصور عبدالرحمٰن چغتائی کے بڑے بھائی تھے۔ انہون نے میو اسکول آف آرٹس لاہور، جامعہ پنجاب اور پیرس یونیوسٹی سے تعلیم حاصل کی اور تاج محل آگرہ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پیرس یونیوسٹی سے 1937ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی نے اسلامی فنون لطیفہ بالخصوص فن تعمیر کو اپنی تحقیق اور تحریر کا مرکز بنایا اور اس موضوع پر لاتعداد کتب یادگار چھوڑیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : عصمت چغتائی کا یومِ پیدائش
——
ان کی تصانیف میں تاریخ نقش و نگار، بادشاہی مسجد، مساجد عالم، مساجد لاہور، اماکن لاہور، مغربی آرٹ کی مختصر تاریخ، اسلامی مصوری، پنجاب میں مصوری کی ایک صدی، اسلامی خطاطی اور فنون لطیفہ کے نام سر فہرست ہیں۔
——
تصانیف
——
تاریخ نقش و نگار
بادشاہی مسجد
مساجد عالم
مساجد لاہور
اماکن لاہور
مغربی آرٹ کی مختصر تاریخ
اسلامی مصوری
پنجاب میں مصوری کی ایک صدی
اسلامی خطاطی اور فنون لطیفہ
ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی 19 دسمبر، 1984ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
تاج محل سے اقتباس
——
تاج کی تعمیر کے موقع پر شاہجہاں نے بذاتِ خود جہانگیر کے مقبرہ میں اپنا ایجاد کردہ پرچین کاری کے نمونے کو پیش نظر رکھ کر اور تمام تاج کی عمارت کے کمال معیار کی ہمہ گیری کو قائم کرنے کے لیے اس کے لیے لازمی ہو گیا تھا کہ ایسا کرے جو روضہ ممتاز کی محرابوں پر اندر و باہر اور اس کے تعویذ پر جو عین وسطِ گنبد میں ہے عیاں ہے ۔ اس پرچین کاری میں لاجورد ، سنگِ عجوبہ ، یاقوت ، نیلم ، ہیرا ، طلائی ، فیروزہ ، عقیق ، سیپ ، سماق ، سبز ، زرد وغیرہ وغیرہ قیمتی پتھر بھرے ہوئے ہیں ۔
اور سب سے بڑا کمال یہ کیا ہے کہ یہ بیل بوٹے اور گرہ بندی سب رسمی ہیں جن میں تناسب و جواب قائم ہے یعنی ان کی اشکال کو اصل قدرتی اشکالِ بیل بوٹوں سے کوئی سروکار نہیں ۔
تعجب کی بات ہے کہ 1076ھ میں یعنی انیس سال بعد تعمیر تاج جب شاہجہاں کا انتقال ہوا تو اورنگ زیب نے اسی تاج میں ہی ممتاز کے پہلو میں دفن کیا اور اس کے تعویذ پر ویسی ہی طرز کی پرچین کاری کروائی تاکہ ماحول میں فرق نہ آئے اور آج زائرین ممتاز اور شاہجہاں کے تعویذوں میں فرق نہیں کر سکتے یعنی دونوں ایک ہی ہاتھ اور ایک ہی زمانہ کے بنے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : رسا چغتائی کا یوم وفات
——
اس سے ظاہر ہے کہ اورنگ زیب کو کس قدر احترامِ فن تھا کہ کہیں ماحول میں کوئی فرق نہ آ جائے ۔
شاہجہاں کے مقبرہ کے متعلق عرض ہے کہ اس نے خود اپنی زندگی میں ارادہ کیا تھا کہ وہ اسے تاج کے مقابل جمنا کے دوسرے کنارے پر سیاہ مرمر کا تعمیر کر کے دونوں کو ایک پُل کے ذریعے ملا دے مگر حالات نے مساعدت نہ کی ۔
اگر یہ شاہکار بھی اس کے ہاتھوں انجام پا جاتا تو نہ معلوم یہ دونوں مل کیا عظمت و شان پیدا کرتے ۔
——
اقتباس از تاج محل ، مصنف : محمد عبد اللہ چغتائی
شائع شدہ : 1963 ، صفحہ نمبر 139
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات